اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہہ دیا "آئی لو یو" ، کلاس روم اور سڑک پر ٹیچرس کیساتھ چھیڑ چھاڑ ، ویڈیو وائرل ، مقدمہ درج



اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہہ دیا "آئی لو یو" ، کلاس روم اور سڑک پر ٹیچرس کیساتھ چھیڑ چھاڑ ، ویڈیو وائرل ، مقدمہ درج 



 میرٹھ: 27 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)اکثر اوقات سننے اور اخبارات میں خبر پڑھنے میں آتا ہے کہ تعلیمی نظام میں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے کبھی ٹیچر ٹیچر کی لو اسٹوری منظر عام پر اتی ہیں تو کبھی ٹیچر کی جانب سے بچوں کو حراساں کئے جانے کی خبر شائع ہوتی ہیں لیکن یہ خبر جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں طلباء کی جانب سے ٹیچر کو حراساں کیا جارہا ہے ۔تفصیلات کے میرٹھ میں اسکول کے طلباء نے ٹیچر سے کہا( I LOVE YOU) 'میں تم سے پیار کرتا ہوں'۔ نیز ٹیچر کو کلاس روم میں آتے اور جاتے وقت اور راستے میں چلتے وقت چھیڑا جاتا ہے۔ اور اب تو حد ہوگئی جب اس ٹیچر کا ویڈیو بنا کر وائرل کردیا گیا ہے ۔ویڈیو وائرل ہونے سے ناراض ٹیچر نے آخر کار پولس اسٹیشن میں تین طلباء کے خلاف چھیڑ چھاڑ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

ٹیچر نے الزام لگایا ہے کہ اس کے اسکول کی 12ویں جماعت کی طلباء اسے کئی دنوں سے ہراساں کر رہے ہیں۔ کبھی کلاس روم میں تو کبھی سڑک پر چلتے ہوئے اس سے بدتمیزی کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ میرٹھ کے کیتھور پولس اسٹیشن کی حدود میں عنایت پور گاؤں کا ہے۔

سی او کیتھور سچیتا سنگھ نے کہا کہ ٹیچر کی شکایت کی بنیاد پر تینوں ملزم طلباء کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور چھیڑ چھاڑ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ طلباء سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ملزم طلباء کی بہنوں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

12ویں جماعت کے طلباء پر چھیڑ چھاڑ کا الزام

 یہ الزام ڈاکٹر رام منوہر لوہیا میموریل انٹر کالج رادھانا کے اسکول ٹیچر نے لگایا ہے۔ اسکول کی 12ویں جماعت کے تین طالب علم پچھلے کچھ دنوں سے اسے ہراساں کر رہے تھے۔ کبھی وہ اسے کلاس روم میں چھیڑ رہے ہوتے ہیں اور کبھی سڑک پر۔ کبھی وہ کہتا ہے میں تم سے پیار کرتا ہوں اور کبھی وہ گالی گلوچ کا استعمال کرتا ہے۔

طلباء نے کلاس میں ٹیچر کی ویڈیو بنا لی

ٹیچر نے پولیس کو بتایا کہ طلباء کو کئی بار بدسلوکی کے لیے روکا گیا، وضاحت کی۔ تاہم ان تینوں طالب علموں نے چھیڑ چھاڑ کی ویڈیو بنالی اور یہ وائرل ہو گیا۔ یہ سارا معاملہ جمعرات کو سامنے آیا۔ ٹیچر نے الزام لگایا ہے کہ یہ ویڈیو بنانے میں ملزم طالب علم کی بہن بھی ملوث تھی۔


طلباء کے خلاف شکایت کی ۔ تینوں بارہویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ ٹیچر نے کہا کہ اس نے کئی بار طلباء کو سمجھایا کہ انہیں پریشان نہ کریں۔ لیکن طلبہ نے اسے قبول نہیں کیا۔ تاہم، طلباء نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی ہے۔ٹیچر نے پولیس کو بتایا کہ واقعہ کے بعد ٹیچر مکمل طور پر تناؤ کا شکار تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبہ کی اس حرکت سے سماجی اور گھریلو زندگی بھی درہم برہم ہے۔ ٹیچر نے تینوں طالبات اور ان کی بہن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے