مالیگاؤں قلعہ سے دہلی تک ’بھارت بچاؤ جن آندولن‘ کے تحت پیدل مارچ کا اعلان



مالیگاؤں قلعہ سے دہلی تک ’بھارت بچاؤ جن آندولن‘ کے تحت پیدل مارچ کا اعلان


ووٹ چوری، ای وی ایم، بے روزگاری اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا عزم، نوجوانوں کی پریس کانفرنس



مالیگاؤں: 24 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں کے تاریخی قلعہ سے ملک کے دارالحکومت نئی دہلی تک ’بھارت بچاؤ جن آندولن‘ کے تحت پیدل مارچ نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہر کے غیر سیاسی نوجوانوں کی جانب سے سنیچر کی شب نو بجے حبیب لانس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں عمران راشد نے بتایا کہ اس تحریک کا مقصد جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف ملک گیر سطح پر بیداری پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں کا تاریخی قلعہ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اسی تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے مالیگاؤں سے دہلی تک پیدل مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں عوام تک جمہوریت اور آئین کے تحفظ کا پیغام پہنچایا جاسکے۔منتظمین کے مطابق اس پیدل مارچ میں نوجوان مولانا ابوالکلام آزاد، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر، اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل اور بھگت سنگھ جیسے مجاہدینِ آزادی کے روپ میں شرکت کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد آزادی کی تحریک میں حصہ لینے والی شخصیات کی قربانیوں کو یاد کرنا اور نوجوان نسل کو جمہوری اقدار و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار کرنا ہے۔


تحریک کے منتظمین نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ان کے بقول حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف ہے جن سے عام شہریوں، طلباء، خواتین اور صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلباء اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ مبینہ تشدد اور آواز دبانے کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ ملک میں جمہوری آزادیوں کو محدود کیا جارہا ہے اور عدالتوں و الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جمہوری اقدار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔


پریس کانفرنس میں انتخابی عمل، ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج اور ووٹ چوری کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ منتظمین نے ای وی ایم کے مبینہ غلط استعمال، ایس آئی آر (SIR) کے عمل، امتحانی پرچوں کے افشا اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے مسائل کو بھی پیدل مارچ کے اہم موضوعات میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں شفافیت، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور شہریوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ ملک کے اہم مسائل ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

تحریک کے قائدین نے بتایا کہ مختلف ریاستوں سے گزرتے ہوئے پیدل مارچ کے نئی دہلی پہنچنے پر وزیر اعظم سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر ملک کے موجودہ حالات اور تحریک کے مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔آخر میں منتظمین نے مالیگاؤں سمیت ملک بھر کی سیاسی و سماجی تنظیموں، طلباء، نوجوانوں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں شریک ہوکر آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پریس کانفرنس میں عمران راشد کے عبداللہ مبارک علاوہ احتشام بیکری والا ،ڈاکٹر ساجد نعیم، صابر نورانی، مقیم مینا نگری وغیرہ موجود تھے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے