اچھی اور سستی چائے
![]() |
| اسحاق خضر |
چائے ہمارے شہر کا مقبول ترین مشروب ہے ۔ مہمانوں کا استقبال ہویا احباب کی خاطر مدارت ہر جگہ چائے پیش کرنے کی روایت اپنی شان کے ساتھ جلوہ باز نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں قدم قدم پر چائے خانے ، کینٹین اور ہوٹل دستیاب ہیں جہاں بچے بوڑھے جوان سب ہی چائے نوشی کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ پرانی بات نہیں ماضی قریب میں بیرونِ شہر سے آنے والے ہمارے مہمانان اور شناسائوں کی چائے سے تواضع کے بعد جب پیسے کی ادائیگی کی جاتی تو انہیں حیرت ہوتی کہ اتنی اچھی چائے اور اتنی سستی !! ہمارا شہر اچھی اور سستی چائے کیلئے مشہور تھا ۔ لیکن ادھر کچھ دِنوں سے اسے جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ چائے فروش جب چاہتے ہیں مہنگائی کا بہانہ کرکے چائے کے دام میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ جو چائے دیڑھ اور دو روپئے میں با العموم ملتی تھی ابھی سال دیڑھ سال قبل تین روپئے فی کہ کردی گئی تھی ۔ اُس وقت بھی ہم نے انہیں کالموں میں اس کی مخالفت کی تھی ۔ اب دو تین ماہ قبل شکر ، گیس اور چائے پتی کی مہنگائی کا رونا روتے ہوئے کچھ چائے فروشوں نے چائے چار روپئے فی کپ کردی ہے ۔ چائے پینے والے عام طور پر اس بات پر کم توجہ دیتے ہیں کہ دام تو چائے کا بڑھ گیا لیکن چار روپئے فی کپ چائے میں شکر کی مقدار کم کردی گئی ہے ۔ خود چائے کی مقدار بھی بہت کم کردی گئی ہے جب چائے روپئے دیڑھ روپئے میں ملتی تھی اُس وقت کے کپ اور گلاس کی سمائی آج کے کپ اور گلاس سے کم از کم دیڑھ گنا سے زیادہ تھی ۔ یعنی اُس وقت جتنی چائے دس کپ میں آتی تھی آج چائے کی اُتنی ہی مقدار تیرہ چودہ کپ میں سماتی ہے ۔ اس طرح کم شکر ، کم پتی کی کم مقدار چائے اب چار روپئے میں دی جارہی ہے ۔ یعنی کم مقدار اور ہلکی کوالیٹی کی چائے مہنگے داموں مہیا کی جارہی ہے ۔ ایک بات اور ہے ، وہ یہ کہ اسی شہر میں دیڑھ ، دو ڈھائی اور تین روپئے میں فی کپ چائے دستیاب ہے ۔ تو کیا کم داموں میں چائے فروخت کرنے والوں کو سستے داموں خام مال دستیاب ہو جاتا ہے ؟ یہ سچ ہے کہ شکر گیس اور چائے پتی کے دام بڑھ گئے ہیں ۔ لیکن یہ بھی سچ ہےکہ تین اور چار روپئے فی کپ چائے فروشوں کو ایک کپ پر کم از کم ایک روپیہ اور دو روپیہ نفع مل رہا ہے ۔ یہ بات ہم اس لئے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے برسوں کا تجربہ رکھنے والے کچھ چائے فروشوں سے گفتگو کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے ۔ رہی بات دیڑھ ، دو اور ڈھائی روپئے فی کپ چائے فروخت کرنے والوں کی تو انہیں بھی یقینا پچاس پیسے سے لے کر پچھتّر پیسے تک فی کپ نفع مل رہا ہے ۔ اگر اُس قوم کے لوگ اتنا نفع کمائیں جنہیں دال میں نمک کے برابر نفع لینے کی ترغیب دی گئی ہوتو کیا یہ مناسب ہے ؟ اِس صورت میں اگر کچھ لوگ چار روپئے فی کپ چائے کے بائیکاٹ کی بات کررہے ہوں تو کیا غلط ہے ؟ کیوں کہ اس شہر کی روایت اچھی اور سستی چائے کی رہی ہے نہ کہ پھیکی ، گھٹیا اور مہنگی چائے کی
۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com