آزادی کے ستر سال بعد بھی ہم پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کا حق دینے میں ناکام فلاحی اسٹیٹ کا تصور مکمل کرنے کیلئے صحیح معنوں میں انصاف کو یقینی بناناہوگا






آزادی کے ستر سال بعد بھی ہم پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کا حق دینے میں ناکام

فلاحی اسٹیٹ کا تصور مکمل کرنے کیلئے صحیح معنوں میں انصاف کو یقینی بناناہوگا 

آئی او ایس کی سہ رورزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا جی ایس کیہر کا خطاب 

(نئی دہلی: (پریس ریلیز

 فطرت کے اعتبار سے انسان میں کچھ بھی مساوات نہیں ہے ،کچھ لوگ کچھ سے بہتر دکھتے ہیں ،کچھ لوگ کچھ کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور وہی لوگ دانشوران کی حیثیت سماج میں مساوات کی بات کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آف انڈیا جگدیش سنگھ کیہر نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی سہ روزہ انٹرینشل کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کیا ۔انہوں نے مزید کہاکہ آزادی کی طر ح مساوات کا تصور بھی آج کی دنیا میں سیاسی آئیڈیل ہے ،1789 میں فرانسیسی انقلاب کی بنیاد بھی آزادی ،مساوات اور بھائی چارگی تھی ،کیوں کہ یہ مظلوموں کی بنیاد تھی جنہیں ستایاگیاتھا اور وہ غیر برابری کی سماجی حالات کی عکاسی کرتاتھا،انہوں نے کہاکہ آزادی کے بغیر مساوات اور بھائی چارے کا تصور بے معنی ہے ۔اسی طرح مساوات ،بھائی چارہ اور آزادی کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہاکہ بھائی چارہ ،آزادی اور مساوت خود مکمل نہیں ہے اگر آپس میںایک دوسرے کا تعلق نہ ہو ،انہوں نے کہاکہ آئین کی دفعہ 14\15\16 بہت اہم ہے کیوں کہ ان کا تعلق بھی مساوات ،انصاف اور بھائی چارے سے ہے ،انہوں نے کہاکہ ایک جج کے طور پر میں نے خود بھی اس کا بہت مطالعہ کیا ہے اور یہ پایا کہ انسان پیدائشی طور پر برابر نہیں ہے ،لیکن برابری کیلئے اس کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے ،ہمارے آئین کے معماروں نے خا ص طور سے سماجی انصاف اور مساوات کو اس کا حصہ بنایا ،انہوں نے کہاکہ آزادی کے ستر سال کے بعد بھی ہم پسماندہ طبقات کو ان کے ریزرویشن کا حق نہیں دے پائے ہیں،اگر ہمیں ایک فلاحی اسٹیج کے تصور کو پورا کرناہے تو صحیح معنوں میں انصاف کو یقینی بناناہوگا ۔مختلف مذاہب کے بیچ آپسی احترام اور محبت کی فکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میری والدہ کی بیماری کے دوران ایک مسلم ڈاکٹر نے ان کا علاج جس طرح کیا اسے میرے ذہن میں مسلمانوں کے تئیں ایک نیک جذبہ پیدا ہوگیا ۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ مساوات کے معانی بدل گئے ہیں،اب یہ برابری کے حقوق ،عام آدمی میں برابری اور حکمرانی کا مقصد وسائل کا صحیح ڈھنگ سے تقسیم ہونا ہے ۔ہمارے ملک میں ایسی تمام قوتیں موجود ہیں جو علاقائیت ،فرقہ واررائیت اور زبان کی بنیاد پر تفریق پیداکررہی ہیں ۔اس لئے آج ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے ملک کی سالمیت پر زور دیں اور بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دیں ۔

واضح رہے کہ معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے 30 مکمل ہونے پر تاریخ کے ذریعہ بہتر مستقبل کی تعمیر کے عنوان سلسلہ وار سمینار کا سلسلہ جاری ہے،تیس سالہ جشن کے تحت اس موضوع پر متعدد شہروں میں چار سمینار ہونے کے بعد پانچواں اور آخری سہ روزہ سمینار کے آغازآج دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب ہوا ۔اس موقع پر آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے آئی اوایس کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ تیس سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقد ہونے والے تمام سمیناروں کا بنیادی موضوع ”ہندوستان کے موجودہ سیاق میں مساوات ،انصاف اور بھائی چارے کی جانب :ایک بہتر مستقبل کی تخلیق “رہا ،یہ تخلیق کس طرح ہوسکتی ہے ،اس کے متعلق ہم نے چار موضوعات منتخب کئے تھے ،بہتر مستقبل کی تخلیق بذریعہ ،تعلیم،بذریعہ قانون،بذریعہ تاریخ اور بذریعہ اسلامیا ت ۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ بنیادی نقطہ ہمارے ذہن میں اس لئے آیاتھاکہ ہم یہ طے کرسکیں کہ ہندوستانی مسلمان ،عیسائی ،دلت اور پسماندہ طبقات کس مقام پر کھڑے ہیں،دستور ہند کی روشنی میں دیکھاجائے تو ان سب کی حالت اچھی نہیں ہے اور دستور انہیں حو حقوق فراہم کرتاہے ،عدل گانصاف ،مساوات اور تعمیرکے جومواقع دیتاہے وہ انہیں پوری طرح حاصل نہیں ہے ۔

 سابق چیف جسٹس آف انڈیا ای احمد ی نے اپنے صدرارتی خطاب میں کہاکہ آئین وہ چھتری ہے جس کے سایے میں تمام مذاہب کے پیروکار رہتے ہیں ہیں۔یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے ولے پیار ومحبت کے ساتھ رہتے ہیں ،حالاں کہ اس ملک میں کثرت میں وحدت کا تصور پایاجاتاہے ۔ہمارا آئین ہر شہری کو برابرے کے حقوق دیتاہے ۔اس سلسلے میں دستور ہند کی دفعہ 14 کا خصوصیت سے تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمیں معاشی برابری کا حق دیتاہے ۔آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں کہاکہ دفعہ 32کا استعمال کرکے ہم اپنے بنیادی حقوق حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس طرح دفعہ 32 از خود آئین کے ذریعہ دی گی بنیادی حق ہے ۔

سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ دفعہ 14\15\16 آئین کی روح ہے اور ایسی صورت میں جب سما ج میں عدم مساوات پائی جاتی ہے تو تو برابری کو یقینی بنانا بیحدمشکل کام ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئین کی دفعہ 16 حکومت کو افر میٹو ایکشن کا حکم دیتی ہے ۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے ملک کے دستور نے ہمیں ایک آزادعدلیہ فراہم کیاہے تاکہ عام لوگوں کو بھی انصاف حاصل ہوسکے ۔

انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھوٹس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عمر حسن کسولے نے کہاکہ ہندوستان میں آج مساوات ،انصاف ،آزادی اور بھائی چارہ پر بحث ہورہی ہے لیکن یہ صرف ہندوستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا موضوع ہے اور اب پوری دنیا میں اس پر بحث ہورہی ہے کیوں کہ دنیا کے سبھی ممالک میں یہاں کے لوگ موجو د ہیں ۔اپنی خدمات سے ان ممالک کی ترقی میں حصہ دار بنے ہوئے ہیں،مساوات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عورتوں مرددوں کی مختلف ذات اور قبیلے میں کئی گئی تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایک سماج کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ہم سے نیچے ہیں ان کو اوپرلائیں تاکہ وہ ملک کے فلاح و بہبود میں حصہ لے سکیں۔انٹر نیشنل اسلامک چیریٹیبل آرگنائزیشن (آئی آئی سی او )کویت کے جنرل اسمبلی کی رکن محترمہ اے رفاہی نے کہاکہ اسلام نے انسان کو عزت واحترام کی دولت سے نوازتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ دی ہے اور بطور انسان کسی کو کسی پر تفریق حاصل نہیں ہے ۔

سمینار کی نظامت کا فریضہ پروفیسر افضل وانی نے انجام دیا جبکہ مولانا عبد اللہ طارق نے قرآن کریم کی تلاوت کرکے مجلس کا آغاز کیا اور آئی او رایس کے فائنینس سکریٹری پروفیسر اشتیاق دانش تمام مہمانان کرام، سامعین ،شرکاءاور صحافیوں کا شکر یہ ادا کیا ۔اس موقع پر معروف عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،آریہ سماج کے لیڈر سوامی اگنی ویش ،ڈاکٹر عبداللہ الہیدان سعوی عر ب،مولانا عبد الحمید نعمانی سمیت متعدد علماء،اسکالرس اور دانشوران موجود تھے ۔

سمینار میں متعدد کتابوں کا اجراءبھی عمل میں آیا ۔آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کی کتاب پریسپیکٹیو سلیکٹیو ۔رائٹنگس آف ڈاکٹر منظور عالم “ کا اجراءجسٹس احمد کے ہاتھوں میں عمل میں آیا ۔آئی او ایس کی تیس سالہ سفر پر مبنی کتاب ” آئی او ایس جرنی آف 30 ایئرس ۔ریجن انسپائرڈ “ کا اجراءپروفیسرحسن کسولے نے کیا ۔پروفیسر عرشی خان کی کتاب ”ایکسکلوزن آف مسلم ان انڈیا ۔پارٹسیپیشن ، ٹورلیرینس اینڈ لیجیٹینی آف دی اسٹیٹ کا اجراءجسٹس کھیر نے کیا ۔اس کے علاوہ بھی کتابوں کا اجراءعمل میں آیا ۔

 واضح رہے کہ آئی او ایس کی سہ روزہ کانفرنس آج شروع ہوکر اتوار کی شام کو مکمل ہوگی ۔اس دران کل 14 اجلاس ہوں گے جس میں ہندوستان،سعودی عر ب ،کویت ،قطر ،ترکی ،بنگلہ دیش ،ساﺅتھ افریقہ ،سری لنکا سمیت متعد د ممالک کے دانشوران اور اسکالرس اپنا مقالہ پیش کریں گے ۔سمینار میں آئی او ایس کے ایگزیبیشن کا افتتاح بھی عمل میں آیا جس میں تیس سالہ سفر کو پروجیکٹر کے ذریعہ پیش کیا گیا











ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے