طلاقِ ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کاپورے ملک میں احتجاج یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے : مولانا محمد ولی رحمانی صاحب
نئی دہلی: ۲۳؍مارچ ۲۰۱۸ء (پریس ریلیز)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکی آواز پر گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے پورے ملک میں مرکزی حکومت کے مجوزہ طلاق ثلاثہ بل پر ہماری ماؤں اور بہنوں نے جس سرگرمی کے ساتھ تحفظ شریعت کی خاطر شرعی دائرے میں رہ کر پرامن اور خاموش طریقہ پر اپنے گھروں سے نکلیں اور سراپہ احتجاجی جلوس کی شکل میں پیدل چل کر سرکاری آفسوں تک پہنچ کر شریعت پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہونے اور شریعت میں حکومت کو مداخلت سے دور رہنے کے سلسلہ میں اپنی عرضداشت پیش کی ہیں وہ قابل مبارک باد ہیں اور ان کے اس اقدام اور دین متین کی حفاظت و سربلندی کے اس جذبہ کی جس قدر تحسین کی جائے وہ کم ہے ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے کیا، انہوں نے مزید فرمایا کہ خواتین کی طرف سے پورے ملک میں جس پیمانے پر اس احتجاجی جلوس کو منظم کیا گیا یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔ ہم اپنی ماؤں اور بہنوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پر ہر علاقہ میں جو خواتین سرگرم رہیں ان پر مشتمل ایک تحفظ شریعت کمیٹی کی تشکیل کرکے اصلاح معاشرہ کا کام کریں اورجس طرح خواتین نے حوصلہ، جذبہ ہمت اور دین سے وابستگی کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ میں سرگرم حصہ لیا اسی حوصلہ کے ساتھ علاقائی سطح پر بھی تحفظ شریعت کمیٹی کی تشکیل کرکے کام کیا جائے۔
جنرل سکریٹری بورڈ نے فرمایا کہ معاشرہ کی اصلاح اور سماج سدھار کے کاموں پر اس وقت پوری توجہ دینا ضروری ہے اور انہوں نے تمام بہی خواہان ملت سے بھی ہمدردانہ درخواست کی ہے کہ اپنے اپنے علاقہ میں تحفظ شریعت کمیٹی کی تشکیل کرکے اس میدان میں رضاکارانہ طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایتوں اور تجاویز کی روشنی میں کاموں کی انجام دہی کا خاکہ مرتب کرکے فوری کام شروع کردیں۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com