ٹی ای ٹی امتحانات میں بھی گھپلہ ، کروڑوں کا لین دین اجاگر، ریاستی ایگزامینیشن کونسل کے کمشنر تکارام سوپے گرفتار

ٹی ای ٹی امتحانات میں بھی گھپلہ ، کروڑوں کا لین دین اجاگر، ریاستی ایگزامینیشن کونسل کے کمشنر تکارام سوپے گرفتار




پونہ : 17 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) موصولہ خبروں کے مطابق مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل کے کمشنر توکارام سوپے کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسطرح کا انکشاف پولس انتظامیہ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تکارام کے قبضے سے لاکھوں روپے ضبط کئے گئے۔ پولیس نے یہ بھی جانکاری جاری کی کہ اس گھوٹالے میں کس کو کتنے کروڑ ملے۔
 پونہ کے پولیس کمشنر امیتابھ گپتا کے مطابق، تکارام سوپے کو ریاستی حکومت کے امتحانی محکمہ نے ٹی ای ٹی امتحانات کے سلسلے میں کئے گئے گھپلہ کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تکارام سوپے پر رشوت لینے اور اساتذہ کی اہلیت کے امتحان میں طلباء کو پاس کرنے کا الزام ہے۔پونہ میں پریس کانفرنس میں پولیس کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق اس پورے گھوٹالے میں 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کا بیجا استعمال کیا گیا ہے۔ پولس نے بتایا کہ کچھ ایجنٹ جو ہر طالب علم سے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک رقم وصول کررہے تھے۔ اس میں سے 88 لاکھ روپے کی نقد رقم تکارام سوپے کے قبضے سے ضبط کی گئی۔ اس کے علاوہ تکارام سوپے کے قبضے سے 5 تولہ زیورات اور 5.5 لاکھ روپے کی ایف ڈی پر مشتمل دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں۔ سودے کے مطابق تکارام سوپے کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے ملنا تھا لیکن معاملہ درمیان میں ہی اجاگر ہوگیا ۔

اسی طرح ملزم پریتیش دیش مکھ اور ابھیشیک ساوریکر کو بالترتیب 1.25 کروڑ اور 1.25 کروڑ روپے ملنے والے تھے ۔اس میں سے 80 لاکھ روپے کی نقدی سے ضبط کی گئی۔پولیس کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل نے 5ویں اور 8ویں اسکالرشپ امتحان، ٹیچر کی اہلیت کا امتحان، ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ امتحان، ای سی بی اسکالرشپ امتحان، ان سروس سروس امتحان، ڈی ایل۔ ای۔ ڈی ای امتحانات محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔ اس کے لیے 2019 میں شروع ہونے والے ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ کے اشتہار کے مطابق یہ اہلیتی ٹیسٹ 19 جنوری 2020 کو منعقد ہوا جسکا ٹھیکہ اے سافٹ ویئر کمپنی کو دیا گیا۔اور یہ ساری ذمہ داری مہاراشٹر میں اس کمپنی کے ڈائریکٹر پریتیش دیشمکھ پر تھی۔ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، ملزم نے محکمہ تعلیم کے مشیر تکارام سوپے اور ابھیشیک ساوریکر پر کو اعتماد میں لیا اور مختلف ایجنٹوں کے ذریعے ثالثی کی اور طلباء کو کوالیفائی کرنے کے عوض رقم کی وصولی کی۔ اس کے بعد امتحانی نتائج کے عمل کے دوران رزلٹ میں تبدیلیاں کرکے انہیں اہل (کامیاب) بنایا گیا۔
 'پولس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہم سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے دو مقدمات کیا جانچ کررہے تھے۔اور محکمہ صحت عامہ میں کی جانے والی ببھرتی کے امتحانات کی تحقیقات جاری تھیں۔ کہ MHADA کے امتحان کا پرچی لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا اور ہم نے امتحان سے ایک رات پہلے ملزمین کو گرفتار کر لیا۔
 معاملے کی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹی ای ٹی امتحان میں بھی گڑبڑ ہوئی ہے۔جس میں اول تو دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ٹی ای ٹی امتحان میں گھپلہ کے الزام میں گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔اور مزید تفتیش کی جارہی ہیں ۔اسطرح کی اطلاع بھی پولیس کمشنر پونہ نے دی ۔ایم ایچ اے ڈی اے پیپر لیک کیس کے اہم ملزم پریتیش دیش مکھ کے گھر کی سے سائبر پولس نے 2020 میں ہونے والے ٹی ای ٹی امتحان کے لیے نااہل ہونے والے کچھ طالب علموں کے ہال ٹکٹ ضبط کر لیے تھے۔ دریں اثناء مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل کمشنر تکارام سوپے سے پولیس نے TET امتحان کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے