سرکار تین طلاق بل واپس لے، شریعت میں مداخلت منظور نہیں کے مطالباتی تختیوں کے ساتھ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین اسلام کا ریکارڈ توڑ خاموش مورچہ.
. شہر کی سڑکوں پر لاکھوں خواتین کا اژدہام، حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے
.... سرکار کے دن بھر گئے، تین طلاق پر حکومت مخالف چنگاری اب شعلہ بن چکی، بین المسالک جماعت، سیاسی
پارٹیوں اور ملی، مذہبی، تعلیمی صحافتی و ثقافتی اداروں کا تاریخ ساز اتحاد
مالیگاؤں (زاہد بیباک) مالیگاؤں میں خواتین اسلام کا تاریخی مورچہ شریعت کے تحفظ کے لئے نکالا گیا یہاں صبح سےہی مالیگاؤں کی سڑکوں اور گلیوں سے خواتین اسلام جوق در جوق شہر کی اے ٹی ٹی ہائی اسکول کی جانب بڑھ رہی تھی آخر قبل از وقت ہی اسکول کا کمپاؤنڈ دیکھتے ہی دیکھتے بھر گیا قریب کی مراٹھی اسکول، میڈیا سینٹر، فلٹر پلانٹ اور قدوائی روڈ، امام احمد رضا روڈ، محمد علی روڈ، امبیڈکر روڈ، آگرہ روڈ پر خواتین اسلام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر شریعت کی حفاظت کے لئے امڈ پڑا یہاں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد خواتین اسلام نے شرکت کر مالیگاؤں ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر کے ریکارڈ کو توڑ کر ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تاریخ ساز ریکارڈ درج کر حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا یہاں اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں جمع خواتین اسلام کے جم غفیر سے صدیقی ام کلثوم عبد الحلیم، جماعت اسلامی کی ریحانہ باجی، مالیگاؤں کے رکن اسمبلی آصف شیخ ،مفتی اسماعیل، بلند اقبال، فیروز اعظمی، مفتی حسنین، مولانا عبدالحمید ازہری، شفیق رانا سمیت بین المسالک علماء کرام، سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا دریں اثناء اے ٹی ٹی ہائی اسکول سے نکل کر یہ جلوس مالیگاؤں کے ایڈیشنل کلکٹر آفس پر جلسہ کا رخ اختیار کر گیا یہاں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قومی سیکرٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے مرکز کی نریندر مودی سرکار سے دوٹوک لفظوں میں انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے انہوں نے کہا کہ پلے اپنی بیوی کو انصاف دیا جائے پھر مسلمانوں کی فکر کرنا مولانا عمرین رحمانی نے کہا کہ مرکزی حکومت کا طلاق بل قطعی منظور نہیں ہے طلاق بل سرکار واپس لے یہ مالیگاؤں کی لاکھوں خواتین کا ہی نہیں بلکہ ملک کی کروڑوں مسلم خواتین کا مطالبہ ہے کہ حکومت آئین ہند اور شریعت محمدی صل اللہ علیہ و سلم میں پھیر بدل کرنا بند کرے ہم اسلامی قانون میں ایک نقطہ کی بھی ردو بدل نہیں چاہتے انہوں نے کہا کہ چند زر خرید عورتوں کے کہنے پر اگر سرکار طلاق بل منظور کراتی ہے تو پھر یہ مالیگاؤں کی لاکھوں خواتین کا بھی مطالبہ سن لے ہمیں طلاق بل ہرگز منظور نہیں ہے مولانا نے کہا کہ صدر جمہوریہ اپنا بیان واپس لے مسلم خواتین کے متعلق رام ناتھ کوند کا بیان قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں وومینس ہروٹیکشن میرج ایکٹ واپس لیا جائے آج مالیگاؤں سے نکلنے والے باحجاب خواتینِ اسلام کے خاموش مورچہ کی چنگاری اب آگ بن چکی ہے اس لئے سرکار فوری طور پر اپنا قدم پیچھے کرلیں مسلمان اپنی جان، مال قربان کرسکتے ہیں لیکن شریعت میں مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی یہاں مولانا عمرین نے دعا کی اور ایڈیشنل کلکٹر، پرانت آفیسر کو خواتین اسلام کے ساتھ میمورنڈم پیش کیا گیا جہاں ریحانہ ناجی، طاہرہ شیخ رشید، شان ہند نہال احمد، حفصہ آصف شیخ سمیت مسلم نمائندہ خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنا مذہبی قانون قبول ہے ہم مرکزی حکومت کے فیصلے اور صدر جمہوریہ کے متنازعہ بیان کے خلاف اپنا احتجاج درج کروا کر مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکار طلاق ثلاثہ بل واپس لے خیال رہے اس خاموش مورچہ میں مالیگاؤں کی تقریباً ہر گھر کی خواتین نے اپنی شرکت درج کروائی جس میں 5 سال سے لیکر 95 اور سو سال کی خواتین اسلام کا شمار ہوتا ہے یہاں مالیگاؤں کے میئر شیخ رشید، ایم آئی ایم لیڈر عبدالمالک، ڈاکٹر خالد پرویز، مستقیم احمد ڈگنٹی، صوفی غلام رسول، اطہر حسین اشرفی، بوہرہ جماعت اور جماعت اہل حدیث، شعیہ جماعت سمیت سرکردہ ملی، مذہبی، سیاسی جماعتوں کے علاوہ اسکول، مدارس، اداروں کلبوں نے اپنا تعاون پیش کیا محض دس روز کی محنت نے مسلمانوں کے اتنے بڑے مجمع کو ایک جگہ جمع ہوکر احتجاج کرنے کا ذریعہ محض اس لئے بنایا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کرنے کا صاف اعلان کیا گیا اس موقع پر خواتین کے احتجاج کو کامیاب بنانے والے شہر کے تمام افراد، ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کا شکریہ مولانا عمرین نے ادا کیا














0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com