سپریم کورٹ نے فلور ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ صادر کیا ، ادھو سرکار کی اگنی پریکشا کل
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے فلور ٹیسٹ کا سامنا کریں گے یا وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دیں گے؟ آج رات عوام سے لائیو خطاب
ممبئی: 29 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) سپریم کورٹ نے فلور ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ صادر کیا، ادھو سرکار کی اگنی پریکشا کل ہوگی ۔مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی آزمائش کل دوبارہ ہوگی۔ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے انہیں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا تھا جس پر شیوسینا نے گورنر کے فیصلے پر روک لگانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔
سپریم کورٹ میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک جاری دونوں فریق کے وکیلوں کی بحث کے بعد کورٹ نے ٹھاکرے سرکار کی عرضداشت پر اسٹے دینے سے انکار کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے ۔
ادھر خبر ہے کہ شندے کے حامی ایم ایل اے آج گوا پہنچیں گے۔ اس کے بعد وہ کل صبح گوا سے ممبئی آئیں گے۔ بی جے پی بھی کل کے اجلاس کی تیاری کر رہی ہے۔ بی جے پی نے اپنے تمام ایم ایل اے کو آج رات تک تاج ہوٹل میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے سب کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ کل اسمبلی میں کیا ہوگا؟ ، تینوں سوالوں کے جواب ابھی تک نہیں ملے۔ کل کے اکثریتی امتحان کے سلسلے میں یہ تینوں سوالات انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
دریں اثنا، گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ٹھاکرے حکومت کو ایک خصوصی اجلاس بلانے اور اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ احکامات اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس کے خط سے دیئے ہیں۔ خیال رہے کہ گورنر چیف منسٹر اور ریاستی کابینہ کے مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ اس لیے ان کے لیے خصوصی اجلاس کے انعقاد کے لیے وزیر اعلیٰ سے مشورہ کرنا لازمی تھا۔ لیکن انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے خط پر کنونشن بلایا جس سے قانونی مخمصہ پیدا ہو گیا۔ اسے بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ان سب سوالوں پر ٹھاکرے سرکار کے وکیل سنگھوی نے زبردست اعتراض جتایا لیکن اسکے جواب میں اپوزیشن کے وکیل نے فلور ٹیسٹ کرنے پر زور دیا اور بلا آخر کورٹ نے فلور ٹیسٹ کرنے کی منظوری دی ہے ۔
کل ممبئی ودھان بھون میں ٹھاکرے سرکار کی اگنی پریکشا ہوگی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا رات بھر سیاسی گلیاروں میں کیا چمتکار ہوتا ہے ۔کیا ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دیں گے یا فلور ٹیسٹ کا سامنا کریں گے ۔وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے آج رات ساڑھے نو بجے عوام سے خطاب کریں گے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com