ہندوستان میں اب ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی ، امیت شاہ کا اعلان، پیدائش اور اموات کے ریکارڈ کو بھی لنک کیا جائے گا
ای مردم شماری سے ہوگی جنم و اموات میں انٹری،آٹو اپڈیٹ ہوگا 18 سال کی عمر میں ووٹنگ لسٹ میں نام
آسام : 11مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ملک میں گزشتہ سال کورونا وبا کی وجہ سے مردم شماری نہیں کرائی گئی۔ ہندوستان میں ہر دس سال بعد مردم شماری کی جاتی ہے۔ پہلے اس عمل کو دستاویزی شکل دی گئی تھی۔ لیکن اب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ مردم شماری کے عمل کو ڈیجیٹل کیا جائے گا۔ اس عمل کو ڈیجیٹل کرنے سے گنتی کا عمل اور بھی آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں، پیدائش اور موت کے رجسٹر کو بھی اس سے منسلک کیا جائے گا۔
یہ ملک میں ہونے والی ہر پیدائش اور موت کا ریکارڈ مردم شماری کو خود بخود اپ ڈیٹ کر دے گا۔ وزارت داخلہ نے مردم شماری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے جدید تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسطرح کا اظہار خیال وزیر داخلہ امیت شاہ آسام میں منعقدہ ڈائریکٹوریٹ آف سینسس آپریشنز کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کر رہے تھے۔ انہوں نے ملک کی ترقی کے لیے تازہ ترین مردم شماری کی اہمیت پر زور دیا۔
ای مردم شماری
"آئندہ مردم شماری ای مردم شماری ہوگی۔ جو کہ 100 فیصد کامل مردم شماری ہو گی۔ اس مردم شماری کی بنیاد پر اگلے 25 سالوں کے لیے ملک کے ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ مردم شماری مختلف وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام جیسی ریاست میں یہ اور بھی اہم ہے۔ آسام آبادی کے لحاظ سے سب سے حساس ریاست ہے۔
موصوف نے کہا کہ پیدائش اور اموات کے رجسٹروں کو بھی مردم شماری کے متعلقہ عمل سے منسلک کیا جائے گا۔ اس لیے بچے کی پیدائش کے بعد اس کی تفصیلات مردم شماری کے آن لائن رجسٹر میں خود بخود شامل ہو جائیں گی۔
اتنا ہی نہیں متعلقہ بچہ اگر 18 سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسکے بعد اس کا نام ووٹر لسٹ میں آٹومیٹک شامل کیا جائے گا اور اس کی موت کے بعد اس کا نام فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ متعلقہ شخص کا نام اور پتہ تبدیل کرنا بھی آسان ہوگا۔امیت شاہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مردم شماری خود بخود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔یہ پورا عمل ایک سافٹ ویئر کے ذریعے کیا جائے گا اور اسے ایکدوسرے سے منسلک (لنک) کردیا جائے گا جوکہ ای مردم شماری کہلائے گی ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com