پولس کی ناکامی یا کابینی وزیر دادا بھسے کی ہیرو گیری ، بندوق کی نوک پر دن دھاڑے ڈکیتی کرنے آیا لٹیرا دادا بھسے کے شکنجہ میں قید
مالیگاؤں : 24 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)آج اسوقت پولس کی ناکامی اور دادا بھسے کی ہیرو گیری منظر عام پر آئی جب ناسک ضلع کے رابطہ وزیر دادا بھوسے نے ایک لٹیرے کو پکڑا، جو دوپہر میں ایک بنگلہ میں لوٹ مار کی نیت سے آیا تھا۔ مالیگاؤں کلکٹر پٹہ علاقہ ایک کالونی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس علاقے کے زیادہ تر شہری تاجر ہیں۔ دوپہر کے وقت کچھ افراد نے خواتین کو لوٹنے کی نیت سے آنے والے لٹیرے کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تاہم ڈاکو نے بھاگنے سے انکار کر دیا اور خواتین کو بندوق کے زور پر دھمکیاں دیتے ہوئے ان کے زیورات اور رقم حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگا۔ اتفاق سے اسی مقام سے گزر رہے ناسک کے رابطہ وزیر کو اس بات کا علم ہوا تو وہ فوراً بنگلے میں داخل ہوئے اور لٹیرے کو پکڑ کر پولس کے حوالے کر دیا۔ وزیر دادا بھوسے پہلے بھی کئی بار جوئے کے اڈوں پر چھاپے مار کر پولیس کی کارکردگی پر ناراضگی ظاہر کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ابھی بھی ناسک کے اگت پوری، سنر میں ڈکیتی کی وارداتیں تازہ ہیں، وہیں مالیگاؤں میں یہ چونکا دینے والا واقعہ موضوع بحث بن رہا ہے۔ ادھر پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے کیونکہ ضلع کے رابطہ وزیر نے خود لٹیرے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
مالیگاؤں شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو پولس کی کارکردگی کی ناکامی اور وزیر بھوسے کے ہاتھوں پکڑے گئے لٹیرے پر کافی بحث ہورہی ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ اگر کوئی سیاسی لیڈر لٹیرے کو ڈھونڈ سکتا ہے تو اسے خود جا کر شراب کے اڈوں کو تباہ کرنے کی کارروائی کرنی ہوگی، پھر پولیس کیا کررہی ہے؟ ایسا سوال بھی عوام اٹھا رہی ہیں۔
مالیگاؤں کے اسی علاقے میں گزشتہ ہفتے ایک فور وہیلر کی چوری ہوئی تھی، سونے کی چین کی چوری، دو پہیوں کی چوری کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملزم گیرج لائن میں واقع ایک گیرج میں ملازم تھا اور اسکا مالک کے مکان پر آنا جانا لگے رہتا تھا ۔موقع کی تلاش دیکھ کر ملزم نے مذکورہ واردات انجام دی جو دادا بھوسے نے ناکام بنادی ۔
سیاسی حلقوں میں ایسی بحث شروع ہو گئی ہے کہ اگر ایسا معاملہ ہے تو رابطہ وزیر خود پولیس کو کارروائی کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کارروائی کرنے کی جرات کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں؟ کیا دادا بھوسے ایک رابطہ وزیر ہوکر پولیس کو ہدایت نہیں دے سکتے؟یا یہ کہا جائے کہ وہ پولس کی کارکردگی سے ناراض ہیں یا پھر ایک اسٹنٹ؟ ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com