بلدیاتی انتخابات کیلئے کارروائی شروع! ، وارڈ وائز ووٹر لسٹ تیار کرنے کی ہدایات
ریاستی الیکشن کمیشن کی میونسپل کمشنر و ضلع کلکٹر کیساتھ میٹنگ
ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کیلئے خصوصی مہم ، 8 دسمبر تک دعوے اور اعتراضات قبول کئے جائیں گے
ممبئی : 25 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)ابھی حال ہی میں ریاستی حکومت کے محکمہ شہری ترقیات نے میونسپل کارپوریشن کو مکتوب جاریہ کرتے ہوئے وارڈ رچنا نئے سرے سے کرنے کا فرمان جاری کیا تھا کہ اب ریاستی حکومت کے چیف الیکٹورل آفیسر اور پردھان سیکرٹری نے الیکشن کمشنر کے ہمراہ ویڈیو کانفرنسنگ کا انعقاد کرتے ہوئے مہار کے تمام ضلع کلکٹر اور کارپوریشن و میونسپلٹی کے آفیسران کورونا ہدایات دی ہیں کہ وہ الیکشن کی تیاری کریں ۔اس ضمن میں موصول تفصیلات کے مطابق ریاستی الیکشن کمشنر یو۔ پی۔ ایس۔ مدن اور چیف الیکٹورل آفیسر اور پرنسپل سکریٹری شریکانت دیشپانڈے نے الیکشن کمشنر کی صدارت میں ٹیلی ویژن سسٹم کے ذریعہ کلکٹر اور میونسپل کمشنر کی میٹنگ کا انعقاد کیا ۔اس موقع پر دیش پانڈے، ریاستی الیکشن کمیشن کے سکریٹری کرن کورندکر وغیرہ موجود تھے۔
ریاستی الیکشن کمشنر مدن نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا فی الحال اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹ کی خصوصی مختصر نظر ثانی کا پروگرام چلا رہا ہے۔ اس کے تحت 8 دسمبر 2022 تک دعوے اور اعتراضات قبول کیے جائیں گے۔ اس لیے اس مہم کو اس آٹھ دنوں کے عرصے میں نافذ کیا جائے۔ اگر کسی ووٹر کا مکمل پتہ غلط سیکشن ایڈریس میں شامل کیا گیا ہے تو اسے درست کیا جائے۔ جہاں بھی ممکن ہو، سائٹ پر معائنہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ضرورت کے مطابق الگ سیکشن ایڈریس بھی بنایا جائے۔
مسٹر دیش پانڈے نے کہا کہ اس مہم کے دوران ووٹر رجسٹریشن آفیسران کو ووٹر لسٹ کے ہر حصے کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ خاص طور پر نئی عمارتوں کو لیکر بہت زیادہ تفاوت ہے۔ اس سے بچنے کے لیے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی مدد لے کر نئے سیکشن کا پتہ جمع کرنے کے بعد ووٹر رجسٹریشن آفیسر لسٹ والے علاقے میں ایڈریس کے مطابق ایک سیکشن بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس جگہ پر رہنے والے ووٹرز کے نام درج ہوں۔
کروندکر نے کہا کہ شہری علاقوں سے سیکشن ایڈریس کے حوالے سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ میونسپل کمشنر کو خود اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ کچھ میونسپل علاقوں میں بھی ایسی شکایات ہیں۔ وہاں بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو اور ووٹرس کو حق رائے دہی کا جائز حق حاصل ہوسکے اور ڈپلیکیٹ ووٹرس کو فہرست سے خارج کیا جاسکے ۔
اس سلسلے میں یہ کہا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت باقاعدہ الیکشن کا بگل بج سکتا ہے ۔اس لئے کہ اب ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن بھی سرگرم ہوگیا ہے اور الیکشن کے پروسیجر پر رفتہ رفتہ عمل آوری شروع کردی گئی ہیں اور ویسے بھی وارڈ رچنا کے بعد دوسرا مرحلہ ووٹر لسٹ کو تقسیم کرنا ہوتا ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کے مطابق اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کیلئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com