اردو زبان گاؤں گاؤں، گلی گلی پہنچانے وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر تعلیم کی جدوجہد ، اہل اردو کو ہر ممکن تعاون دینے کا عزم : ڈاکٹر شیخ عقیل

اردو زبان گاؤں گاؤں، گلی گلی پہنچانے وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر تعلیم کی جدوجہد ، اہل اردو کو ہر ممکن تعاون دینے کا عزم : ڈاکٹر شیخ عقیل


اہل مالیگاؤں نے اردو کی محبت میں دیوانہ وار کردار ادا کیا ہے، اردو کبھی ختم نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی


این سی پی یو ایل اور مالیگاؤں سوسائٹی آف ایجوکیشن کے اشتراک سے مالیگاؤں میں کل ہند 24 ویں اردو کتاب میلہ کا شایان شان آغاز


مالیگاؤں : 18 دسمبر (زاہد بیباک ) کل ہند 24 ویں اردو کتاب میلہ کا انعقاد آج صبح دس بجے مالیگاؤں شہر کی اے ٹی ٹی اسکول و میونسپل مراٹھی اسکول (سٹی کالج نیو کیمپس) میں کیا گیا ۔جس کی صدارت ممبئی کے معروف صحافی حسن کمال نے کی ۔اس پروگرام کا افتتاح قومی کونسل برائے حکومت ہند کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل کے ہاتھوں کیا گیا ۔
مالیگاؤں سوسائٹی آوف ایجوکیشن اور قومی کونسل کے اشتراک سے منعقدہ میلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ عقیل نے کہا کہ تحریک آزادی میں بھی اردو کا اہم کردار رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے ادیب جو ہوتے ہیں وہ بچوں کے ادب سے محبت کرتے ہیں انہوں نے بچپن سے ہی کتابوں سے محبت کی ہیں اور آج کے دور میں پورے ہندوستان میں ایسے ادیب پوری دنیا میں اردو کے نام سے مشہور ہیں اور انکی تخلیقات دنیا بھر میں پڑھی جارہی ہیں اسی لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ آج کے بچے ہیں وہ بھی اپنے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کریں ۔آج ہندوستان میں بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا تاکہ وہ اپنے مطالعہ سے ایک اچھے ادیب بنے اورےمستقبل میں پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کرنے والے بن جائیں ۔مالیگاؤں شہر بھی ملک بھر میں اردو کا گہوارہ مانا جاتا ہے یہاں کے بچوں کو بھی ادب سے محبت پیدا کرنا ضروری ہے ۔اسطرح کے جملوں کا اظہار قومی کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل نے مالیگاؤں میں منعقدہ کل ہند 24 ویں اردو کتاب میلہ کے افتتاح کے موقع پر کیا ۔موصوف نے کہا کہ گزشتہ 2014 میں بھی مالیگاؤں شہر کی عوام نے اردو میلہ کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا تھا اور سب سے زیادہ کتاب فروخت کا ریکارڈ بنایا تھا ۔ہمیں امید ہے کہ آج بھی اسی جوش و جذبہ کیساتھ اردو میلہ کامیاب ہوگا ۔کیونکہ یہ ملک کے پبلشنرز کی خواہش تھی کہ ابکی بار میلہ مالیگاؤں میں لگے ۔اسی ضمن میں ہندوستان بھر سے پبلشرز مالیگاؤں آئے ہیں اور ایک امید لیکر آئیں ۔ڈاکٹر شیخ عقیل نے بتایا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ مجودہ سرکار نے این سی پی یو ایل کے بجٹ میں ایک سو پچاس فیصد کا اضافہ کیا ہے ۔یہ بجٹ ایک سو کروڑ روپے کا ہے جو ایک مثال ہے ۔
وزیر اعظم نریندر جی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان بھی چاہتے ہیں کہ اردو کا پرچم ہندوستان کے گاؤں گاؤں، گلی گلی میں لہرایا جائے ۔جسکے لئے آپ جیسے محبان اردو کی مدد کی ضرورت ہے اگر آپ لوگوں کا ساتھ رہا تو اردو صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے دنیا میں رابطہ کی زبان بن جائے گی ۔ہم نے ہندوستان کے کونے کونے میں اردو بولنے، لکھنے اور سمجھنے والوں کو دیکھا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اردو نہ کبھی ختم ہوگی لیکن یہ ضرور ہے کہ جو شہر اردو کا مرکز کہلاتے رہیں ہیں انہوں نے اردو کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ کر اردو کی عزت نہیں کرے اسی لیے اردو دوسری جگہ پروان چڑھ رہی ہیں ۔اردو کو گلے لگانے کیلئے ہندوستان میں لوگوں کی کمی نہیں ہے ۔ڈاکٹر شیخ عقیل نے کہا کہ آج مالیگاؤں جیسے شہر موجود ہوں تو اردو کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہا کہ اردو کو فروغ دینے کیلئے این سی پی یو ایل کی بیشمار اسکیمیں ہیں ۔میں چاہتا ہوں کہ مالیگاؤں سمیت ملک بھر کی عوام ویب سائٹ کا مطالعہ کریں اور اسکیمات سے فائدہ اٹھائیں ۔قومی کونسل ہر ممکن مدد کریگی ۔عقیل شیخ نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ مالیگاؤں کا اردو گھر تعمیر ہوکر بند پڑا ہوا ہے اور میں سوچ کر آیا تھا کہ اردو گھر میں قومی کونسل کی جانب سے ہر سال الگ الگ پروگرام منعقد کرونگا لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔میں امید کرتا ہوں کہ انتظامیہ اور سیاسی جماعت اسے جاری کرنے کی کوشش کریں گے ۔میں کونسل کی جانب سے مشاعرہ، ڈرامہ، ادبی سیمینار جیسے مختلف پروگراموں کا انعقاد اردو گھ سلام کریں گے آپ تعاون کا مظاہرہ کریں ۔ڈاکٹر شیخ عقیل نے مالیگاؤں انتظامیہ اور عوام کا  شکریہ ادا کیا ہے ۔اسے قبل افتتاحی اجلاس میں اسکول کے طالبات نے استقبالیہ گیت پیش کر مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔یہاں امتیاز خلیل نے کہا کہ اس میلہ کو کورونا قوانین کے اصولوں پر منعقد کیا گیا ہے جس میں 168 پبلشرز نے اپنے اسٹال لگائے ہیں ۔ اس تقریب میں کمال، ڈاکٹر شیخ عقیل، جمیل کرانتی، پروفیسر شکیب، یاسین درگاہی، ڈاکٹر اشفاق انجم، ممبئی سے سید زاہد علی، عبدالرحمان اعظمی، شیخ رفیق،مشیر انصاری، مختار قاضی، مقامی طور پرپروفیسر عبدالمجید صدیقی، خیال انصاری، شبیر آصف، محمد سر، اسحٰق سیٹھ زر والے، جے اے ٹی کیمپس سے مختار عدیل، پروفیسر فہمیدہ؟ پروفیسر سلمیٰ، پروفیسر طاہرہ تسنیم سمیت اہل اردو کی کثیر تعداد موجود تھی ۔پروگرام کی نظامت امتیاز خلیل نے انجام دی ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے