22 ہزار 588 غریبوں کو اناج فراہم کرنے کلکٹر کا مکتوب، راشننگ مسائل 25 فیصد حل،این سی پی کی تحریک کامیاب، 26 دسمبر کا دھرنا ملتوی
کیسری کارڈ پر صدفیصد اناج فراہم کرنے منترالیہ سطح پر کیلئے کلکٹر و این سی پی کی جدوجہد جاری رہے گی، پریس کانفرنس سے مخاطبت
مالیگاؤں : 17 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) این سی نے کیسری کارڈ ہولڈرس کو اناج فراہم کیلئے چھیڑی تحریک کو کہیں نہ کہیں کامیابی حاصل ہورہی ہیں آوروں اس ضمن میں آج ایک نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کلکٹر نے مالیگاؤں شہر کے فوڈ سپلائی آفیسر کے نام ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے ہمیں بھی ایڈریس کیا ہے کہ مالیگاؤں شہر کے غریب افراد کے راشننگ مسائل کیلئے 22588 افراد جنکی آمدنی 59 ہزار روپے سالانہ سے کم ہے ۔ایسے تمام افراد کو راشٹروادی دیا جائے گا ۔اس طرح کی اطلاع آصف شیخ رشید نے این سی پی بھون پر منعقدہ پریس کانفرنس میں دی انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دوسرا مکتوب بھی ضلع کلکٹر نے ہمیں تحریری طور پر دیتے ہوئے کہا کہ ناسک ضلع کلکٹریٹ کیجانب سے منترالیہ کے جوائنٹ سیکرٹری برائے رسد و خوراک کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مالیگاؤں شہر کے مزید ہزاروں افراد جو کیسری کارڈ ہولڈرس ہیں کو اناج دئے جانے کی سفارش کی ہے ۔آصف شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے کلکٹر سے مطالبہ کیا کیا تھا کہ جس طرح مراٹھواڑہ کے لوگوں کو کیسری کارڈ پر اناج دیا جاتا ہے اسی طرح مالیگاؤں میں بھی پاورلوم مزدور ہزاروں کی تعداد میں آباد ہیں کو بھی سو فیصد اناج دیا جائے ۔اسی مطالبہ کو کلکٹر نے خود اپنی جانب سے حکومت کو مطالباتی مکتوب کل ہی روانہ کردیا ہے ۔اسطرح کے دونوں مکتوب آج کلکٹر نے آصف شیخ رشید کو دئے ہیں ۔اس پر آصف شیخ نے پریس کانفرنس لیتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر کے 22 ہزار 588 غریبوں کا 25 فیصد مسلہ حل ہوگیا اور مزید 75 فیصد حل کرنے کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی لیکن شیخ رشید و آصف شیخ نے این سی پی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ 26 دسمبر کا ناسک کلکٹر آفس کا گھیراؤ ملتوی کردیا گیا ہے کیونکہ مطالبات پر عمل ہورہا ہے اور 25 فیصد کام ہوگیا ہے مزید امید کی جارہی ہیں اگر پھر عوام کیساتھ ناانصافی کی گئی تو پھر انوکھا احتجاج کیا جائے گا ۔ویسے این سی پی نے آر پار کی لڑائی کا اعلان کیا تھا جو کچھ حد تک کامیابی ہوگیا ہے ۔اسطرح پریس کانفرنس میں شکیل جانی بیگ، اسلم انصاری ،نثار راشن والا، عبدالقیووم وغیرہ موجود تھے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com