وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ کا بڑا بیان ، اومیکرون کے مریضوں میں مسلسل اضافہ سے تشویش، اسکولیں دوبارہ بند کرنے کا خدشہ
ممبئی : 22 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) گزشتہ دو سالوں سے کورونا کے پس منظر میں اسکولوں اور کالجوں کی سرگرمیوں کو موخر کرنا پڑا۔ ریاستی حکومت نے یکم دسمبر سے مہاراشٹر میں پہلی جماعت سے اسکول شروع کرنے کی اجازت دے دی، کیونکہ کورونا کی صورتحال اب قابو میں ہے۔ تاہم کورونا کے نئے Omicron Covid ویرینٹ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے اسکول دوبارہ بند ہونے کا خدشہ ریاست کی اسکولی تعلیم کی وزیر ورشا گائیکواڑ نے ظاہر کیا ہے۔
ورشا گائیکواڈ نے کہا کہ ریاست میں اومیکرون کووڈ کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ریاست میں ایک اومیکرون مریض ریکارڈ کیا گیا۔ اب یہ تعداد 65 سے تجاوز کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'اگر Omaicron کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اسکول کو دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ورشا گائیکواڈ نے کہا کہ ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔دریں اثنا، ریاست میں اسکولیں یکم دسمبر سے شروع ہیں۔اس سے قبل 5ویں سے 12ویں کلاسز کا آغاز، اس کے بعد دیہی علاقوں میں پہلی سے چوتھی اور شہری علاقوں میں پہلی سے ساتویں جماعتیں بھی آف لائن ہونے لگیں۔ جسکا ریاستی حکومت نے گزشتہ ماہ ایک اہم فیصلہ لیا تھا۔
دریں اثنا، Omaicron مریضوں کی تعداد ملک میں بڑھ رہی ہیں۔ دہلی اور مہاراشٹر میں سب سے زیادہ Omicron کے مریضوں پائے گئے ہیں۔حکومت وائرس پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں واقع مالیگاؤں شہر کورونا کے علاوہ اومیکرون کے مریض سے ابھی تک محفوظ ہیں اور یہاں پر عام زندگی معمول کے مطابق جاری و ساری ہیں ۔اسکولیں حسب سابق اپنے سابقہ طرز پر رواں دواں ہیں ۔طلباء اور اساتذہ میں جوش و خروش پایا جارہا ہے لیکن ایسے میں وزیر تعلیم کے بیان سے پھر ایک بار تذبذب کا ماحول بن رہا ہے لیکن کیا کریں کورونا سے انسانی زندگیوں کو محفوظ کرنا وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com