ڈیٹا انٹیگریشن اور کووڈ ویکسینیشن ریکارڈ مردم شماری کی جائے گی مردم شماری پر خرچ ہونے والے 12 ہزار کروڑ روپے کی بچت،


ڈیٹا انٹیگریشن اور کووڈ ویکسینیشن ریکارڈ مردم شماری کی جائے گی 


مردم شماری پر خرچ ہونے والے 12 ہزار کروڑ روپے کی بچت، 2031 تک این پی آر اور این آر سی کو ملتوی کرنے کی منصوبہ بندی 

مرکزی حکومت اور گیارہ ریاستوں کے درمیان این آر سی اور این پی آر پر نا اتفاقی برقرار 



    
نئی دہلی : 3 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) موصولہ تازہ خبروں کے مطابق مرکزی حکومت این پی آر اور این آر سی کو ٹالنے کا من بنارہی ہے اور اس کے پیچھے سرکار کو سیاسی فائدہ کے ساتھ ساتھ مالی فائدہ بھی نظر آرہا ہے ۔ مرکزی حکومت نے مردُم شماری پر ہونے والے اخراجات تقریباً 12ہزار کروڑ روپے کو بچانے کیلئے مردُم شماری کو ٹالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس طرح کی جانکاری ذرائع سے موصول ہورہی ہے ۔

 جانکاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے سیاسی فائدہ کیلئے این آر سی اور این پی آر کو ہوا دیتی لیکن اب اُسے بھی 2031ء تک ٹالنے کی تیاری ہوچکی ہے، کیونکہ مرکزی حکومت اور گیارہ ریاستوں کے درمیان این آر سی اور این پی آر پر نا اتفاقی ہے ، اس لئے اُسے ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے ، حالانکہ بی جے پی انتخابی ایجنڈا میں این آر سی اور این پی آر اہم مدعے شامل ہیں تفصیلات کے مطابق مردُم شماری کا ٹائم فریم اس سے پہلے ایسا رکھنے کی تیاری تھی جو اب ممکن نظر نہیں آتا ۔ 

جو وقت طے کیا گیا تھا اُس کے مطابق 2022-23 میں مردُم شماری کیلئے موبائیل ایپ اور CMNS پورٹل پر ٹیسٹ ہوں گے ، 2023-24میں مردُم شماری 2021ءکے پہلے حصے کا فیلڈ ورک جیسے گھروں اور عوامی املاک کی تفصیلات کا اندراج کرنا ، 2024-25ء میں انسانی آبادی کا سروے اور 2025-26 میں پرویژنل ڈیٹا انٹری کرنا اور 2026-27ءمیں 250سے زیادہ مردُم شماری کے ڈیٹا ٹیبل جاری کرنا جیسی منصوبہ بندی سرکار نے کی تھی لیکن یہ سب اب ممکن نہیں ہے کیونکہ سرکار نے اِن تمام مدعوں کو درکنار کرتے ہوئے 12 ہزار کروڑ روپے کو بچانے کیلئے مردُم شماری2031 ء تک ملتوی کردی ہے ۔ 

اب مردُم شماری کیسے کی جائے گی ؟ سرکار نے کورونا کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک بھر میں کورونا ویکسی نیشن لینے والوں کی تعداد ہر سیکنڈ آن لائن اپ ڈیٹ ہورہی ہے اور اب تک 84کروڑ 67 لاکھ افراد سے زائد کورونا ویکسی نیشن ریکارڈ کی جاچکی ہے ، اس کے علاوہ 15 سال سے 18 سال تک کے تمام بچوں کو بھی کورونا کی ویکسین دی جارہی ہے اور ان تمام کا اندراج حکومت کے پورٹل پر محفوظ کیا جارہا ہے ۔ ان کورونا کے ٹیکوں سے سرکار مردُم شماری طے کرنے کا من بنارہی ہے ۔

 مرکزی حکومت نے جُریڈکشن فریز کرنے کا فیصلہ 30 جون 2022ء تک ٹال دیا ہے اور یہ مردُم شماری کو ملتوی کرنے کا سب سے بڑا اشارہ نظر آرہا ہے ۔ اس سے پہلے سرکار نے 31 دسمبر 2020ء کو مردُم شماری کا اعلان کیا ، پھر اُسے بڑھاتے ہوئے 31 دسمبر 2021ء کیا گیا اور اب سرکار نے مردُم شماری کرنے سے تین ماہ پہلے یہ احساس جتایا ہے کہ اب مردُم شماری کا فیصلہ 2022ء کے آخری تین ماہ میں طے کیا جائے گا اور نیا ٹائم ٹیبل جاری کیا جائے گا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مردُم شماری کے اعدادوشمار 2027ء سے پہلے جاری نہیں ہو سکیں گے اور اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ اعدادو شمار 2021ء تک قابل قبول ہوں گے ۔ 

جانکاروں کے مطابق کورونا ٹیکہ لگانے والوں کی تعداد کی گنتی کرنا اور اس کے علاوہ ڈیٹا اینٹی گریشن سے بھی آبادی کا پتہ لگانا سرکار کے جنم و اموات محکمہ کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکار مردُم شماری اپنے طور پر مکمل کرتے ہوئے آبادی کا تناسب شائع کردے گی اور 2031ء سے پہلے مردُم شماری نہیں ہو سکے گی ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے