آٹھویں جماعت کی درسی کتب میں ساورکر کا 'حیرت انگیز' تذکرہ ، "انڈمان جیل سے بلبل پر بیٹھ کر مادر وطن کی زیارت کرنے آتے تھے ہندوستان" ۔


آٹھویں جماعت کی درسی کتب  میں ساورکر کا 'حیرت انگیز' تذکرہ ، "انڈمان جیل سے بلبل پر بیٹھ کر مادر وطن کی زیارت کرنے آتے تھے ہندوستان" 


طلباء کو اساتذہ جواب دینے سے قاصر ، کرناٹک بورڈ کو کئی شکایتیں موصول ، وزیر تعلیم کا بیان بھی عجیب 

 


نئی دہلی : 28 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ)  بی جے پی حکومت کی طرف سے ہندوتوا کے نظریہ ساز ونائک دامودر ساورکر کو ہیرو بنانے کی کوششوں کی خبروں کے درمیان کرناٹک سے ایک اور دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ روہت چکرتھیرتھ کی سربراہی والی نظرثانی کمیٹی کے ذریعے آٹھویں جماعت کی نصابی کتب میں ان پرایک سبق شامل کیا گیا ہے، جس میں ان کا ’چمتکاری‘ تذکرہ کیا گیا ہے۔

 انگریزی اخبار’دی ہندو‘ میں شائع شدہ خبر کے مطابق کنڑ-2، کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب میں "بلڈ گروپ” کے بجائے کے ٹی گٹی کا سبق "کالوانو گیداورو” شامل کیا گیا ہے۔ یہ سبق ایک سفر نامے پر مشتمل ہے۔ جس میں مصنف انڈمان سیلولر جیل کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ جہاں ساورکر کو انگریزوں نے قید کیا تھا۔


اعتراض یہ کیا جارہا ہے کہ سبق کے ایک حصے میں ساورکر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔اول تو کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا لیکن جمعہ کو سوشل میڈیا پر سبق کے اس حصے کے وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد کرناٹک ٹیکسٹ بک سوسائٹی (KTBS) کو بہت سی زبانی شکایات موصول ہوئی ہیں۔


اس کتب میں مصنف انڈمان سیلولر جیل  ایک پیراگراف میں لکھتے ہیں کہ "جس کوٹھڑی میں ساورکر کو قید کیا گیا تھا وہاں کوئی بڑا سوراخ بھی نہیں تھا، لیکن ایک بلبل کمرے میں آتی تھی، جس کے پروں پر بیٹھ کر ساورکر باہر نکلتے اور ہر روز مادر وطن کی زیارت کرتے تھے" ۔ کئی اساتذہ نے اس پیراگراف پر اعتراض کیا ہے۔ 


اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر مصنف نے ساورکر کی استعاراتی طور پر تعریف کی ہوتی تو کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی لیکن یہ سطریں ایسے لکھی گئی ہیں گویا یہ امر واقعہ ہو۔ طلبا کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے۔ اگر طلبا اس بارے میں سوال پوچھتے ہیں اور ثبوت مانگتے ہیں تو ہم طلباء کو کیسے ثبوت فراہم کریں گے؟


مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے پر جب ریاست کے وزیر برائے اسکولی تعلیم و خواندگی بی سی ناگیش سے سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہ تھا کہ "ساورکر ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔ انھیں کتنا بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے ان کی قربانی کے مقابلے میں وہ کچھ نہیں ہے۔ مصنف نے اس سبق میں جو کچھ بیان کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے