مالیگاﺅں میں سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ اجتماع میں لاکھوں عشاق کی شرکت،رقت انگیز دعا پر اختتام
فکر رسول کی سنت کو زندہ کریں،آج مسلمانوں کے عالمی بحران کا سبب خود غرضی اور مفاد پرستی ہے ۔علامہ شاکر علی نوری
قرآن مقدس نے انسان کو تاج کرامت عطا فرمایا ہے: علامہ قمرالزماں خان اعظمی
مالیگاؤں (بذریعہ زاہد بیباک )
اللہ تعالی نے قرآن میں سینکڑوں مقامات پربراہ راست انسانوں سے خطاب کیاہے اور انہیں اپنی زندگی کے نصب العین کوکتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کاحکم دیاہے۔انسان کیا ہے ؟ہم کون ہیں؟ہم کیا چاہتے ہیں؟ اور قرآن اس کا کیا جواب دیتا ہے؟ ہمارے ذہنوں میں کیا سوال اٹھتے ہیں اور ان کے جواب ہمیں کہاں سے لینے ہیں؟ اصل میں انسان کی شخصیت کا پہلا مسئلہ ہی اس کے اندر سے اٹھنے والے سوالوں کا صحیح جواب ملنا ہے۔ سوال ہی انسانی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کا اندازِ سوال ہی اس کی مطلوب منزل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ان فکر انگیز کلمات کا اظہار مفکر اسلام علامہ قمرالزماں خاں اعظمی صاحب (سربراہ اعلیٰ الجامعة الاسلامیہ،روناہی)نے ۲ مارچ بروز جمعہ ۸۱۰۲ءکو بعد نماز عشاءمالیگاﺅں میں منعقدہ دو روزہ اجتماع کے آخری دن لاکھوں سامعین کی موجودگی میں کیا۔علامہ اعظمی نے فرمایا کہ قرآن مقدس نے انسان کو تاج کرامت عطا فرمایا ہے ۔ہر باشعور انسان سب سے پہلے اپنی زندگی پر غور کرتا ہے کہ کیا مقصد ہے اس کا؟ اور پھر موت بھی زندگی کا حصہ کیوں ہے؟ سب کے ذہنوں میںیہ سوال آیا ہوگا لیکن اگر سائل کو جواب کی سچی طلب نہ ہوگی تو اُسے جواب کا ادراک بھی نہ ہوگا۔ قرآن پاک نے اس سوال کا جواب دیا،کئی مقامات پر دیا مگرافسوس !عربی سے نا واقفیت اور قرآن سے غفلت کے سبب بہت سے افراد اب تک اسے سمجھنے سے بہت دور ہیں علامہ اعظمی کے بعد داعی کبیر حضرت علامہ محمد شاکر نوری صاحب (امیر سنّی دعوت اسلامی)نے ”فکر امت اور ہماری ذمہ داریوں “پر انقلاب آفرین خطاب فرمایا۔آپ نے کہا کہ فکر امت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت ہے ،اسی سنت پر صحابہ،تابعین ، تبع تابعین ،اولیاے کرام اور اسلاف کرام عمل کرتے رہیں،آج خود غرضی اور مفاد پرستی کا ماحول بن چکا ہے اس لیے عراق،یمن،ایتھوپیا،برما،فلسطین ،سریا اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے حالات دگر گوں ہو چکے ہیں،جب تک مسلمانوں میں امت کی فکر تھی ایک جانور بھی پیاسا نہیں مرتا تھابلکہ ایک خارش زدہ جانور کے مرنے کے خوف سے امیر المومنین لرز جاتے تھے۔آپ نے قرآن مقدس کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: ”اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا۔“دیلمی مسند الفردوس میں امیر المو ¿منین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی ہیں جب یہ آیت اتری تو حضور شفیع المذنبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ مجھ کو راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے، تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا“۔ مولاناموصوف نے قرآن واحادیث کی روشنی میں فکر اُمت کے حوالے سے انقلاب آفریں خطاب فرمایا۔مختلف احادیث کے ذریعے مولانا موصوف نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر کو اجاگر کیاجیسے :سوراخ میں پیشاب نہ کریں تاکہ کوئی موذی جانور ایذا نہ پہنچا دے، بغیرمنڈیر( بارڈر) والی چھت پر سونے سے منع کیا گیاتاکہ نیند میں نیچے نہ گر جائے،مزید فرمایامونچھوں کو پست کرو اور داڑھی کو بڑھاﺅ۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر مونچھ کے بال پانی میں ڈوب جائے تو اس کے جراثیم پانی میں داخل ہو جائیں گے اور صحت کے لیے مضر ہوں گے۔ایک اور مقام پر فرمایاپانی دیکھ کر پیو تاکہ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جاﺅ،موزے اورجوتے جھاڑ کر پہنو،کہی اس میں کوئی نقصان دہ چیز ہو اور وہ نقصان نہ پہنچا دے۔مالیگاﺅں اجتماع سے پیغام دیتے ہوئے امیر سنّی دعوت اسلامی نے فرمایا کہ مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں پیدا کرے،غریبی کے خاتمے کی کوشش کریں،سرمایہ دار تعلیم کے پیچھے خرچ کریں،بیواﺅں اور یتیموں کا خیال کریں،سوسائٹی میں فلاح وبہبود کا کام کریں،سواد اعظم اہلسنّت وجماعت کی عالمگیر تحریک سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مالیگاﺅں میں جاری دو روزہ سنّی اجتماع کے دوسرے دن کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔نعت ومنقبت کے بعد مبلغین کے بیانات ہوئے،مولانا امتیاز رضوی (بھیونڈی)نے سجدہ ¿ سہو کے مسائل سے حاضرین کو آگاہ کیا ،مولانا سید محمد قادری (جے پور)نے اصلاح معاشرہ پر پُر مغز خطاب کیا۔عالمی شہرت یافتہ نعت خواں قاری محمد رضوان خان صاحب (ممبئی)نے اسلامی علوم وفنون اور سائنسی حقائق پر علمی وتحقیقی گفتگو پیش کی،آپ ہی کی اقتداءمیں لاکھوں حاضرین نے نماز جمعہ ادا کی۔نماز جمعہ کے بعد بلبل باغ مدینہ قاری ریاض الدین اشرفی (ممبئی)نے اپنی خوش الحان آواز میںقرآن پاک کی تلاوت کی اور نعتوں کا حسین گلدستہ پیش کیا۔مولانا خالد ایوب مصباحی شیرانی (ایڈیٹر ماہنامہ احساس)نے ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے گئے ظلم وستم “کے عنوان پر اثر آفریںخطاب میں فرمایا۔مفتی صاحب نے دوران خطاب فرمایا:سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بسر کرنے کا ایک بہترین اور جامع تحفہ ہے۔اسلام کے حیرت انگیز سرعت سے پھیلنے کا راز داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسن اور آپ کی دعوت کے کمال میں پوشیدہ ہے۔ آپ کے غلاموں نے اس راز کو پا لیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو اس نمونہ ¿ کمال کے سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی تھی اور وہ سنتوں کے عملی پیکر بن کر اکناف عالم میں پھیل گئے اوردین کو غالب کیا۔آپ کے بعد حافظ محمد امین رضوی (سورت)نے اصلاح معاشرہ پر فکر انگیز خطاب کیا۔
مولانا انصار رضا (جے پور)نے ”توبہ کی اہمیت وضرورت“پر خطاب کیا،مولانا موصوف نے اپنے ملفوظات میں فرمایا:ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو گناہ کر کے بے باکی سے زندگی گزارتے ہیں اور توبہ کی طرف مائل نہیں ہوتے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ موت کے آثار نمودار ہونے سے پہلے توبہ کر لینی چاہیے، ورنہ نزع کے عالم میں ہزار مرتبہ بھی کہےںکہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو گی اس لیے کہ یہ توبہ اضطراری ہے اختیاری نہیں، لہٰذا گناہوں پہ مصر رہنے کی بجائے توبہ پر عجلت کریں،ہمارا مولیٰ کریم ہے وہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا۔آپ نے مختلف احادیث واقوال اور واقعات کی روشنی میں توبہ کی افادیت کو اُجاگر کیا۔اختتام پر آپ نے کہا کہ ہم کو اپنی توبہ کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کیسی توبہ کرتے ہیں؟ اگر ہماری توبہ توبہ ¿ نصوح ہو تو اس کے لیے ہم کو سابقہ گناہوں سے اجتناب کی ضرورت ہے بلکہ کبھی بھی ان گناہوں کی طرف نہ پلٹیں تاکہ مولیٰ کے فرمان پر صحیح طور پر عمل ہو سکے۔
بعد نماز عصر سوال وجواب کا کھلا سیشن ہوا جس میں سراج الفقہاءمفتی نظام الدین رضوی (شیخ الحدیث مبارک پور اشرفیہ)نے شریعت کی روشنی میں سامعین کے سوالوں کے جوابات دیے۔بعد نماز مغرب مالیگاﺅں کے نگراں مولانا سیدمحمد امین القادری نے حالات حاضرہ پر خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ آج مسلمانوں کے مصائب وآلام کی بڑی وجہ فرمان نبی سے روگردانی اختیار کرناہے،جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹیلے پر صحابہ کرام کو متعین فرمایا تھا مگر وہ سہو کے سبب نیچے اتر آئیں،یہ پہلی جنگ تھی جس میں کثیر تعداد میں مسلمان ہلا ک ہوئے۔مولانا موصوف نے اسلامی تاریخ کے حوالے سے فرمایاکہ قوموں پر اسی وقت زوال آتا ہے جب وہ قوم نبی ورسول سے دور ہو جاتی ہے۔نماز عشاءبعد صلوٰة وسلام اور رقت انگیز دعاپر اجتماع کا اختتام ہوا۔


0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com