خاتون ایجوکیشن کیمپس سے بانو مریم مسجد تک آصف شیخ کے ہاتھوں سیمنٹ کانکریٹ روڈ کی تعمیر ،کالج کے اساتذہ و اہالیان محلہ نے استقبال کیا
مالیگاؤں (پریس ریلیز) شیخ رشید کی سرپرستی میں مالیگاؤں شہر میں تعمیری کام جاری ہیں گذشتہ دنوں مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید کے ہاتھوں لاک ڈاؤن ہوٹل سے سلامت آباد چوک تک سیمنٹ کانکریٹ روڈ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور بدھ کو عمران بھائی کے ہاتھوں خاتون ڈی ایڈ کالج کے سامنے کی روڈ کا افتتاح عمل میں آیا لیکن آج بروز جمعرات کو خاتون ڈی ایڈ کالج کے اساتذہ و اہلیان محلہ نے آصف شیخ رشید کو مدعو کیا۔آج صبح ساڑھے 11 بجے آصف شیخ رشید خاتون ڈی ایڈ کالج پہنچے جہاں سیمنٹ کانکریٹ روڈ کی تعمیر جاری ہے وہاں اہلیان محلہ و اسکول انتظامیہ نے ایک مختصر پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام میں آصف شیخ رشید کا استقبال کیا گیا انہیں گلہائے محبت پیش کیا گیا اور بہت زیادہ خستہ حال ہوچکی سڑک کی تعمیر کروانے پر آصف شیخ رشید کا شکریہ ادا کیا گیا چونکہ اس روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے سب سے زیادہ اسکول کے بچوں کو ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے لئے صغیر ممبر نے شیخ رشید و آصف شیخ رشید کو اس روڈ کی تعمیر کے لئے یاد دہانی بھی کروائی اور الحمد للہ عمدہ کوالٹی کیساتھ اس روڈ کی تعمیر جاری ہے۔
یاد رہے آصف شیخ رشید نے حکومت مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی سرکار سے 10 کروڑ روپئے فنڈ منظور کروایا جس کے ذریعے شہر میں سڑکوں کی تعمیر کی جارہی ہے اس روڈ کے تعمیر کے بعد اہلیانِ محلہ نے گذارش کی ہیکہ اس علاقے میں اور بھی سڑکوں کی تعمیر کی جائے، آصف شیخ نے اس بات کا یقین دلایا کہ آنے والے دنوں میں اگر راشٹروادی کانگریس پارٹی کو اکثریت دی جاتی ہے اور کارپوریشن میں راشٹروادی کا میئر بیٹھتا ہے تو حکومت کے فنڈ اور کارپوریشن کے فنڈ سے شہر کا نقشہ تبدیل کردیا جائے گا ۔اس موقع پر صغیر ممبر، کلیم چائے پتی والا، رئیس بھائی ساگر،یوسف بھائی حبیب خالو، حمید بھائی، اجو ماموں ،شبیر بھائی ،صمد بھائی، عزیز سر، چیئرمین رضوان عبدالمطلب، گلاب سر ہیڈ ماسٹر، صمد سر، بابو بھائی دکان والے، اجو بھائی ٹریکٹر والے عزیز بھائی، عبدالاحد بھائی، ہارون بھائی، جاوید بھائی، نعیم احمد، محمد آمین، سلطان احمد، جنید بھائی، شوکت احمد، اکبر خالو،ایوب بھائی، شمشو بھائی، محمد ذاکر، شیرو بھائی، مُنّا وائرمین، مقصود بھائی، حافظ اشفاق صاحب، مدر عائشہ اسکول کے تمام اساتذہ کرام، بانو مریم مسجد کے ذمہ داران اور محلے کے سرکردہ افراد شامل تھے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com