دادا بھسے کو مالیگاؤں کیساتھ بھید بھاؤ مہنگا پڑے گا، کارپوریشن اور اسمبلی چناؤ میں جنتا راجا والی سینا کیلئے سیٹیں بچانا مشکل ، راشٹروادی کانگریس پارٹی ندی کے اس پار بھی طاقت سے چناؤ لڑے گی :شیخ رشید
مالیگاؤں شہر کی عوام کیساتھ 28 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی، مہاراشٹر سرکار سے 70 کروڑ کی منظوری کا واویلا، مفتی اسماعیل کے کاندھے پر دادا بھسے کی بندوق، کمشنر بدمعاش اور بدعنوان ہے
ٹینڈر 100 کروڑ روپے کا ، ٹھیکہ 112 کروڑ روپے میں اور مالیگاؤں سینٹرل کیلئے صرف 14 کروڑ، کارپوریشن پر 42 کروڑ روپے کا مالی بوجھ
نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو شکایتی مکتوب دیکر بدعنوانی کی جانچ CAG سے کروائی جائے گی
مالیگاؤں : 7 نومبر (پریس ریلیز)دادا بھسے کو مالیگاؤں سینٹرل کیساتھ بھید بھاؤ مہنگا پڑے گا، اسمبلی اجلاس سے کارپوریشن چناؤ میں ڈپلیکیٹ شیو سینا کو اپنی سیٹیں بچانا بھی مشکل ہوجائے گا اس لئے کہ دادا بھسے نے مالیگاؤں سینٹرل بالخصوص مسلم علاقوں کیساتھ بھید بھاؤ کیا ہے ۔انہوں نے دیانہ رمضان پورہ درے گاؤں علاقوں سمیت مالیگاؤں سینٹرل کیساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے ۔اسطرح کا اظہار آج سابق میئر این سی پی لیڈر شیخ رشید نے کیا ۔موصوف ہزار کھولی رابطہ آفس منعقدہ اردو مراٹھی پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔شیخ رشید نے دادا بھسے کے موجودہ کاموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ تعمیر و ترقی کیساتھ رہے ہیں ۔لیکن مالیگاؤں شہر میں صرف 14 کروڑ کے چار کام؟ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔شیخ رشید نے کہا کہ اس سے زیادہ کام تو ہم مالیگاؤں شہر میں سو فیصد گرانٹ سے کروارہے ہیں ۔شیخ رشید نے کہا کہ میئر طاہرہ شیخ کی سفارشات پر جنرل بورڈ نے تمام پارٹیوں کے لیڈران سے تجاویز طلب کر 200 کروڑ کے ڈی پی آر کو منظور کیا تھا اور مہاوکاس اگھاڑی سرکار نے 29 اپریل کو سو کروڑ روپے کے تعمیری کاموں کو منظوری دی تھی جس میں مالیگاؤں سینٹرل کے اہم راستے جس میں قدوائی روڈ، امام احمد رضا روڈ، مرزا غالب روڈ، سلاٹر ہاؤس روڈ ،ملت مدرسہ والی روڈ، آگرہ روڈ سے پاک پنجتن روڈ، کلثوم مسجد دیانہ روڈ، پہلوان ہوٹل والا روڈ، رضا چوک روڈ سمیت دیگر کاموں کو فہرست سے کاٹ کر ان میں سے صرف چار کاموں کو منظور کیا گیا ۔مفتی اسماعیل کے تعلق سے شیخ رشید نے کہا کہ وہ مذہبی آدمی ہیں ۔انکے بھولے پن کا فائدہ اٹھا کر دادا بھسے نے مفتی اسماعیل کے کاندھے پر بندوق رکھ کر سیاسی گولی چلائی ہے جس سے ہمارے شہر کا نقصان ہوا ہے ۔شیخ نے کہا کہ مالیگاؤں کارپوریشن کمشنر بدمعاش ہے ۔کمشنر اور دادا بھسے کی ملی جوڑ سے مالیگاؤں ترقی سے محروم رکھا جارہا ہے ۔شیخ رشید نے سلسلہ کلام دراز رکھتے ہوئے کہا کہ دادا بھسے نے ہمیشہ سوتیلا سلوک کیا ہے آج انہوں نے کچھ تھوڑا بہت کام کیا تو کوئی احسان نہیں کیا۔یہ فنڈ بھی ہماری سرکار کے منظور کردہ بجٹ کا حصہ ہے ۔جسے کاٹ چھانٹ کر دوبارہ ریلیز کیا گیا ہے دادا بھسے کی کوئی کلا کاریاں نہیں ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ دادا بھسے کے ووٹرس خود پریشان ہیں انہیں بنیادی سہولیات نہیں ہیں ۔ راستے ادھر بھی خراب ہیں صرف سنگ بنیاد کی سیاست سے کام نہیں چلتا ۔
مالیگاؤں کارپوریشن میں کورونا دور میں ہوئی بدعنوانیوں کی جانچ سی اے جی CAG کے معرفت کروائی جائے گی ۔ڈپٹی سی ایم دیویندر فرنویس سے مالیگاؤں کارپوریشن کی شکایات کی جائے گی ۔اور 42 کروڑ روپے کا خسارہ بھی مالیگاؤں کارپوریشن کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ان کروڑوں روپے کی بدعنوانی کی جانچ بھی CAG سے کی جائے گی ۔شیخ رشید نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ہمارے لیٹر پیڈ پر شکایت کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ کمشنر کی بدعنوانی کی انکوائری کلکٹر معرفت جاری ہیں جلد ہی اسکا خلاصہ ہوگا ۔کیونکہ کمشنر بدمعاش ہے اور بدعنوان ہے ۔بدعنوانی کے الزام میں کمشنر فرار ملزم تھا ۔دادا بھسے پر تنقید کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ یہ جنتا راجا والی سینا ہے۔بالا صاحب ٹھاکرے والی سینا تھوڑی ہے۔ہم پر ذات اور طبقہ واریت کا داغ نہیں لگا ہے اور نہ ہم ذاتی وادی بھید کرتے ہیں۔ لیکن کس پر یہ داغ لگا ہے یہ شہر جانتا ہے۔دادا بھسے کو آئندہ اسمبلی اور کارپوریشن چناؤ میں سبق سیکھایا جائے گا۔این سی پی پوری طاقت سے ندی کے اس پار بھی چناؤ لڑے گی اور عوام کو بتائے گی کہ وکاس کام کسے کہتے ہیں اور کام کیسے ہوتا ہے ۔
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر بھالچندر گوساوی اور کابینی وزیر دادا بھسے نے مل کر مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی حلقہ کی عوام کو دھوکہ دیا ہے ۔کروڑوں روپے کے بوجھ کی شکل میں مالیگاؤں سینٹرل کی عوام کو آج مزید نقصان دیکھنے کو ملا جب ریاستی وزیر دادا بھسے سنگ بنیاد کے نام نہاد کاموں کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق مالیگاؤں کارپوریشن کمشنر گوساوی نے سو کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کرتے ہوئے 112 کروڑ روپے کے ٹھیکہ کو منظوری دی ۔جسکا مطلب ہے کہ کمشنر، ٹھیکہ دار اور دادا بھسے کی اندرونی سانٹھ گانٹھ ہوئی ہیں جس سے مالیگاؤں کارپوریشن کو بلاوجہ 42 کروڑ روپے ادا کرنا پڑے گا جو یقیناً عوام کی آنکھ میں دھول جھونک کر اپنی روٹی سینکنے کے مترادف ہیں ۔کیونکہ سو کروڑ روپے کی منظوری ریاستی حکومت نے سو فیصد گرانٹ کے طور پر نہیں دی ہے بلکہ اس سو کروڑ روپے گرانٹ میں سے 30 کروڑ روپے مالیگاؤں کارپوریشن کو ادا کرنا ہوگا یعنی مہاراشٹر حکومت نے صرف 70 کروڑ روپے منظور کیا ہے اور کارپوریشن کمشنر نے ٹھیکہ دار سے سانٹھ گانٹھ کرتے ہوئے اضافی 12 کروڑ روپے کا ٹھیکہ جاری کیا جو کارپوریشن کیلئے مالی خسارہ کا سبب ہے۔اسطرح 42 کروڑ روپے مالیگاؤں کارپوریشن کو ادا کرنا پڑے گا ۔ایسی صورت میں مالیگاؤں شہر کی عوام کے ٹیکس کی لوٹ مار نظر آتی ہیں ۔ کابینی وزیر دادا بھسے کی کرسی کا فائدہ بھی مالیگاؤں کو نہیں مل سکا ہے ۔انکا اس عہدہ پر رہنے سے مالیگاؤں کو سو فیصد گرانٹ تک نہیں مل ہارہی ہیں جو کہ افسوس کا مقام ہیں ۔اس لئے کہ مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی حلقہ میں 50 کروڑ روپے کے کام نہیں آئے بلکہ صرف 14 کروڑ روپے کے تعمیری کاموں کو منظوری ملی ہیں اور مالیگاؤں کارپوریشن اس 14 کروڑ روپے کے کام کیلئے 42 کروڑ ادا کرنے والی ہیں ۔یعنی مالیگاؤں کی عوام کو 28 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی جارہی ہیں ۔اس پریس کانفرنس میں شکیل بیگ، ظفر احمد موجود تھے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com