مالیگاؤں:ورلڈ بینک سے ایک ہزار کروڑ معاملہ میں سنسنی خیز خلاصہ، سیکولر فرنٹ کی مہا پریس کانفرنس
آبادی کے لحاظ سے 2057 تک شہریان کو پانی کی قلت نہیں ہوگی،انڈر گراؤنڈ ڈرینیج نظام بھی بہتر ہوگا، 858 کروڑ کے ترقیاتی پروجیکٹ حکومت کو پیش
نہ کوئی قرض اور نہ ہی نیا ٹیکس، عوام کے بیچ پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد،70 فیصد رقم حکومتی گرانٹ،صرف 30 فیصد رقم کارپوریشن کو ادا کرنا ہوگی
مالیگاؤں : یکم نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ماوشہر میں پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے نظام کو جدید اور بہتر بنانے کے لیے 858 کروڑ روپے کے دو بڑے ترقیاتی منصوبے حکومت کو پیش کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے سال 2057 تک شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی فراہمی اور زیرِ زمین گٹر کے نظام کو مستحکم بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان اہم منصوبوں کے تعلق سے اردو گھر میں منعقدہ مہا پریس کانفرنس میں آصف شیخ نے تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی اور آنے والی نسلوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے یہ منصوبے تیار کیے گئے ہیں، تاہم ہمارے مخالفین بالخصوص ایم آئی ایم اور دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کی جانب سے قرض اور اضافی مالی بوجھ کے نام پر عوام میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس میں آصف شیخ نے بتایا کہ یہ قرض نہیں بلکہ شہر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 858 کروڑ میں سے 300 کروڑ روپے کا واٹر سپلائی پروجیکٹ اور 558 کروڑ روپے کا انڈر گراؤنڈ ڈرینیج (زیرِ زمین گٹر) پروجیکٹ شامل ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت کا 70 فیصد حصہ مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی صورت میں فراہم کیا جائے گا، جبکہ بقیہ 30 فیصد حصہ میونسپل کارپوریشن کو ادا کرنا ہوگا۔ کارپوریشن کے حصے کی ادائیگی کے لیے چھ سالہ قسط کا نظام تجویز کیا گیا ہے، تاکہ ایک ساتھ بھاری رقم ادا کرنے کی مجبوری نہ رہے اور ترقیاتی کام بھی متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قرض نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ملنے والی 70 فیصد گرانٹ ہے جو واپس نہیں کرنی ہوگی اور اس منصوبے کے لیے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے یا کارپوریشن کی زمین رہن رکھنے کی بات درست نہیں ہے۔آصف شیخ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اپریل 2026 میں سرکار نے ایک جی آر نکالا جس میں نگر اتھیان اسکیم کو ورلڈ بینک بھر اتھیان اسکیم میں کنورٹ کردیا ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ورلڈ بینک سے قرض لیا ہے اور مہاراشٹر کو چھ ہزار کروڑ روپے بطور فنڈ تقسیم کئے گئے جس کے تحت اس اسکیم کو حاصل کرنے کیلئے مہاراشٹر کی کئی کارپوریشن جدوجہد کررہی ہیں لیکن مالیگاؤں کارپوریشن کا پروپوزل ہم نے پیش کردیا ہے اور یہ اب قرض نہیں بلکہ فنڈ ہے جسے ہم ہر حال میں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
ماضی کی پانی کی قلت سے مستقبل میں پانی فراہمی تک کا سفر
آصف شیخ نے شہر میں پانی کی فراہمی کے ماضی اور حال کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب گرمی اور سردی دونوں موسموں میں خواتین کو پانی کے لیے ہنڈا مورچے، دھرنے اور احتجاج کرنا پڑتے تھے، جبکہ کئی علاقوں کے مکین دور دراز مقامات سے پانی لانے پر مجبور تھے۔ سال 2005 میں ٹی سی آئی ڈی ایس (TCIDS) واٹر سپلائی اسکیم کے تحت پائپ لائنوں اور آبی ٹنکیوں کی تعمیر سے شہریان کو بڑی راحت ملی۔ بعد ازاں سال 2017 میں امرت یوجنا کے تحت تقریباً 146 کروڑ روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کے نظام کو وسعت دینے کا کام شروع کیا گیا۔ اب نئی اسکیم کے ذریعے شہر کے پرانے اور نئے علاقوں میں پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔اس منصوبے کے تحت تلواڑہ سے آنے والی پائپ لائن کی صلاحیت میں اضافہ، نئے فلٹر پلانٹس کی تعمیر، نئی آبی ٹنکیوں کی فراہمی اور پرانی و بوسیدہ پائپ لائنوں کی تبدیلی کی جائے گی۔ خصوصاً ان علاقوں کو بھی پانی کی پائپ لائن سے جوڑنے کی منصوبہ بندی ہے جہاں اب تک باقاعدہ آبی سہولت نہیں پہنچ سکی ہے۔ ان میں جمہور نگر، نہال نگر، گولڈن نگر، محمد آباد، مولانا حنیف ملی نگر، ملت نگر، ماسٹر نگر، آزاد نگر، ہیرا پورہ، حاجی احمد پورہ، مسلم پورہ اور مسلم نگر سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ اس اقدام سے کم پانی کے دباؤ اور غیر یقینی سپلائی جیسے دیرینہ مسائل حل ہونے کی امید ہے۔
زیرِ زمین گٹر اسکیم سے کھلے گٹروں، مچھروں اور بیماریوں سے نجات کی امید
شہر میں 558 کروڑ روپے کی لاگت سے مجوزہ انڈر گراؤنڈ ڈرینیج اسکیم کو بھی بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ پریس کانفرنس میں آصف شیخ نے بتایا کہ شہر کے کئی علاقوں میں زیرِ زمین گٹر کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے کام تیزی سے جاری ہیں اور بعض مقامات پر کام تکمیل کے قریب ہے۔ رمضان پورہ، پوار واڑی اور باغ محمود جیسے علاقوں میں انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کے کنکشن لگائے جا چکے ہیں، جس سے گندے پانی کی نکاسی کا نظام بہتر ہونے لگا ہے۔ زیرِ زمین گٹر کا نظام مکمل ہونے سے کھلے گٹروں، گندگی، مچھروں اور ملیریا و ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ گٹر صفائی اور مرمت پر ہونے والے بھاری اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اسکیم کی معلومات حاصل کریں اور اسکے بعد لب کشائی کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ہم سیکولر فرنٹ مالیگاؤں شہر کے پرانے اور نئے علاقوں کی ترقی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔آصف شیخ نے کہا کہ آج حالات ایسے ہیں کہ حکومتیں مالیگاؤں کو گرانٹ دینے یا ترقیاتی پروجیکٹ منظور کرنے میں ٹال مٹول کرتی ہیں پھر بھی ہم نے حکومت تک رسائی حاصل کرلی ہے لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جو لوگ اپنے ہی شہر کے ہیں وہی لوگ رکاوٹ پیدا کررہے ہیں یہ اب عوام کو سوچنا ہوگا ۔
ایک ہزار کروڑ کے قرض اور عوام پر اضافی بوجھ کی باتیں بے بنیاد
پریس کانفرنس میں اس پروپیگنڈے کی بھی تردید کی گئی کہ ان منصوبوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کا قرض لیا جا رہا ہے اور اس کا بوجھ آنے والی نسلوں، حتیٰ کہ پیدا ہونے والے بچوں تک پر پڑے گا۔ اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ عوام کو منصوبوں کی اصل مالی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بجائے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ کارپوریشن کے 30 فیصد حصے کی ادائیگی کے لیے چھ سالہ اقساط کا نظام اسی لیے اختیار کیا جا رہا ہے تاکہ مالی وسائل کی کمی کے باعث ماضی کی طرح ترقیاتی اسکیمیں ادھوری نہ رہ جائیں۔ مزید کہا گیا کہ نئے فلٹر پلانٹ اور بہتر نکاسی آب کے نظام سے مستقبل میں کارپوریشن کے عام فنڈ اور دیگر اخراجات میں بھی کروڑوں روپے کی بچت ممکن ہوگی۔یہ پروجیکٹ قرض کی صورت میں نہیں بلکہ حکومت کی ایک اسکیم کے تحت فنڈ حاصل کرنے کا ہے ۔انہوں نے اپوزیشن کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا بھی جواب دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اطمینان رکھیں کسی پر ایک روپیہ کا بھی بوجھ نہیں ہوگا ۔
آخر میں شان ہند و اعجاز بیگ نے شہر کے عوام، معززین اور سماجی و سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ اطلاع پر یقین کرنے کے بجائے منصوبوں کی حقیقی تفصیلات کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور نکاسی آب جیسے بنیادی مسائل کا مستقل حل شہر کی آئندہ کئی دہائیوں کی ضرورت ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل سے مالیگاؤں کو جدید بنیادی سہولیات سے آراستہ شہر بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔اس اسکیم کے تحت دس نئی پانی کی ٹنکیاں ،پائپ لائن اور فلٹر پلانٹ کی تعمیر و انڈر گراؤنڈ ڈرینیج کی تعمیر ہوگی اور اس 858 کروڑ کے پروجیکٹ میں سے صرف 280 کروڑ روپیہ کارپوریشن کو قسط واری ادا کرنا ہوگا ۔یہ کوئی قرض نہیں ہے ۔اس پریس کانفرنس میں میئر نسرین شیخ نے تمام معززین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیکولر فرنٹ شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے کوشاں ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com