لاک ڈاؤن کا فیصلہ آکسیجن کے لحاظ سے کیا جائے گا ، ہمارا مقصد صرف پابندیاں عائد کرنا نہیں بلکہ عوام کی حفظان صحت اولین ترجیح : وزیر صحت راجیش ٹوپے

لاک ڈاؤن کا فیصلہ آکسیجن کے لحاظ سے کیا جائے گا ، ہمارا مقصد صرف پابندیاں عائد کرنا نہیں بلکہ عوام کی حفظان صحت اولین ترجیح : وزیر صحت 


 پابندیوں کو مثبت نظریہ سے دیکھیں ، سیاسی سماجی و مذہبی اور شادی کی تقریبات میں کورونا قواعد پر عمل کرنا ضروری 


اومیکرون کی بڑھتی رفتار سے مہاراشٹر حکومت فکر مند، وزیر صحت راجیش ٹوپے کی پریس کانفرنس 



ممبئی : 25 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) وزیر صحت نے آج مہاراشٹر میں کورونا انفیکشن کی موجودہ صورتحال پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے کورونا کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا کہ اگرچہ اومیکرون انفیکشن بڑھ رہا ہے اور عوام میں کوئی خوف نہیں ہے۔ لیکن ہمیں اپنا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس پس منظر میں عوام اپنا تہوار اور نئے سال کو منائیں لیکن پابندیوں پر بھی عمل کریں۔

ٹوپے نے کہا کہ اس سے قبل کورونا کے ریاست میں 500 سے 600 مریض پائے گئے تھے۔  اب مریضوں کی تعداد 1400 تک جا پہنچی ہے۔ اور اوپر سے اومیکرون نے بھی 100 سے زائد مریضوں کو 100 کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس کی رفتار بڑھ گئی اور اب لہر آئی تو اومیکرون کی ہو گی۔  اس لیے سبھی کو باخبر رہنا چاہیے۔

راجیش ٹوپے نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کا فیصلہ آکسیجن کوٹہ کے لحاظ سے کرنے جا رہے ہیں۔  لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے کا فیصلہ اس دن لیا جائے گا جب یومیہ 800 میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، اگر انفیکشن کی شرح زیادہ ہے، تو 800 میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت کو کم کر کے 500 میٹرک ٹن کرنا پڑے گا۔  یہی صورتحال ہے۔موصوف نے کہا کہ اومیکرون کے معاملے میں آکسیجن کی ضرورت کا امکان کم ہے ۔ لیکن کورونا کے مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ہم پابندیاں نہیں چاہتے۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے۔  ہم یہ پابندیاں صرف تشویش کی وجہ سے لگا رہے ہیں۔ ہمیں ان پابندیوں کی غلط تشریح نہیں کرنی چاہیے جو ہم عائد کر رہے ہیں۔  ٹوپے نے یہ بھی اپیل کی کہ عوام کی حفظان صحت  کے جذبے سے ان پابندیوں کو دیکھنا چاہیے۔

 ریاست میں شادیوں، مذہبی، سماجی اور سیاسی تقریبات میں شرکت پر پابندی ہے۔ریستورانوں، فلموں اور تھیٹروں اور عوامی ہجوم کے پروگراموں میں 50 فیصد حاضری کی پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ احتیاط کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کے دوران ہجوم سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔  یہ پابندیاں ریستوراں اور تفریحی شعبے کو سخت متاثر کریں گی۔

راجیش ٹوپے نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ملک کی کچھ ریاستوں نے رات کا کرفیو نافذ کیا ہے، لیکن ریاست نے رات 9 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو جیسی سخت پابندیوں کو نافذ کر دیا ہے۔  اس کے مطابق اس دوران پانچ یا اس سے زیادہ لوگ عوامی مقامات پر جمع نہیں ہو سکیں گے۔

 دریں اثنا، راجیش ٹوپے نے پیپر لیک معاملے میں کہا کہ مقننہ میں صحت عامہ محکمہ میں بھرتی کے امتحانات پر بحث ہوئی ہے اور پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد دوبارہ امتحانات لینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ٹوپے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ اس سلسلے میں فیصلہ لیں گے اور اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔موصوف نے کہا کہ ہمارا مقصد صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے اور ہماری نیت خالص ہے۔  محکمہ صحت امتحانی پیپر لیک کی صحیح طریقے سے جانچ کر رہا ہے اور سی بی آئی انکوائری کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹوپے نے عندیہ دیا ہے کہ اب سے ریاست میں پرائیویٹ اداروں کو امتحان کا ٹھیکہ نہیں دیا جائے گا۔  ٹوپے نے یہ بھی کہا کہ کابینہ اس بات پر تبادلہ خیال کرے گی کہ امتحان کے انعقاد کے طریقہ کار کو تبدیل کرکے امتحان کس ادارے کے ذریعے کرایا جائے؟ اس پر فیصلہ لیا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے