بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہم قبول کریں گے: الحاج محمد سعید نوری


بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہم قبول کریں گے:  الحاج محمد سعید نوری

ناگپور :2 نومبر (پریس ریلیز) ملک بھر میں مختلف تنظیمیں اپنے اپنے طور پر رفاعی فلاحی مذہبی ملی خدمات انجام دیتی ہیں
انہیں مذہبی تنظیموں میں رضا اکیڈمی بھی اپنی خدمات کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے
مذکورہ تنظیم کے سربراہ قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب
جو کہ مسلمانوں کی زبوں حالی پر ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر کوئ ناگہانی حادثات رونما ہوتے ہیں آپ فوری طور پر پہونچ کر  متاثر ین  پریشاں حال لوگوں کی مدد کرتے ہیں
ملکی سطح پر اس وقت سب سے زیادہ موضوع بحث
بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری نظر رکھتے ہوئے آپ پیغام امن لیکر اوڈیشہ کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں دوران سفر مختلف جگہوں کے نمائندہ افراد نے اسٹیشنوں پر پہونچ کر مختصر وقت میں آپ سے تبادلہ خیال کیا
بھساول کے سر کردہ افراد سے ملاقات کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے چئیرمن
الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ
اس وقت ملک بھر میں آر ایس ایس لابی کی طرف سے نفرت پھیلائی جارہی ہے
جس کی وجہ سے اب تک نہ جانے کتنے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
لہذا ہمیں ان فرقہ پرست طاقتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے
آپ نے مزید کہا کہ بھساول و قریب کے اضلاع میں توجہ رکھیں کہ کہیں قادیانی مشینری خفیہ طور پر سرگرم عمل تو نہیں ہے
جس کی سرکوبی اس وقت  سب سے زیادہ اہم ہے
کیونکہ یہ فرقہ اب دھیرے دھیرے مہاراشٹر کے ناخواندہ علاقوں میں پہونچ کر عقیدہ ختم نبوت سے منحرف کرنے میں لگا ہے
بھساول کے بعد جیسے ہی آپ ناگپور پہونچے
وہاں پہلے سے ہی موجود الحاج محمد یاسین نوری ودیگر حضرات نے آپ کا استقبال کیا
دوران گفتگو
رضا اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری مجاہد عصر حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ آج اتحاد اہلسنت کی ضرورت ہے
کیونکہ آج ملک میں جس طرح سے فسطائ طاقتیں سر ابھار رہی ہیں
یہ ملک کے لئے  بہتر نہیں ہے
آج وسیم رضوی جیسا دریدہ دہن شخص جس نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں خباثت کی ہے
مختلف جگہوں پرکیس درج ہونے کے بعد آزاد گھوم رہا ہے
یہ سب آریس ایس کی ملی بھگت ہے تاکہ مسلمانوں کے  مذہبی   جذبات سے چھیڑا جائے

لہذا ہم مسلمانوں بھی بھی منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے
حاجی محمد یاسین صاحب نے نوری صاحب کی طرف سے جاری تاجدارِ ختم نبوت تحریک پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں جس طرح سے خفیہ طور پر قادیانیت سرگرم عمل تھی رضا اکیڈمی کی نے تحریک چلاکر ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیئے

ناگپور کے بعد رائے پور میں بھی وہاں کے سرکردہ شخصیات نے قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب سے ملاقات کی

یہاں پر بھی نوری صاحب نے کہا کہ بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا ہم قبول کریں گے
اگر فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر بابری مسجد کے حق میں آیاتو بھی ہم اپنے رب کا شکر ادا کریں گے
نہ کوئ جشن منائیں گے نہ ہی کوئ تقریب
اگر ایسا نہ ہوا تو بھی ہم صبر کا دامن تھامے رہیں گے
آپ نے مزید کہا کہ جولوگ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر فیصلہ مسجد کے حق میں آیا تو بھی ہمیں وہ جگہ دوسرےفریق کو دے دینا چاہیے
وہ لگتا ہے کہ حکومت کی چاپلوسی کررہے ہیں
لہذا ہمیں ایسے سوداگروں سے ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہے

آپ نے آخر میں سبھی جگہوں پر یہ اپیل کی  کہ وہ بابری مسجد کے فیصلے پر صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے
ہوسکتا ہے کہ فیصلے سے پہلے
فرقہ پرست تنظیمیں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں
ایسے حالات میں ہمیں دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
ملک میں پر امن ماحول بناکر رکھنے کی ضرورت ہے
رضا اکیڈمی وفد میں
حضرت مولانا محمد عباس رضوی صدر آل انڈیا مساجد کونس
قاری عبد الرحمٰن ضیائی
سربراہ دارالعلوم حاجی علی خانقاہ قادریہ گوونڈی شامل ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے