مالیگاؤں میں جلوسِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاریاں زور و شور سے جاری.
پورا شہر برقی قمقموں اور نت نئی سجاوٹوں سے جگمگا اُٹھا.
عید میلاد کے انعقاد کے سو سال مکمل ہونے پر شہریان میں زبردست جوش و خروش.
جنگ آزادی کی تحریک کو مہمیز دینے والا جشن و جلوسِ عیدِ میلاد اب خالص مذہبی عقیدت کا مظہر.
مالیگاؤں: (رضوی سلیم شہزاد کی خصوصی رپورٹ) / امسال مالیگاؤں شہر میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیوں کا الگ ہی جوش و خروش شہریان میں دکھائی دے رہا ہے. وجہ بھی صاف ہے کہ عید میلاد النبی کا جشن جہاں حضورِ اکرم، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں پوری دنیا میں مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے وہیں مالیگاؤں شہر میں بھی گذشتہ سو سال قبل یومِ ولادتِ محسنِ انسانیت کی خوشی میں جلوسِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء کی گئی. یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں انگریزی حکومت کا ظلم و ستم ہندوستانیوں پر اپنے شباب پر تھا. اسلام کے نام پر نئے نئے فتنے سر اُبھار رہے تھے اور مسلمانوں کا رشتہء محبت کمزور کرنے کی سازشیں رچی جارہی تھیں. برادرانِ وطن کے ساتھ ہندوستان کا مسلمان بھی آزادی کی جنگ میں اپنا لہو، اپنی جان اور مال کی قربانیاں پیش کررہا تھا. ایسے وقت میں شہر مالیگاؤں چھوٹا سا گاؤں سہی لیکن یہاں کا ہر ہندو مسلم شہری مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر، قائد آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی وغیرہ کی ولولہ انگیز تحریکوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا تھا.
سن عیسوی 1919.ء میں مالیگاؤں کے مسلمانوں نے آزادی کے شہری متوالوں کی قیادت کا بیڑا اُٹھایا. انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت یہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھی لڑانے کی ناکام سازش رچی. ایسے حالات میں اُس وقت کے مالیگاؤں شہر کے علمائے اہلسنت اور عمائدین شہر نے بارہ ربیع الاول کو عید میلاد کے جلوس کی ابتدا کی. اور دنیا بھر میں منائے جانے والے ولادتِ مبارکہ کے جشن کو شہری سطح پر مہمیز دی. جس کا مقصد جہاں شہر کے مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت مقصود تھی وہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنا اور جنگ آزادی کے متوالوں میں نئی روح پھونکنا بھی تھا.
سن عیسوی 1919.ء میں نکالے جانے والی اسی تحریک کا اثر تھا کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس نے شہر کے مجاہدین آزادی کے دلوں میں ولولہء جہاد کی لَو کو تیز تر کیا اور سن عیسوی 1921ء میں مالیگاؤں شہر سے انگریزی فوجوں کو مار بھگایا گیا. اور ہندوستان میں مالیگاؤں کے آزادی کے متوالوں نے وہ تاریخ رقم کی کہ اس شہر کو انگریزی غلامی سے آزاد کرالیا گیا اور یہاں کے تاریخی قلعے پر آزاد مالیگاؤں کا جھنڈا لہرایا گیا.
آل انڈیا سُنی جمعیۃ العلماء مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام نکالے جانے والے اس جلوس عید میلاد النبی کو امسال سو سال پورے ہورہے ہیں جس کے سبب مالیگاؤں شہر کے مسلمانوں میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے. پورے شہر کے ہر گلی کوچوں کو دلہن کی طرح سجایا جارہا ہے. سو سال کے بدلتے وقت اور حالات کے مطابق شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی نے اب مالیگاؤں کو وسیع تر کردیا ہے. گرچہ ان سو سالوں میں بنکروں کے اس شہر نے ویسی ترقی نہیں کی جیسا دوسرے شہروں نے کی لیکن شہر نے سو سال گزرنے کے بعد بھی اپنے مذہبی تشخص اور مسلم اکثریتی شناخت کو برقرار رکھا. ہندو مسلم تعلقات کے درمیان کئی بار دراڑیں پیدا کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن یہاں کے امن پسند شہریوں نے ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنادیا.
اس دوران مسلمانوں میں ہی ایک طبقہ ایسا بھی وجود میں آیا جس نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جشن و جلوس کو روکنے کی کوششیں کیں لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے اسے بھی ناکام بنادیا اور یہی وجہ ہے کہ امسال سو سالہ جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زبردست جوش و خروش مسلمانوں میں دکھائی دے رہا ہے. روایات کے مطابق مالیگاؤں سے نکلنے والے جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں لاکھوں افراد نہ صرف عقیدت و محبت سے شریک ہوتے ہیں بلکہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں غریبوں یتیموں مسکینوں اور ضرورت مندوں کی خاموش امداد و اعانت کرکے اسوہء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی مظاہرہ بھی پیش کرتے ہیں.
شہر بھر میں عید میلاد کی نسبت سے جگہ جگہ میلاد النبی کی محفلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے. صبحِ صادق کی اُس خاص گھڑی میں جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خاکدانِ گیتی پر تشریف آوری ہوئی، مسلمان اس وقت محفل نعت و سلام اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کہ یہ قبولیت دعا کی خاص گھڑی ہے. بچے بوڑھے جوان مرد و عورتیں ایکدوسرے کو ولادت مبارکہ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں. جلوس میں شامل علما و عمائدین اور شہریان کا جگہ جگہ استقبال کیا جاتا ہے اور شیرینی تقسیم کی جاتی ہے.

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com