بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ، عوام پریشان، جنتا دل، این سی پی ،ایم آئی ایم ، کانگریس پارٹی خاموش کیوں؟
گھنٹوں بجلی سپلائی مسدود ،بجلی کے استعمال پر اوور لوڈ کا عذر بیجا، بجلی کمپنی اضافی ٹرانسفارمر کے انتظامات کرے
مالیگاؤں : 2 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر میں بجلی کمپنی کی من مانی و تانا شاہی عروج پر ہیں ۔جس کے سبب عوام کو حد درجہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور لیڈران ہیں کہ اے سی آفس میں آرام کررہے ہیں ۔بجلی کمپنی نے گرمی میں بجلی کے زائد استعمال پر اوور لوڈ کر کا عذر پیش کیا اور اپنا دامن جھاڑتے ہوئے آج بھی لوڈ شیڈنگ برقرار رکھی ہے ۔روانہ دو تین گھنٹوں کے علاوہ کسی بھی وقت گھنٹوں بجلی سپلائی مسدود کردی جارہی ہیں باز پرس پر کبھی کمپنی استدلال دیتی ہیں کہ تین گھنٹے بعد پاور آئے گی، کبھی چار تو کبھی پانچ گھنٹوں کیلئے پاور بند کردی جارہی ہیں اور یہ حال پورے شہر کا ہے ۔شہر کے ہر علاقے میں کمپنی بجلی سپلائی کرنے میں شفافیت کو اولیت نہیں دے رہی ہیں ۔اگر بجلی کا استعمال بڑھ گیا ہے تو کمپنی استعمال کیمطابق بجلی کا اسٹاک اور انتظامات کریں لیکن صارفین کے انکے حقوق سے محروم نہ کریں اسطرح کا عوامی مطالبہ کیا جارہا ہے ۔
اس ضمن میں نمائندہ بیباک کو شہریان کی جانب سے بیشمار شکایات کمپنی کیخلاف موصول ہوئی ہیں اور ان شکایات میں عوام بجلی کمپنی پر اپنا غصہ نکال رہی ہیں ۔عوام نے یہ بھی صاف طور سے کہا کہ کیا اخبارات کے نمائندے،سیاسی پارٹیوں کے لیڈران، سوشل ورکر بجلی کمپنی سے رابطہ کرچکے ہیں جو کوئی کچھ بولتا نہیں، لکھتا نہیں ۔اور اب تو حد ہوگئی سیاسی لیڈران بجلی کمپنی کی من مانی و تانا شاہی کیخلاف لیٹر بازی، دھرنا، مورچہ کرنے کی بجائے کمپنی کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔ عوام حد درج پریشان ہیں۔
آئندہ ہفتہ اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور اگر بجلی کمپنی کا رویہ ایسا ہی رہا تو یقیناً تعلیمی نظام میں خلل پیدا ہوگا اور اسکی وجہ بھی بجلی کمپنی ہوگی ۔دوسری جانب عوام نے شہری ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کو اپنے منصب اور عہدہ و ذمہ داری کو یاد دلاتے ہوئے نمائندگی کرنے کی صلاح دیں ہیں اور کہا کہ عوام پریشان ہیں آپ کچھ فکر تو کریں ۔اسی طرح این سی پی لیڈر شیخ آصف ،جنتا دل کے مستقیم ڈگنیٹی، مجلس اتحاد المسلمین کے ڈاکٹر خالد پرویز ۔کانگریس کے اعجاز بیگ سے بھی درخواست کی گئی ہیں کہ آپ بھی کمپنی کی تانا شاہی کیخلاف آواز بلند کریں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com