کانگریس پارٹی کا بڑا فیصلہ ، "ایک خاندان ایک ٹکٹ" کا فارمولا پیش، راجستھان میں تین روزہ چنتن بیٹھک
پیراشوٹ امیدوار کو ڈائریکٹ ٹکٹ نہیں، پانچ سال پارٹی میں کام کرنے والوں کو الیکشن میں امیدواری کا موقع
جودھ پور : 13 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ملک بھر میں کانگریس پارٹی کی موجودہ صورتحال اور حال ہی میں ہوئے چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو ملی کراری شکست پر کانگریس ہائی کمان نے راجستھان میں تین روزہ چنتن بیٹھک کا انعقاد کیا ۔جس میں کانگریس پارٹی کے اعلیٰ لیڈران اور پارٹی کے مشیروں نے شرکت کرتے ہوئے پارٹی کی کمزور سیاسی قیادت پر تبادلہ خیال کیا ۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چنتن بیٹھک کے کنوینر اجئے ماکن نے کہا کہ گاندھی خاندان کو چھوڑ کر ملک بھر میں ہر ایک کیلئے نیا فارمولا نافذ کرنے کی سفارش پیش کی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی نے فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب "ایک خاندان ایک ٹکٹ" کا فارمولا اپنایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا کے ساتھ ساتھ لوکل باڈیز چناؤ میں اب ایسے ہی امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے جو کو پارٹی کے ساتھ مل کر پانچ سال کام کیا ہو ۔اتنا ہی نہیں اس چنتن بیٹھک میں یہی بھیا سفارش کی گئی ہے کہ پیرا شوٹ امیدوار کو ڈائریکٹ ٹکٹ نہ دیا جائے ۔
حالانکہ کانگریس کی پرانی روایت ہے کہ وہ اکثر اوقات پیراشوٹ امیدوار کو ٹکٹ دیکر امیدواری کا موقع دیتی ہیں ۔جو کہ کہیں نہ کہیں پارٹی کی کمزوری کی وجہ بن گئی ہے ۔اجئے ماکن نے کہا کہ باہر سے آنے والے امیدواروں کو ٹکٹ نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے اور نئے امیدوار جون کسیے دوری پارٹی چھوڑ کر کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں اور وہ امیدواری کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی ٹکٹ نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو امیدوار پارٹی کے اندر رہے کر پانچ سال محنت کرے گا اسے ہی ٹکٹ دیا جائے ۔
اس موقع پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ماکن نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جو فارمولا "ایک خاندان ایک ٹکٹ" پیش کیا ہے وہ گاندھی خاندان پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ ملک بھر میں قائم کانگریس پارٹی کی ہر شاخ پر یہ فارمولا نافذ ہوگا ایسی سفارشات بھیا اس چنتن بیٹھک میں پیش کی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس فارمولے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر عمل ہوتا ہے تو کانگریس پارٹی کی یہ نئی حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوگی؟ اس پر کانگریس پارٹی کے اعلیٰ لیڈران کی نظریں لگیچرز ہوئی ہیں ۔فی الحال کانگریس پارٹی میں قدآور لیڈران کے خاندان میں ایک سے زائد امیدوار ایم ایل اے، ایم پی اور کارپوریٹر منتخب ہوئے ہیں ۔اس فارمولے سے انکا کیا رد عمل سامنے آتا ہے؟ یہ بھی توجہ طلب ہوگا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com