مہا ٹی ای ٹی امتحان گھوٹالہ :جی اے سافٹ ویئر کمپنی کے ڈائریکٹر پرتیش دیشمکھ کی 50 ہزار ذاتی مچلکہ پر ضمانت منظور
پونہ : 14 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) پورے مہاراشٹر میں ہلچل مچانے والے ٹی ای ٹی امتحان گھوٹالہ میں پہلی ضمانت منظور ہوئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سال 2017-18 میں کئے گئے اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ میں، جی اے سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز کے ڈائریکٹر پریتش دیش مکھ کو پونے سیشن کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ یہی فیصلہ معزز جج محترمہ وی اے پتراوالے نے یہ دیا ہے۔
خیال رہے کہ 2017-18 میں حکومت مہاراشٹر کے ذریعہ اساتذہ کی بھرتی کے لئے اہلیتی امتحانات منعقد کئے گئے تھے۔ اس امتحان کے انعقاد کا کام جی۔ اے سافٹ ویئر کمپنی کو دیے گئے اور الزامات ہیں کہ کمپنی کے اعلیٰ افسران نے آپس میں سازش کی اور نااہل امیدوار کو اہل قرار دیا۔
اس معاملے کے انکشاف کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف ایجوکیشن کے چیئرمین دتاتریا جگتاپ نے اس سلسلے میں پونہ سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ ڈائریکٹر پریتیش دیشمکھ کو اس معاملے میں 22 دسمبر 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا اس ضمن میں ملزم دیشمکھ نے اپنے ایڈوکیٹ سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے ایڈووکیٹ وجے سنگھ تھومبارے کے ذریعے عدالت سے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔
اس معاملے میں پونے سائبر پولس کی طرف سے کی گئی تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل ممبئی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک رٹ درخواست میں کہا گیا تھا کہ کیس کے ملزمان کے درمیان ملاقات اور کوئی سازش نہیں تھی۔ نیز، ملزم کی جانب سے ایڈوکیٹ وجے تھومبرے نے الزام لگایا کہ جس وقت گھوٹالہ ہوا اسوقت ہمارے موکل بطور ڈائریکٹر کمپنی میں کام نہیں کررہا تھا لیکن اسے ڈائریکٹر کے طور پر غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا۔ ملزمان نے متعدد مقدمات میں ہائی اور سپریم کورٹ کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دلیل دی کہ ضمانت کا قاعدہ تھا اور جیل سے مستثنیٰ ہے۔
اس کیس میں ملزم اور استغاثہ کے فریق کو مدنظر رکھتے ہوئے سیشن جج محترمہ وی۔ اے پتراوالے نے ڈائریکٹر پریتیش دیشمکھ کو 50,000/- روپے کے مچلکہ پر رہا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک سے باہر نہ جانا اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا سمیت دیگر پابندیوں کا اطلاق کیا ہے ۔اس معاملے میں ایڈوکیٹ وجے سنگھ تھومبرے، اور ہتیش سونار، ایڈوکیٹ آشوتوش شیلکے ،وشنو ہوگے نے معاونت کی۔ اس معاملے میں اب بھی کئی ملزمین جیل کی سلاخوں میں قید ہیں تو اب بھی کئی ایجنٹ کو پولس تلاش کررہی ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com