دہلی : وکلاء کا مظاہرہ شروع، عدالت کے سارے دروازے بند، خودکشی کی بھی کوشش
نئی دہلی : 6 نومبر : دہلی پولس کے ذریعہ وکلاء کے خلاف کئے گئے مظاہرہ کے بعد اب وکیلوں نے بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہرہ کرنا شروع کر دیئے ہیں۔وکیلوں نے پہلے روکنی کورٹ اور پھر ڈاکیے کورٹ کے باہر مظاہرہ کررہے ہیں۔ ساکیت کے وکیلوں نے عدالت کے سبھی دروازے بند کردیئے ہیں۔جس کی وجہ سے کام کاج ٹھپ ہوگیا ہے۔بار کونسل آف انڈیا نے وکیلوں سے احتجاج کرنے سے منع کیا تھا لیکن وکلاء نہیں مانے۔
اس سے قبل روہنی کورٹ کے باہر مظاہرہ کررہے ایک وکیل نےخودکشی کی کوشش کی ہے۔خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کرنے والے آشیش چودھری کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنے وقار کی بحالی کیلئے کررہا ہے۔ خیال رہے کہ دہلی کی تیس ہزاری کورٹ کے باہر 2 نومبر کو پولیس اور وکلاءکے درمیان جو پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اب وہ شدید بحران کاشکل اختیار کرچکی ہیں۔ تاہم پولیس اہلکاروں کے تمام مطالبات کو ماننے کے بعد ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے پولیس اہلکاروں کا دھرنا ختم ہو گیا ہے۔ مظاہرین وہاں سے ہٹنے لگے ہیں۔
ساتھ ہی صبح سے معطل ٹریفک نظام بھی 9 گھنٹے کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے اپنے اہلکاروں کی تمام مانگیں مان لی ہیں۔ پولیس اہلکار اب ہیڈکوارٹر سے ہٹ کر انڈیاگےٹ پہنچنے لگے ہیں،اب وہاں پر دھرنا شروع ہو گیا ہے۔اس سے پہلے منگل کی صبح سے ہی دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان مظاہرہ اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔ پولیس کمشنر کی جانب سے پولس جوانوں سے مظاہرہ واپس لینے کی مانگ کی گئی ہے، لیکن پولس اہلکار واپس ہٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
اسپیشل پولیس کمشنر آرایس کرشنا نے مظاہرہ کر رہے پولیس اہلکاروں سے گھر جانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے تمام مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس واقعہ میں جو بھی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، ان کا علاج دہلی پولیس کرائے گی۔ ساتھ ہی زخمیوں کو 25 ہزار روپے معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ گزشتہ 10گھنٹے میں 6 سینئر افسروں کی جانب سے مظاہرہ ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
دوسری جانب اس معاملے کو لے کر داخلہ سکریٹری اجے بھللا وزیر داخلہ امت شاہ سے ملے ہیں۔ انہوں نے پولیس اور وکلاءکے درمیان ہوئی پرتشدد جھڑپ کے معاملے کی جانکاری امت شاہ کو دی ہے۔ ساتھ ہی دہلی پولیس ہیڈکوارٹر پر چل رہے مظاہرہ سے بھی آگاہ کیا ہے۔ وہیں، ہیڈ کوارٹر پر مظاہرہ میں شامل ایک پولیس اہلکار بیہوش ہو گیا ہے، جسے اسپتال پہنچایا گیا ہے وہیں جوائنٹ پولیس کمشنر نے کہا کہ آپ کے مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے۔ محکمے کو پتہ چل گیا ہے کہ آپ لوگوں کے کیا مسائل ہیں، اس کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار نظم و ضبط کے لئے جانے جاتے ہیں۔ لہٰذا آپ تمام مظاہرے ختم کر دیں، کسی اہلکار پر کوئی ایکشن نہیں ہو گا۔ بتا دیں کہ صبح سے تیسری بار پولیس کے اعلیٰ افسر مظاہرین سے یہ اپیل کر چکے ہیں۔ادھر لیفٹیننٹ گورنر نے بھی پولس اہلکاروں سے امن وشانتی بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com