سوالیہ پرچہ لیک کیس :
آفیسران ، ایجنٹ اور طلباء سمیت اب تک 28 ملزمان گرفتار 6 کروڑ روپے کے سامان ضبط
ہیلتھ محکمہ کلاس سی کا سوالیہ پرچہ 'نیاسا' کمپنی کے ذریعے لیک ہوا تھا، پونہ پولیس کا دعویٰ، پریس کانفرنس سے مخاطبت
پونہ : 28 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) پولیس کمشنر امیتابھ گپتا نے ایک پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے گروپ سی کا سوالیہ پیپر نیاسا کمپنی کے ذریعے لیک کیا گیا تھا اور پونہ پولیس نے دو ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار ملزمین کی شناخت نشید رامہری گائیکواڑ (43) ساکن 501، شیولکر گارڈن، جنوبی امباری روڈ، ناگپور اور دوسرے ملزم کی شناخت راہول دھنراج لنگوٹ (35) ساکن دیوی پارک، جاورکر لان کے پیچھے، امراوتی کے طور پر کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سائبر پولس کو یہ اطلاع ملی تھی کہ نشید گائیکواڑ نے امتحان سے پہلے پیپر لیک کیا تھا اور اسے ایک ایجنٹ کے ذریعے طلباء کے حوالے کیا تھا۔اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
محکمہ صحت کے سوالیہ پرچہ لیک کیس میں دو الگ الگ لنکس سامنے آئے ہیں۔ محکمہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر مہیش بوتلے، محکمہ صحت کے لاتور ڈویژن کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر پرشانت بڈگیرے، محکمہ صحت کے امبا جوگئی ڈویژن کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سندیپ جوگ دند اور راجندر سانپ کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اب یہ معلوم ہونے کے بعد کھلبلی مچا دی گئی ہے کہ پیپر جس جگہ سے چھاپا گیا تھا وہاں سے لیک ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس کیس کی دو کڑیاں سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے میں اب تک 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں محکمہ صحت کے افسران، ایجنٹس اور کچھ طلباء شامل ہیں۔ ملزم نے امتحان سے قبل 100 میں سے 92 سوالات لیک کیے تھے۔
جب پونہ سائبر پولس محکمہ صحت کے سوالیہ پرچہ لیک معاملے کی جانچ کر رہی تھی تو انہیں معلوم ہوا کہ MHADA امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے والا ہے تب تین ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔پھر انہیں معلوم ہوا کہ ٹی ای ٹی امتحان کا سوالیہ پرچہ بھی لیک ہو گیا ہے۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے مہاراشٹر اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشن کے کمشنر تکارام سوپے اور محکمہ تعلیم کے مشیر ابھیشیک ساوریکر کو گرفتار کرلیا۔ سوپے کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپے مارے گئے اور 3 کروڑ 23 لاکھ 36 ہزار 840 روپے کی نقدی اور 67 لاکھ 78 ہزار 800 روپے کے سونے کے زیورات اور سامان ضبط کیا گیا۔اب تک چھ کروڑ روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com