دفعہ 144 کے ساتھ عام افراد کے گھومنے پھرنے پر بھی لگی پابندی ، سبزی ، گوشت ، میڈیکل ، راشن ، اسپتال کے علاوہ دیگر ضروری اشیاہ کی دکانوں کو چھوڑ سبھی طرح کی دکانیں رہے گی بند



دفعہ 144 کے ساتھ عام افراد کے گھومنے پھرنے پر بھی لگی پابندی ، سبزی ، گوشت ، میڈیکل ، راشن ، اسپتال کے علاوہ دیگر ضروری اشیاہ کی دکانوں کو چھوڑ سبھی طرح کی دکانیں رہے گی بند

پولس انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تو ہوگا مقدمہ درج: ایڈیشنل ایس پی گھگے

خبر دار! آج سنجیدگی سے نہیں سوچا تو کل ہماری لاش اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا، کورونا وائرس کے علاج کے لئے ہمارے پاس انتظام نہیں



مالیگاؤں :23 مارچ (بیباک@ نیوز اپڈیٹ) شام 5 بجے پولیس کنٹرول روم کے سنسواد ہال میں منعقد شہر کے علماء و محکمہ پولیس انتظامیہ کی میٹنگ میں شہر کے ذمہ داران سمیت افسران نے اظہار خیال پیش کرتے ہوئے عوام کے لئے ضروری ھدایت جاری کی جس میں ڈاکٹر سعید فارانی نے کہا کہ آج ہمارے شہر میں یہ مرض داخل نہیں ہوا ہے ، ہم نے ایک بھی مریض کورونا وائرس کا نہیں دیکھا ہے اس لئے آج بھی ہمارے پاس وقت ہے اگر ہم نہیں سمجھے تو آنے والے وقت میں ہمارے پاس کورونا وائرس سے بچ نہیں سکتے ، کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام یا طاقت نہیں ہے ، یوروپی ممالک جنکے پاس طاقت ہے وہ بھی اس مرض سے لڑنے میں ناکام ہے ، اسکو روکنے کے لئے تین اسٹیج ہے ایک ہے آئسولیشن ہوتا ہے اور تیسرا مرحلہ وینٹی لیٹر کا ہوتا جو بہت خطرناک ہے کیوں کے ہمارے پاس آج وینٹی لیٹر نہیں ہے اس لئے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ آج ہم سب اپنے آپ کو  کورونا وائرس کا مریض سمجھیں ، اگر ہم ایسا کرینگے تبھی ہم اس مرض سے لڑ سکتیں ہے ہمارے رشتےداروں اور بچوں سے دوری رکھ سکتے ہے ، بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے ، گھروں میں قید ہو جاؤ ، آج انڈیا تھرڈ اسٹیج میں پہونچ چکا ہے ، شہر کے سبھی ذمہ دار اپنے اپنے علاقوں میں عوام میں بیداری پیدا کریں ، اور عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کریں اور وائرس سے بچنے کے طریقے بتاۓ ،بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے دور رہیں ، کورونا وائرس کی علامت میں سب سے پہلے بخار ہوتا ہے دوسرے دن کھانسی ہوتی ہے اسکے بعد تیز بخار ہوتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے ان علامات میں سے کوئی علامات ہوتی ہے تو فورا اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں ، مالیگاؤں شہر سے مریض پائے جانے پر انکا ٹرانسپورٹیشن نہیں کر سکتے کیوں کی اسکے لئے مریض کے ساتھ جانے والے ڈاکٹر و نرس کے لئے سوٹ ہمارے پاس نہیں ہے ، ضروری انتظام نہیں ہے ، اگر آج نہیں سمجھے تو یہ بات سمجھ لیں کے آپ پیسوں سے علاج خرید نہیں سکتے ، ہمیں یہ یقین ہے کے اللّه نے بیماری بھیجی ہے تو اسکا علاج بھی دیا ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کے آپ اتنے بے خوف ہو جاۓ کے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کو داؤ پر لگا دیں ،اسپتال جاری رہے گے مگر اس میں صرف ایمرجنسی سہولیات ہی چلائی جاۓ گی ، جنرل پریکٹیشن کو بھی اسکی ھدایت دے دی گئی ہیں ، مالیگاؤں میں کورونا وائرس کو ٹیسٹ کرنے کا کوئی سینٹر نہیں ہے ، ناک کا بہنا ، چھینک کا آنا کورونا وائرس کا حصہ نہیں ہے ، مہاراشٹر میں صرف دو ہی اسپتال ہے جہاں پر کورونا وائرس کا علاج جاری ہے ، کورونا وائرس ہوا میں نہیں رہ سکتا ہے وہ صرف زمین اور انسانی باڈی پر ہوتا ہے ،ڈاکٹر فیضی نے کہا کہ میں چاہونگا کے مالیگاؤں میں ندی کے اس پار جو ماحول ہے اس پر ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے ، آج سنگمشور اور موسم پل سے گزرنے والے راستوں پر بریکٹ لگا دیا گیا ہے کیونکی ہمارے نوجوانوں پر کوئی پکڑ نہیں ہے ، بطور علاج اسباب کو اختیار کرنا بہت ضروری ہے ، یہ اللّه کا فضل و کرم ہے کے آج ایک بھی کیس مالیگاؤں میں نہیں اگر ایک کیس بھی آگیا تو کیا تباہی ہوگی آپ سوچ بھی نہیں سکتے ، اس لئے احتیاط علاج سے بہتر ہے ، بڑے  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے ہمارے سماج میں شہری ذمہ داری نہیں ہے ، لوگ سڑکوں پر کھڑے رہ کر تبصرے کرتے ہے ، آج ضرورت ہے کے ہمیں اپنوں سے دوری رکھنا چاہیئے لیکن دل ملا کر جسم کی دوری بنانا چاہئے ،مولانا عبدالحمید ازہری نے کہا کہ بیماریوں سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہیے یہ ایک خطرناک بیماری ہے جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے ، ہمیں اس سے بچاؤ کی  پوری پوری کوشش کرنی چاہیئے ، محکمہ صحت کی جانب سے جو ھدایت دی جارہی ہے اس پر شریعت کی روشنی میں جہاں تک عمل کر سکتے ہے کرنی چاہیئے ، میں بحثیت ایک عالِم دین کے یہ صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کے آج مناسب نہیں ہے کے مسجدوں میں بہ جماعت نماز ادا کرنے میں پابندی لگانے میں یا احتیاط طور پر لوگوں کو روکنے کے ، ہاں اتنا کہونگا کے جمعہ کا خطاب بند کر دیا جاۓ یا اسے مختصر کردیا جائے ، اور سنّت نوافل کا اہتمام گھروں میں کیا جاۓ ، وزیر اعلی نے جو تقریر کی ہے اس میں پوری ریاست میں مسجد مندر گرو دورہ گرجا گھروں کو بند کرنے کی بات نہیں کی گئی ، کورونا وائرس سے بچنے کی جو تدبیر ہے اس میں مسجد میں جانے والے وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہے ، میرا انتظامیہ کو مشورہ ہے کے مسجدوں کا معاملہ بہت حساس ہے اس میں آپ نا بولیں اس معاملے میں ہم علما کرام فیصلہ لینگے ، ضرورت پڑی تو حالات کے مطابق فیصلہ بھی لیا جاۓ گا ، مگر آج ہم عوام کو ایسا مشورہ دینے کے حالات میں نہیں ہے کے لوگوں کو مساجد میں آنے سے روکا جاۓ ، جتنی بھی احتیاطی تدابیر ہے اس پر عمل کرنے کا میں شہریان کو مشورہ دیتا ہوں ،رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی نے کہا کہ کسی انسان کی جان اللّه کے نزدیک اس کے گھر سے بڑھ کر ہے ، آج بیماری ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے اس لئے آج ہمیں احتیاط کی سخت ضرورت ہے ، ہمارا شہر 6 لاکھ سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہر ہے اس شہر میں وائرس سے متاثر افراد کے علاج کے لئے صرف 25 بیڈ کا انتظام ہے ، اگر ہمارے شہر کو بیماری نے گھیرا تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے ، ہم ہمارے مرنے والوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکینگے ، اگر ہم آج اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کررہے ہیں تو  کم سے کم دوسروں کی جانوں کی تو پرواہ کرو ، لوگ اپنے گھروں پر نماز پڑھ سکتے ہے ، آج ہمیں مسجدوں میں کم سے کم وقت میں نماز ادا کرنا چاہیئے ، ہم آج اس وبائی مرض کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں ، ہم نے آج جامعہ  مسجد میں صرف بازار کے افراد نماز پڑھینگے اور جو باہر سے آتے وہ اپنے علاقے کی مسجدوں میں نماز پڑھے ، آج ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے ، 31 مارچ تک دی گئی ھدایت پر عمل کریں ،پرانت آفیسر نے کہا کے آج جو ضابطہ اخلاق کا نفاز ہوا ہے اس میں دودھ ، سبزی ، گوشت ، راشن دکان سمیت انسانی زندگی کے لئے ضروری اشیاء کی دکانیں اور میڈیکل اسپتال ہی جاری رہے گے ، آج حالات بہت خطرناک ہیں ، ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا ہے ، آج جتنے بھی مذہبی مقامات ہے کارخانے ہے سب کو بند کرنے کا حکم آیا ہے ، ہمیں آج کہی تو بھی رک جانا چاہیئے ، آج ہمیں سب کو ایک دوسرے سے الگ ہو جانا چاہیئے ، گھروں میں رہنا پڑیگا ، اگر ہم آج ہوشیار نہیں ہوئے تو 2 ماہ کے بعد ہماری لاشیں بھی کوئی اٹھانے والا نہیں ہونگا ، اس بیماری میں ہمارے پھیپڑوں پر اثر ہوتا ہے جس کے لئے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے مگر ہماری ریاست میں صرف تین سے چار ہزار ہی وینٹی لیٹر ہے ، اور مالیگاؤں میں صرف 15 سے 20 وینٹی لیٹر ہی ہے اگر تیس مریض مل گئے تو کیا ہوگا آپ جان لیجئے ،  جتنے وینٹی لیٹر ہیں اتنے ہی مریضوں کو علاج مل پاۓ گا ، ہر شخص کو گھر پر ہی ہے ہمیں تھوڑی تکلیف اٹھانا ہوگی اپنے لئے اپنے اہل و عیال کے لئے رہے گا ، شہریان کے لئے 2 ماہ کا راشن بھی انتظامیہ کی جانب سے دیا جاۓ گا ، ایڈیشنل ایس پی نے کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان تیسری اسٹیج میں پہونچ گیا ہے ، اگر ہم نے احتیاط نہیں کیا تو یہ بیماری نہ تو تعلیم یافتہ شخص دیکھی گی نہ ہی عام آدمی دیکھی گی ، ناسک ضلع میں دفعہ 144 کے ساتھ سڑکوں پر عام افراد کے گھومنے پھرنے پر بھی پابندی لاگو کر دی گئی ہے اگر ہمیں کوئی شخص بلا ضرورت کھومتا پھرتا نظر آیا تو  اس پر ہمیں قانونی کاروائی کرنا پڑے گی ، آج سے عوام کو اب صرف گھر پر ہی رہنا ہے ، اگر آپ چاہتے ہے کے آپ کے گھر والے آپ کے شہر والے اس بیماری سے محفوظ رہے اسکے لئے آپ کو گھروں میں رہنا ہوگا جب تک ان حالات سے ہم نکل نہیں جاتے ، ہمیں کم سے کم آپس میں ایک میٹر کی دوری رکھنا ہوگی ، آپ انتظامیہ کا تعاون کریں ، اگر آپ نہیں مانے گے تو مجبورا پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا ، یہ وقت پیسے بنانے کا نہیں ہے بلکی اپنوں کی جان بچانے کا ہے ، ضروری اشیاء کی دکانوں کو چھوڑ کر ، ہوٹل ، پان دکان ٹھیلہ گاڑی سمیت سبھی دھندہ کاروبار بند رکھے اور گھروں میں محفوظ رہیں ، جو انتظامیہ کہہ اس پر آپ کو فورا عمل کرنا ہے ، جب تک عوام کا تعاون نہیں رہے گا ہم اس بیماری سے نہیں لڑ سکتے ہیں ۔شہریان قانون اور دی جارہی ھدایت پر عمل کریں ، غیر ضروری طور پر سڑکوں ، چوک چوراہوں پر نہ کھڑے رہے ، بنا ضرورت کسی دوسرے علاقوں کا دورہ نہ کریں ورنہ آپ پر قانونی کاروائی ہوگی ، انتظامیہ نے دفعہ 144 کے ساتھ عام افراد کو گھومنے پھرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے ، اب شہر میں ضروری قرار دی گئی اشیاء کی دکانیں ، میڈیکل ، اسپتال ، پیٹرول پمپ کے علاوہ کوئی دوسری دکانیں کھلی نہیں رہے گی اگر عوام نے ھدایت پر عمل نہیں کیا تو انکے خلاف ضلع کلکٹر کے حکم کے خلاف ورزی کرنے کا مقدمہ درج کیا جائے گا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے