تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے فرضی اپروول کا معاملہ اسمبلی میں گونجا، اساتذہ کو برطرف کر کارروائی کی جائے گی: وزیر تعلیم
ناگپور : 30 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)ضلع احمد نگر میں اساتذہ کی آسامیوں کی منظوری کے فرضی احکامات جاری کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں کارروائی جاری ہے اور یہ کارروائی 1 ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گی"۔اسطرح کا جواب اسکولی تعلیم کے وزیر دیپک کیسرکر نے قانون ساز اسمبلی میں دیا ۔
کیسرکر نے کہا کہ جن تعلیمی اداروں میں اس طرح کے فرضی احکامات جاری کیے گئے ہیں وہاں اساتذہ کی برطرفی کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ شیواجی تعلیم پراسارک منڈل، ہندسیوا منڈل، آگستی کالج، آکولہ ، پروارا تعلیم منڈل میں ٹیچر کوالیفکیشن ٹیسٹ پاس نہ کرنے والے 14 اساتذہ کی سماعت کے بعد، 9 اساتذہ کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی ذاتی منظوری نامناسب ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔
ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں روک لگا دی ہے۔ اس میں مہاراشٹر کے 675 پرائمری اساتذہ ہیں۔ ان میں سے 442 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ سیکنڈری اسکول کے 659 اساتذہ میں سے 259 اساتذہ کی سماعت کی جارہی ہے۔ اساتذہ کی اہلیت کے امتحان میں گھپلے کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسی چیزوں کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ اگر کچھ اداروں کو غلط اسامی کی منظوری دی گئی ہے تو تصدیق کے بعد اسی اسامی کی منظوری منسوخ کر دی جائے گی۔ ایسے اساتذہ ملیں گے تو ان کی کمی کی جائے گی۔ قائد حزب اختلاف اجیت پوار، اراکین میں دلیپ ولسے پاٹل، رویندر وائیکر، بالا صاحب پاٹل، راہول نے اس سوال پر بحث میں حصہ لیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com