بس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کی امداد ، زخمیوں کے تمام طبی اخراجات حکومت برداشت کرے گی
ہلاک شدگان کی تعداد 12 ہوئی، 41 زخمیوں کا علاج جاری ایک کی حالت تشویشناک ، پریشان نہ ہوں، گھبرائیں نہ ، سب ٹھیک ہو جائے گا
وزیر اعلیٰ شندے کا ناسک دورہ، بس حادثہ متاثرین کو ہمت اور حوصلے کا پیغام، حادثہ کی تحقیقات کی جائے گی
ناسک: 8 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) چیف منسٹر ایکناتھ شندے نے آج ناسک میں پرائیویٹ بس حادثہ میں زخمی ہونے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو تسلی بخش الفاظ میں یقین دلایا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ ناسک اورنگ آباد روڈ پر آج صبح کی اولین ساعتوں میں ایک پرائیویٹ مسافر بس میں آگ لگ گئی اور 12 مسافروں کی المناک موت ہو گئی جبکہ کچھ مسافروں کو معمولی تو کچھ کو شدید چوٹیں آئیں۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے فوری طور پر تمام زخمیوں اور ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کی جنہیں آج سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
اس موقع پر ضلع کے رابطہ وزیر دادا جی بھوسے، طبی تعلیم اور دیہی ترقی کے وزیر گریش مہاجن، ایم پی ہیمنت گوڈسے، ایم ایل اے دیویانی فراندے، سوہاس کاندے، مفتی محمد اسماعیل ، انسپکٹر جنرل آف پولیس ناسک ایریا بی جی شیکھر پاٹل، کلکٹر گنگاتھرن ڈی، ناسک کارپوریشن کے کمشنر ڈاکٹر چندرکانت پلکنڈوار، ناسک سٹی پولس کمشنر جینت نائیکنوارے، ضلع پریشد کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر آشیما متل، ضلع سرجن ڈاکٹر اشوک تھورات ، ڈپٹی کلکٹر وسنتی مالی، تحصیلدار رچنا پوار، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اننت پوار، ڈاکٹر اویش پالوڈ اور دیگر اعلیٰ افسران اور ملازمین موجود تھے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج صبح ہونے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ایسے میں حکومت حادثے کے متاثرین اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردیاں کا اظہار کیا۔ ضلع اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں داخل مریضوں کے لیے تمام طبی خدمات فوری طور پر دستیاب کر دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس حادثے میں مرنے والے مسافروں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے اور زخمیوں کے تمام طبی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ قبل ازیں چیف منسٹر شری شندے نے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔
ڈسٹرکٹ سرجن ڈاکٹر اشوک تھورات کی رہنمائی میں آرتھوپیڈک اسپیشلسٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر گوپال شندے سمیت چار آسٹیو پیتھ ڈاکٹروں کی ٹیم، ڈاکٹر بھامرے کی نگرانی میں 3 سرجنوں کی ٹیم، اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر سچن پوار کے زیر کنٹرول 2 اینستھیٹسٹ، 2 فرانزک اسپیشلسٹ، 4 ایکسیڈنٹ میڈیکل آفیسرز اپنی خدمات دینگے ۔ان میں کل 19 میڈیکل ٹیم بشمول تمام ایمرجنسی روم آفیسرز، وارڈ میٹرن اور درجہ چہارم کے تمام عملہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تمام مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔ اسکے علاوہ ایک مریض جس کی حالت نازک ہے اسے مزید علاج کے لیے 108 ایمبولینس میں ڈاکٹر وسنت راؤ پوار میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
اس بس میں 53 مسافر سوار تھے جبکہ اس بس میں صرف 30 مسافروں کی ہی گنجائش تھی ۔اس حادثے میں 12 کی موت ہوگئی، چار بحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں اور دو مریض ویژن اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پانچ مریض پنچوٹی کے سلور اسپتال میں، ایک سوویدھا اسپتال میں اور 31 زخمی مسافر ضلع اسپتال میں زیر علاج ہیں۔وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ اس حادثے کی تحقیقات کی جائے گی ۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com