مالیگاؤں بم دھماکہ :اسمبلی میں رات ساڑھے آٹھ بجے آصف شیخ کا مطالبہ

مالیگاؤں بم دھماکہ :اسمبلی میں رات ساڑھے آٹھ بجے آصف شیخ کا  مطالبہ
خ

سادھوی اینڈ کمپنی کیخلاف مہاراشٹر حکومت کورٹ میں اپیل داخل کرے

مسلمانوں کو ریزرویشن دینے بل پیش کیا جائے ، مالیگاؤں پولس مسلم نوجوانوں کے خلاف ، اسمبلی میں گونج




ناگپور ۔ موصولہ تازہ خبروں کے مطابق ناگپور کے سرمائی اسمبلی اجلاس میں جمعرات کی رات ساڑھے آٹھ بجے اس وقت گرما گرم صورتحال وقوع پذیر ہوئی جب مالیگاؤں کے رُکن اسمبلی آصف شیخ نے مالیگائوں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں بھگوا آتنکی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، کرنل پروہت اینڈ کمپنی کے معاملہ میں مہاراشٹر حکومت کو اپیل داخل کرنے کی گزارش کی ۔ جس پر اسمبلی میں بی جے پی کے اراکین نے جم کر آصف شیخ کے مطالبہ پر بحث کی اور کہا کہ حکومت رکن اسمبلی آصف شیخ کے مطالبہ کو ریکارڈ پر نہ لے اس لئے کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا معاملہ عدالتی ہو چکا ہے اور اسمبلی میں اس معاملہ کو اُٹھانے سے عدالتی کارروائیوں پر اثر پڑے گا ۔ بی جے پی اراکین نے آصف شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں ۲۰۰۶ء بم دھماکے میں ضمانت پر رہا ہوئے مسلم نوجوانوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا وہ بے قصور ہیں تب آصف شیخ نے ایوانِ اسمبلی میں کہا کہ مالیگاؤں ۲۰۰۶ء بم دھماکے میں ضمانت پر رہا ہوئے مسلم نوجوان بے قصور ہیں ، اُس کے باوجود بھی عدالت ان کے خلاف اپیل میں کیس داخل کر چکی ہے ۔ اس کے برعکس سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت اینڈ کمپنی کو مہاراشٹر اے ٹی ایس اور این آئی اے نے گزشتہ سرکار کے وقت ٹھوس ثبوت و شواہد کے ساتھ گرفتار کیا تھا لیکن سرکا رکی تبدیلی کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت و ابھینو بھارت تنظیم سے منسلک دہشت گرد افراد ضمانت پر رہا ہورہے ہیں اور مہاراشٹر سرکار اُن کے خلاف اپیل میں جانے کیوں تیار نہیں ہے ؟ آصف شیخ نے کہا کہ کرنل پروہت اگر ڈپارٹمنٹل انکوائری میں یہ کہتا ہے کہ میں فوج کی جانب سے بطور خفیہ ایجنٹ میٹنگوں میں موجود رہا تو کیا کرنل پروہت نے اس کا پردہ کیوں فاش نہیں کیا ؟ مہاراشٹر اے ٹی ایس کو کرنل پروہت نے بم دھماکہ کی سازش کی اطلاع کیوں نہیں دی ؟ اور بم دھماکہ ہونے سے کیوں نہیں روکا گیا ؟آصف شیخ نے کہا کہ مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے مسلمانوں کو انصاف دلانے کیلئے اصل قصور واروں کو سزا ملنا چاہئے اس لئے مہاراشٹر حکومت بھگوا آتنکیوں کی ضمانت کے خلاف کورٹ میں اپیل داخل کرے اور اے ٹی ایس کے سابق چیف شہید ہیمنت کرکرے کے وقار کو مجروح ہونے سے بچائے ۔ آصف شیخ نے کہا کہ یہ تمام معاملات ایوانِ اسمبلی میں یونہی پیش نہیں کررہا ہوں بلکہ اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مالیگاؤں میں بم دھماکہ کب ، کہاں اور کس طرح کیا جائے ؟ اس کے لئے پانچ میٹنگیں بھگوا آتنکیوں نے منعقد کی تھی ۔سال 2008کے جنوری میں فرید آباد ، 12اپریل 2008کو بھوپال میں ،6جون 2008کو اندور میں ،جولائی 2008کے پہلے ہفتے میں ،3اگست 2008،اور دھماکے سے آٹھ دن قبل 23؍ اکتوبر 2008کو اندور میں کی گئی سازش کا خلاصہ ویڈیو ،آڈیو ریکارڈنگ خفیہ ایس ایم ایس اور موٹر سائیکل کی اونر شپ کے ثبوت ایسے ٹھوس شواہد ہیں جنہیں کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا ۔ آصف شیخ کی اس تفصیلی مطالباتی گفتگو پر ایوانِ اسمبلی میں موجود بی جے پی اراکین نے جم کر شور شرابہ کیا تب ایم ایل اےآصف شیخ نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر مطالبہ دوہرایا کہ مہاراشٹر حکومت آصف شیخ کے اُٹھائے گئے مطالبے کو ریکارڈ میں لے اور بھگوا آتنکیوں کے خلاف کورٹ میں اپیل داخل کرے ۔یہاں آصف شیخ نے مہاراشٹر میں آباد مسلمانوں کو محمود الرحمٰن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ریزرویشن کے مطالبہ کو دوہرایا اور کہا کہ چھتیس فیصد محمود الرحمٰن کمیٹی نے مسلمانوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے اپنی رپورٹ میں ظاہر کیا تھا اور وجہ بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا کہ معاشی و تعلیمی پسماندگی کے سبب مسلمان پچھڑی ہوئی زندگی گزار رہا ہے اس لئے میرا مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کو ریزرویشن دے ۔ قبل اِس کہ آصف شیخ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا کہ 2001 ء کے فساد اور اُس سے قبل متعدد مرتبہ ہوئے فسادات کی روشنی میں مالیگاؤں کی شبیہہ ملک بھر میں خراب تھی لیکن 2001 ء کے بعد سے اب تک 17 سالوں میں مالیگاؤں کے مسلمانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا ۔ گنگا جمنی تہذیب اور امن کا گہوارہ مالیگاؤں بن گیا ہے لیکن مالیگاؤں شہر میں تعینات ایک سینئرپولس آفیسر کی حرکتوں کے سبب شہر کا لاء اینڈ آرڈر خراب ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولس مسلمانوں کے مجمع پر زبردستی لاٹھی چارج کرتی ہے تو کبھی مسلم نوجوانوں کو اُٹھا کر تڑی پار کرنے، جھوٹے گناہ داخل کرنے انکائونٹر کرنے جیسے معاملات سے ڈرا کر شہر کا لاء اینڈ آرڈر بگاڑنے کے در پر ہے ۔ پولس کے سینئرآفیسر کی مسلم دشمنی کے سبب شہر میں کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا توپولس انتظامیہ ذمہ دار ہوگی ۔ آصف شیخ نے وزیرداخلہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں پولس نے مہاڈی بی تشکیل دی ہے جو کہ قانون کی دھجیاں اُڑا کر ایک سماج کے لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔ ایسے پولس افسران پر حکومت لگام لگائے ، بصورت دیگر شہر کے امن و امان میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار مالیگائوں شہر پولس ہو گی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے