پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ، 116 اضلاع سیلاب سے متاثر ، 30 لاکھ بچوں کو بیماری کا خطرہ ، 1400 افراد ہلاک


پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ، 116 اضلاع سیلاب سے متاثر ، 30 لاکھ بچوں کو بیماری کا خطرہ ، 1400 افراد ہلاک 


 کروڑوں عوام کی زندگی درہم برہم ، پیٹرول ڈیزل کے بعد سبزیوں کے دام آسمان چھونے لگے، ٹماٹر 500 تو پیاز 450 روپے کلو ، امداد کی اپیل کی 



اسلام آباد : 9 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) پاکستان میں شدید بارشوں سے آنے والے جان لیوا سیلاب میں ملک کے 116 اضلاع زیر آب آگئے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی اسکولی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔ سندھ کے وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں 20 لاکھ سے زائد بچوں کے ڈراپ آؤٹ کا خدشہ ہے ۔


30 لاکھ بچوں کو بھوک اور بیماری کا خطرہ، تعلیمی نقصان 
پاکستان حالیہ تاریخ کے سب سے بدترین سیلابوں سے جوجھ رہا ہے۔ اب تک 14 سو سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں اور ملک کی 3.5 کروڑ آبادی اس سے متاثر ہے۔ 116 اضلاع سیلاب میں ڈوب گئے ہیں۔ ان میں سے 66 اضلاع کی حالت انتہائی خراب ہے۔ سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے 30 لاکھ سے زائد بچے بیماری اور بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یونیسیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں 30 ملین سے زائد بچوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور غذائی قلت کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔اس لیے انہیں فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ این ڈی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں اس سال جولائی کے وسط سے موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھیں جس کے باعث شدید سیلاب آیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے 116 اضلاع کے 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔


امداد کی اپیل 

صدی کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنے والے پاکستان کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آگے آگئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق پاکستان پہنچنے والے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس نے پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت سے مدد کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ملک میں سیلاب کا ذمہ دار موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مانسون کی ریکارڈ بارشوں اور شمالی پہاڑوں میں گلیشیئر پگھلنے سے شدید سیلاب آیا ہے، جس سے گھر، سڑکیں، ریلوے ٹریک، پل، مویشی اور فصلیں بہہ گئیں اور 1391 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ اس دوران ملک کے بڑے حصوں میں پانی جمع ہونے سے لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے 3 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگیاں درہم برہم ہوگئی ہیں۔

یونیسیف نے کہا ہے کہ ہم سیلاب سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتے پاکستان نے سیلاب کے باعث ریاستی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کے ممالک اور عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کی تھی۔


مہنگائی آسمان پر 

سری لنکا کے بعد ایک اور پڑوسی ملک پاکستان کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے۔ پہلے سے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور اب مہنگائی کی آگ سبزیوں جیسی اشیائے ضروریہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

لائیو منٹ کے مطابق لاہور، اسلام آباد سمیت کئی بڑے شہروں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت پاکستان ہندستان سے پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور سپلائی کھپت کے مقابلے کم ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوردہ بازار میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ٹماٹر کے دام 500 روپیہ کلو اور پیاز کے دام 450 روپے کلو تک پہنچ گئے ہیں جس سے عوامی زندگی زبردست متاثر ہوئی ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے