حضرت مولانا خلیل احمد صاحب قریشی قاسمی ایک تعارف
مولانا محمد عادل اشاعتی
(خازن ادارہ پیغامِ جامعی)
مولانا انیس احمد ملی
(رکن ادارہ پیغامِ جامعی)
حضرت مولانا خلیل احمد قریشی قاسمی صاحب شہرِ عزیز شہیر و باصلاحیت عالمِ دین ہے موصوف گوناگوں اوصاف و محاسن سے مرقع و مزین ہے ، سادگی و خاکساری سے پُر، شریں گفتار کے حامل، نشاط و انبسط سے لبریز سر چشمہ اخلاق و مروت سے معمور شگفتہ مزاجی سے پُر، ذی فہم ذی استعداد مجسمہ انکسار جذبہ تشکّر سے لبریز ہے،
آپ کی پیدائش یکم مئی 1955ء میں ہوئی والدین علمِ دین کے قدردان تھے، اس لیے علمِ دین کے حصول کے لئے آپ کو مدرسہ بیت العلوم میں داخل کیا، جہاں پر آپ نے دینیات سے لیکر دورہ حدیث تک کی تمام کتب ماہر علم و فن کہنہ مشق حضرات اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تلمیذ طے کرتے ہوئے پڑھی اور عالمیت کی تکمیل کی، تحصیلِ فراغت کے بعد اپنے علم کو مزید تاباں و درخشاں کرنے علمی و روحانی انتساب اور عالی سند کے حصول کے لئے 1975میں منبع رشد و ہدایت ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے جہاں پر تین سال تک اپنے زمانے کے نابغہ روزگار ماہر علم و فن دیدہ ور و نکتہ رس حضراتِ اساتذہ کرام سے پڑھا اور 1978، میں سندِ فضیلت سے بہرہ ور ہوئے، تحصیلِ فراغت کے بعد مدرسہ انوار العلوم (ضلع جلگاوں) اور ضلع بیڑ کے ایک دیہات میں تدریسی خدمت انجام دینے کا موقع ملا، پھر 1980ء میں علامہ سلیمان شمسی رح کی ایماء پر اور دارالعلوم محمدیہ کے اراکین کی دعوت پر دارالعلوم محمدیہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے تقرر ہوا، ابتدائی درجات سے لیکر درجاتِ علیا کی کتب آپ کے زیر درس رہی، دس سال تک دارالعلوم محمدیہ کی مسجد میں امامت کی خدمت انجام دیتے رہے، اسی طرح تدریسی خدمات کے ساتھ مغرب کے بعد طلباء کی تعلیمی نگرانی کی خدمت بھی انجام دیتے رہے، محنت لگن توجہ، اور پوری تیاری سے درس دیتے تھے، اساتذہ کرام اور قدیم طلباء خود اس کے معترف ہیں ، 1989ء میں درِ شیعیت پر خوب کام کئے اور شیعوں کے رد میں ایک کتاب بنام امامت ائمہ بالمقابل خلافتِ راشدہ تالیف کی جس پر اہل علم حضرات نے آپ کی سراہنا کی ، اکتوبر 2010 میں دارالعلوم محمدیہ میں اکتیس سال خدمت انجام دینے کے بعد مستعفی ہوگئے، 2011ء سے مسجد عائشہ فیاض میں امامت و خطابت اور اصلاحی ذمداریوں کو اب تک محنت لگن سے ادا کر رہے ہیں، اسی طرح 2011ءسے 2013 کے اواخر تک مدرسہ عائشہ للبنات میں تین سال شیخ الحدیث کے عہدے جلیلہ پر فائز رہے، پھر 2013،کے اواخر میں مدرسہ گلشنِ عباس للبنات میں بطورِ شیخ الحدیث تقرر ہوا، ابھی فی الحال مدرسہ گلشنِ عباس میں شیخ الحدیث کے ساتھ ساتھ ناظمِ اعلیٰ کی اہم ترین ذمہ داری کو بحسنِ خوبی ادا کر رہے ہیں، اسی طرح آپ کو عربی زبان کے علاوہ فارسی فارسی زبان پر مہارت تامہ حاصل ہے علماء کرام اور عصری علوم سے وابستہ حضرات فارسی سیکھنے کے لیے مولانا کے پاس آتے تھے، پھر دینی خدمت کے جذبے کے تحت مولانا تشنگانِ علوم کے پاس پہنچ کر فارسی سکھاتے رہے ، اس کے علاوہ اصلاحِ عوام کے لئے دیگر کاوشات بھی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی ان ہی بے لوث خدمات کی بنیاد پر ادارہ پیغامِ جامعی کی جانب آپ کے اعزاز میں ایک عظیم الشان استقبالیہ تقریب 31 دسمبر 2022 بروز سنیچر بعد نماز عشاء فوراً مسجد آصفہ ابراہیم (مالدہ شیوار) میں منعقد ہوگی۔ منجانب ادارہ پیغامِ جامعی۔مالدہ شیوار مالیگاؤں
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com