بین الاقوامی اجتماع اورنگ آباد سے متعلق مسافر کے تاثرات







*بین الاقوامی اجتماع  اورنگ آباد سے متعلق مسافر کے تاثرات*

✍حکیم محمد شیراز، ریسرچ آفیسریونانی (سائنسداں) و لکچرر شعبۂ معالجات آرآرآئی یو ایم ،کشمیر یونیورسٹی ، سری نگر، کشمیر۔
مورخہ:  ۸ ۲.فروری؍ ۲۰۱۸ع        
۱۱؍ جمادی الآخر؍۱۴۳۹ھ

        *تمام تعریفیں* اس پاک پروردگار کے لئے ہیں جس نے مسافر کو بین الاقوامی  تبلیغی اجتماع  ؍اورنگ آباد،   میں شرکت کا موقع عنایت فرمایا ۔تاہم  ایک  بات  راقم السطور واضح کرنا چاہتا ہے کہ ہوا کے دوش پر( دوران سفر _بمبئی سے سری نگر)  یہ چند الفاظ جو  یہاں رقم کئے جارہے ہیں کسی کی عقیدت میں نہیں بلکہ بصیرت  سے لکھے جارہے ہیں۔جو  لوگ کسی وجہ سے اس مثالی اجتماع میں  شرکت  نہ کر سکے  انھیں کیسے بتایا جائے کہ  اس اجتماع کا سماں کیسا تھا؟

؎  *اے رہین خانہ ! تو نے وہ سماں دیکھا نہیں*
*گونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیل*

     یوں تو اس نوارانی اور روحانی  اجتماع کی گونج  ، پچھلے کئی ماہ سے   عالم کے کونے کونے میں سنی گئی  مگر اس اجتماع  میں  کام کرنے والے ساتھیوں کی شبانہ روز محنتیں ، ان کا مخلصانہ  تعاؤن  نیز لوگوں کا اقطار عالم سے کھنچ کھنچ کر اجتماع گاہ میں پہنچنا ،اجتماع کی مقبولیت پر عادل گواہ ہے۔اللہ کرے کہ مقبولیت کا معاملہ قبولیت تک پہنچے،گوش کا معاملہ ہوش تک پہنچے، صلاحیت ، صالحیت تک پہنچے ، معلومات ،معمولات تک پہنچے۔استدلالی باتیں کشفی ہو جائیں ، اجمالی باتیں تفصیلی ہو جائیں۔آمین۔
           ایک ہفتہ پہلے ہی مسافر،  جب بمبئی ایر پورٹ پر اترا تو اس  نے عروس البلاد؍ بمبئی سے شہر ِعالمگیر ؒ ؍اورنگ آباد کی جانب لوگوں کو جوق در جوق ، قافلہ در قافلہ  اجتماع گاہ کی جانب رواں دواں دیکھا۔گویا ’’سارے راستے اجتماع گاہ کی طرف‘‘ ۔کا سماں رہا۔اخبارات کی رپورٹ کے مطابق دعا کے دن مہاراشٹر کے شہروں میں ’ہو‘ کا عالم رہا۔دکانوں پر بند کی نوٹس آویزاں نظر آئیں۔اردو میڈیم اسکولوں میں سرکیولر جاری کر تعطیل کر دی گئی۔
راقم السطور ،۲۴؍ فروری؍ کوجب اجتماع گاہ میں پہنچا تو   چو طرف ہدایت کے طلب گار انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آیا ،الحمدللہ! ثم الحمدللہ! نسبت الٰہی بالآخر غالب آئی ۔بنا بریں ہمارے بزرگوں نے ایک کامل نسبت ہماری طرف منتقل فرمائی ہے۔اللہ پاک انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ہم اور ہماری نسلیں ، ان کی اور ان کی نسلوں کی ساری زندگی بھی چاکری کریں تو ان کے احسانات کا بدلہ نہیں ادا ہو سکتا۔بلا شبہ اللہ کی طاقت کے بعد سب سے بڑی طاقت  اہل ایماں کا اتحاد ہے،باطل کی صفوں میں انتشار اور ارتعاش جس کا ادنیٰ ثمرہ ہے جو اس اجتماع کے نتیجہ میں محسوس ہوا۔مفکرین اور مورخین میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ تاریخ ِدعوت و عزیمت  میں اس اجتماع کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اپنے شعور و تعقل کے زمانے سے آج تک اس کام سے جو واقفیت رہی ہے  اور جو چھوٹے بڑے اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا اس بنیاد پر یہ کہنے کی جرات کی جاتی ہے کہ مسافر نے اپنی زندگی میں ایسا عظیم الشان  اور روحانی اجتماع نہیں دیکھا۔

معتبر ذرائع اور اہلیانِ اورنگ آباد کے مطابق چار بر اعظموں کے لوگوں نے اس اجتماع میں شرکت کی۔۴۰؍ مخصوص طیارے مختلف ممالک کے اورنگ آباد ایئر پورٹ پر اترے۔چلے کی چار ہزار جماعتیں اور چار ماہ کی سینکڑوں  جماعتیں مع امیر و مامور کے اللہ کی راہ میں نکلیں۔۳؍ ہزار کے قریب نکاح ہوئے۔قصہ مختصر یہ کہ اس اجتماع نے بر صغیر میں ایک انقلاب برپا کر دیا  ۔بنا بریں اتنی بڑی قربانی کا کوئی دوسرا محرک ہو ہی نہیں سکتا، سوائے اللہ کی محبت کے۔دل نے اس بات کی تصدیق کی کہ  بے شک!  جتنا اللہ کو یاد کیا گیا، جتنا اللہ کی محبت میں  آنسو بہائے گئے، جتنا اللہ کے نام پر جانیں واری گئیں ، جتنا اللہ کے نام پر مال خرچ کیا گیا،کائنات میں ایسی کوئی دوسری ہستی نہیں۔ *بے شک اللہ بہت بڑا ہے*۔
ہمارے بزرگوں کے اندازے کے مطابق اس قسم کے اجتماعات کی برکات بہت زیادہ ہیں۔اہلیان اورنگ آباد کے عوام وخواص کے خدمت کے جذبہ کو دیکھ کر ایسا لگا گویا سر زمین اورنگ آباد اپنی برکتیں اگل رہی ہیں۔اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ﴿ *ولو ان ّ اھل القریٰ امنو واتقو لفتحنا علیھم برکاتٍ من السما والارض*﴾’’اگر یہ قریہ والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم زمینوں اور آسمانوں کی برکتیں ان کے لئے کھول دیتے۔‘‘
وہ نوجوان جن کے دن رات موبائیل اور دیگر لغویات میں بسر ہوتے تھے انھیں اجتماع کے عنوان پر والہانہ خدمت میں مشغول دیکھا۔دیوانہ وار اللہ کی عبادت میں مشغول دیکھا۔ٹریفک کا نظام سنبھالتے نیز بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتے دیکھا۔پیاسوں کو پانی پلاتے نیز بھوکوں کو کھانا کھلاتے دیکھا۔بقول شخصی:

؎ *عشق کو ہم نے جا بجا دیکھا* 
*کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا*
  *کہیں وہ بادشاہ ہے تخت نشیں*
  *کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا*

       ہمارے بڑوں نے درست فرمایا  ہےکہ اوقات کی حفاظت کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے آدمی اپنے آپ کو دعوت وتبلیغ  کے کام میں مشغول رکھے۔
*مولانا  الیاس صاحب  ؒ* یوں فرماتے تھے کہ حضور پاک ﷺ نے صحابہ کرام پر محنت کر کے دو صفات پیدا کی تھیں ، ایک سادگی دوسرے مجاہدہ ۔ایسی سادہ زندگی کہ امیر المومنین ہیں عمرؓ ۔خلافت میں خطبہ دے رہے ہیں کپڑے میں سترہ پیوند لگے ہوئے ہیں لنگی میں بارہ لگے ہوئے ہیں  ایک چمڑے کا بھی لگا ہوا ہے۔اور ایسی مجاہدانہ زندگی ،امین امت ابو عبیدہ بن جراح ؓ سریۃ العنبر میں تین سو صحابہ کے ساتھ سوکھے پتے پانی  میں بگھو کر کھا رہے ہیں۔ان کے اور ہمارے دشمنوں نے سادگی کو فیشن سے بدل دیا اور مجاہدے کو عیش سے بدل دیا۔اس کام کی برکت سے جماعتیں، فیشن اور تعیش کے مراکز پر جاکر انھیں دعوت دے رہی ہیں کہ اگر سادگی اور مجاہدہ کو سیکھنا ہے تو ہمارے ساتھ جماعتوں میں چلو۔اس لئے کہ دین زندگیوں میں سادگی اور مجاہدے کے راستوں سے آتا ہے۔الحمدللہ! اس اجتماع میں یہ بھی دیکھا کہ وہ لوگ جو اے سی کے بنگلوں میں رہتے ہیں، اے سی کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں ، اے سی کی آفسوں میں رہنے کی جن کی عادت ہے وہ دین کی نسبت پر اجتماع میں دھوپ میں بیٹھ کر دین کی بات سن رہے تھے۔غبار آلود اور پراگندہ بال تھے۔چونکہ دین سیکھنا ہے اس لئے سادگی اور مجاہدہ کو اختیار کرنا پڑے گا۔حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ’ اللہ کے بعض بندے ، غبار آلود پراگندہ بال، لوگوں کے در  سے دھکے دیئے ہوئے کسی بات پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے‘ کے مصداق  لوگ اس اجتماع میں نظر آئے۔
مولانا سعد صاحب دامت بر کاتھم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’دعوت کی محنت مسلمانوں نے چھوڑ دی ہے  اسی سبب عالمی سطح پر وہ مایوسی کا شکار ہیں ۔دعوت کی محنت سے ایمان قوی ہونے کے ساتھ اللہ کا دین عام ہو گا۔لوگ اس کی جانب رجوع ہوں گے۔‘‘غرض وہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، اس کی قدرت کن فیکون ، اس کے بلا شرکت غیرے پورے نظام عالم کو چلانے ، اسباب کی بے حقیقتی، خواص اشیا ء اور انسانی تجربات کی بے اعتباری ، محسوسات  و مشاہدات کی  نفی ، احکام الٰہی اور نظام تشریعی کے سامنے نظام تکوینی کی سپر اندازی و مغلوبیت ، ایمانی صفات و اخلاق اور اطاعت و عبودیت کے سامنے وسائل و ذخائر کی بے حقیقتی ، حاملین نبوت اور اہل ایمان و دعوت کا ارباب اقتدار ، اہل حکومت اور سرمایہ داروں کے مقابلہ میں فتح و غلبہ ، خدا کے وعدوں کی ابدی  صداقت اور سنۃ اللہ کی ہمہ گیری کا مضمون اپنی پوری ایمانی قوت اور اپنے والہانہ انداز بیان  کرتے ہوئے نظر آئے۔مقررین چھ صفات، اخلاص و استخلاص، دعوت الی اللہ ، خروج فی سبیل اللہ، انفاق فی سبیل اللہ  اور امن و اتحاد کے موضوع پر بات کرتے ہوئے نظر آئے۔
آخری دن جب مولانا سعد صاحب  نے دعا فرمائی تو ہر طرف آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا۔اس اجتماع میں بڑے رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس اجتماع کو قبول فرمائے ۔اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کے جان مال عیال ایمان اعمال آبرو عزت کی حفاظت فرمائے۔ نیز ان کے نکلنے کو قبول کر سارے عالم میں عموماً  سیریا و فلسطین اور کشمیر میں خصوصاً امن امان قائم فرمائے۔نیز آخرت میں ہمیں بخشے ہوئے گنہگاروں کی صف میں کھڑا فرمائے۔اپنی محبت کے بے پایاں اور بے کراں سمندر سے شراب الفت کا ایک  قطرہ  ہم مہجوروں اور فرقت زدوں کےدلوں میں بھی ٹپکا دےتو ہمارے نصیب جاگ اٹھیں۔آمین۔

*مشکلیں  امت مرحوم کی آساں کر دے*
*مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کردے*
*جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے*
*ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے*






ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے