انقلابی قدم
مرکزی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ایک بار پھر ہندوستانی عوام کو دلاسہ دیتے ہوئے بیان دیا ہے کہ حکومت نے گرانی کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں اُن کا اثر جلد ہی ظاہر ہونا شروع ہوگا ۔ اور افراطِ زر کا دبائو کم ہوگا ۔ اُن کے مطابق نومبر دسمبر کے بعد سرکاری اقدامات کے زیر اثر افراطِ زر کی شرح اعتدال پر آجائے گی ۔ اس سے قبل انہوں نے مہنگائی کا سبب بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قرار دیا تھا اور موجودہ بیان میں اُنہوں نے اس کی اصل وجہ زرعی اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹ بتائی ہے ۔ کسی اور موقع پر مہنگائی کی کوئی الگ وجہ بیان کی گئی تھی ۔ اس طرح ہمارے مرکزی وزیر مالیات کے بیانات کا اعتبار کس درجے میں ہے ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔ محض عوام کو تسلی اور دلاسہ دینے کی کوشش کے علاوہ اُن کے بیانات کی اور کیا تشریح کی جاسکتی ہے ؟ اِدھر ہمارے مرکزی وزیر مالیات کا یہ بیان آیا اور اسی کے ساتھ ادھر پٹرول کی قیمت میں اضافہ کے اعلان کو اخباروں میں جگہ ملی ۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ بھی سامنے آگیا ۔ ظاہر ہے اِن اضافوں کے زیر اثر گرانی کا گراف اونچا ہوگا اور غریب عوام کی زندگی مزید پریشانیوں کا شکار ہوگی ۔ گرانی کا یہ حال ہے کہ غریب تو غریب متوسط طبقہ کے عوام بھی ضروریاتِ زندگی کے حصول میں حد درجہ تکلیف محسوس کررہے ہیں ۔ خود امیر طبقہ بھی اب اس گرانی کی حرارت کو محسوس کرنے لگا ہے ۔ ایسے میں بھلا پرنب مکھرجی کے فرمودات کا کیا مطلب لیا جائے ؟ حقیقت حال یہ ہے کہ سرکار مہنگائی پر قابو پانے کے باب میں بہت زیادہ مخلص اور ذمہ داری کے مظاہرے میں بہت فعال نہیں ہے اسلئے ایسے بیانات سے عوام کی تسلی اور اطمینان کا کوئی جواز نہیں پیدا ہوتا ۔ حکومت کی لاپروائی اور خوابِ خرگوش کی عادت سے صورتِ حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی یقین دہانیوں کے باوجود محسوس یہ ہوتا ہے یہ صورتحال مزید ابتری سے ہمکنار ہوگی اور ہندوستان کے غریب عوام اور متوسط طبقہ مہنگائی کے دلدل میں مزید دھنستا جائیگا ۔ ہماری سرکار جب تک ذخیرہ اندوزوں اور کالا بازاری کرنے والوں کو شہ دیتی رہے گی اور اُن پر پابندی لگا کر سخت سزا کا نفاذ نہیں کریگی اُس وقت تک مہنگائی کی صورتِ حال میں تبدیلی ممکن نہیں ۔ اسی طرح ’’ وعدہ بیوپار ‘‘ کو جب تک سختی سے ختم نہ کیا جائیگا مہنگائی سے عوام کو راحت نہیں مل سکتی ۔ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اِن دونوں معاملات میں حکومت کی نیت صاف نہیں ۔ انسانی زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی جائیگی اور غریبوں کو مزید فاقہ کشی اور خودکشی پر مجبور کرتی جائیگی ۔ موجودہ مہنگائی ہی عوام کی کمر توڑنے کو کیا کم تھی کہ پٹرول کہ دام میں اضافے کے زیر اثر مزید مہنگائی مرے پر سو دُرے کے مصداق نہ ہوگی تو کیا ہوگی ؟ کیا یہ عوامی زندگی پر ظلم کی انتہا نہیں ؟ ایسی سرکار جو عوام کی تکالیف کو کم کرنے کی بجائے اضافے پر اضافے کا سبب بنے ۔ ایسی حکومت جو کالا دھن پر قابو نہ پاسکے کس کام کی ۔ تازہ خبروں کے مطابق جنیوا کی بینکوں میں سات سو کھاتوں میں تین ہزار کروڑ کالا دھن کا انکشاف ہوا ہے پتہ نہیں ابھی اور کتنے یوروپی ملکوں میں ایسے کھاتوں کا انکشاف ہونا باقی ہے ۔ اسلئے ایسی حکومت جو عوا م کی زندگی کو اجیرن بنائے جو غریبوں کی فاقہ کشی اور مجبوری کر بڑھائے اور جو امیروں اور بڑے سرمایہ داروں کو سہولتیں مہیاکرے وہ اس بات کی مستحق ہے کہ اُسے مزید موقع نہ دیا جائے ۔ عوام یہ تہیہ کرلیں کہ آئندہ انتخابات میں اُسے اقتدار سے محروم کرکے ایک نئے انقلاب سے ملک کو رو شناس کرائیں تاکہ عام انسان کی زندگی چین سکون اور راحت سے (ہم کنار ہوسکے ۔ موجودہ حالات میں یہ انقلابی قدم نہایت ضروری ہے ۔ ( اسحق خضر ) بریکنگ نیوز : شہر کے نامور ڈاکٹرس سمیت گیارہ ملزمین کیخلاف سنگین مقدمہ درج، 9 گرفتار ،12 جون تک پولس تحویل
بریکنگ نیوز : شہر کے نامور ڈاکٹرس سمیت گیارہ ملزمین کیخلاف سنگین مقدمہ درج، 9 گرفتار ،12 جون تک پولس تحویل نابالغ لڑکی سے جنسی تشدد، ڈلیوری اور نوزائیدہ بچی کو فروخت کرنے کا الزام، پولس تحقیقات جاری مالیگاؤں : 7 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کے ایک پرائیویٹ ہیرائی اسپتال میں ایک نابالغ لڑکی کا سیزرین سیکشن کا آپریشن کر کے ڈلیوری کر بچی کی پیدائش کی گئی اور اسے بیچنے کی نیت سے جنم لینے والی بچی کو اپنے پاس رکھنے کے معاملے میں چار ڈاکٹروں سمیت 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان ملزمان میں ایک ریٹائرڈ میڈیکل آفیسر بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں یہاں کے جنرل اسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جتیندر راؤ صاحب ڈولارے نے کیمپ پولس اسٹیشن میں ایک نامعلوم شخص، سنجے بھاگوت گاولی، پروین دیشمکھ، ڈاکٹر کشور ڈانگے،ڈاکٹر کشوری ڈانگے، نوشین رفیق شیخ، محمد فہیم محمد شفیق، سارتھک پروین جگتاپ اور چار خواتین (تمام ڈاکٹروں سمیت تین خواتین) کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں مذکورہ ملزمان نے شہر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں ایک نابالغ لڑکی کا سیزیرین آپریشن کیا۔...
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com