لیونگ سرٹیفکیٹ اور جنرل رجسٹر میں تصحیح کے اختیارات ایجوکیشن آفیسر کو حاصل



لیونگ سرٹیفکیٹ اور جنرل رجسٹر میں تصحیح کے اختیارات ایجوکیشن آفیسر کو حاصل


اسکول چھوڑنے کے بعد بھی تصحیح ممکن،ہیڈ ماسٹر کے ذریعے ایجوکیشن آفیسر کو درخواست دینا ضروری


 
 نام،والد کے نام،کنیت اور تاریخ پیدائش میں درستی کیلئے طلبہ اور والدین کو راحت، خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی! 



ممبئی: 15 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) اسکول چھوڑنے یا تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی طلبہ کو اپنے لیونگ سرٹیفکیٹ (LC) اور اسکول کے جنرل رجسٹر میں درج نام، والد کے نام، کنیت یا تاریخ پیدائش میں واضح غلطیوں کی اصلاح کروانے کا حق حاصل ہے۔اس سلسلے میں بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ایک اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض اس بنیاد پر درخواست مسترد نہیں کی جاسکتی کہ متعلقہ طالب علم اسکول چھوڑ چکا ہے۔ اس فیصلے سے ان طلبہ اور والدین کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے جو تعلیمی دستاویزات میں موجود غلطیوں کی اصلاح کے لیے طویل عرصے سے محکمہ تعلیم کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ موصولہ قانونی تفصیلات کے مطابق، رٹ پٹیشن نمبر 8739 آف 2026، سید سہانا مبین بنام حکومت مہاراشٹر کے معاملے میں 4 اگست 2026 کو دیے گئے فیصلے میں عدالت نے اسکول کے جنرل رجسٹر اور لیونگ سرٹیفکیٹ میں تصحیح کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالی۔ اس کے مطابق، اسکول چھوڑنے کے بعد بھی متعلقہ معاملے میں ایجوکیشن آفیسر (EO) کے پاس تصحیح کی درخواست پر غور کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تاہم، اس عمل کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔اس طرح کی تفصیلی معلومات ایجوکیشن آفیسر سروج جگتاپ نے ہیڈ ماسٹر گروپ میں شیئر کیا ہے۔


اس فیصلے کے پیراگراف 1، 5 اور 8 کے مطابق، ایجوکیشن آفیسر (EO) کو اسکول چھوڑنے کے بعد جنرل رجسٹر یا سرٹیفکیٹ میں تصحیح کرنے کا اختیار ہے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو اپنی سطح پر جنرل رجسٹر میں اس نوعیت کی تبدیلی کرنے کے بجائے ضروری دستاویزات اور متعلقہ ثبوتوں کے ساتھ تصحیح کی تجویز تیار کرکے مجاز ایجوکیشن آفیسر کو بھیجنی ہوتی ہے۔ ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے تحریری منظوری یا حکم جاری ہونے کے بعد ہی اسکول کے ریکارڈ میں متعلقہ تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اس طرح تصحیح کے عمل میں قانونی ضابطوں اور سرکاری طریقۂ کار کی پابندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر کسی طالب علم نے اسکول چھوڑ دیا ہے یا اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے تو محض اسی وجہ سے اس کی درخواست کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ تعلیمی دستاویزات میں نام، والد کے نام، کنیت یا تاریخ پیدائش سے متعلق واضح غلطیاں موجود ہونے کی صورت میں درخواست پر متعلقہ قواعد کے مطابق غور کیا جانا چاہیے۔ اس فیصلے سے ان افراد کے لیے امید پیدا ہوئی ہے جو اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے کئی سال بعد اپنے سرٹیفکیٹ یا رجسٹر میں موجود غلطیوں کی اصلاح کروانا چاہتے ہیں۔


 عدالت نے اپنے فیصلے میں جنابائی ہمتراؤ ٹھاکر بنام حکومت مہاراشٹر کے مقدمے میں بمبئی ہائی کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ مذکورہ فیصلہ AIR Online 2019 Bombay 1055 کے طور پر درج ہے۔ قانونی اصول کے مطابق، اسکول کے ریکارڈ میں موجود واضح انسانی یا علمی غلطیوں کی اصلاح کے معاملے میں متعلقہ قواعد، بالخصوص سیکنڈری اسکول کوڈ (S.S. Code) کے ضابطہ 26.3، کی روشنی میں درخواست پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ فیصلہ ایک مخصوص عرضی کے تناظر میں دیا گیا ہے، تاہم اس میں ہائی کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کا حوالہ اور متعلقہ قانونی اصولوں کی وضاحت مستقبل میں اسی نوعیت کے معاملات کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرسکتی ہے۔ البتہ ہر درخواست کا فیصلہ متعلقہ حقائق، دستیاب دستاویزات اور نافذ العمل قواعد کی روشنی میں کیا جائے گا، اس فیصلے کے تناظر میں جن طلبہ کے لیونگ سرٹیفکیٹ یا جنرل رجسٹر میں نام، والد کے نام، کنیت یا تاریخ پیدائش سے متعلق واضح غلطیاں موجود ہیں، وہ متعلقہ ثبوتوں کے ساتھ تصحیح کے لیے اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر درخواست صرف اس بنیاد پر مسترد کی جاتی ہے کہ طالب علم اب اسکول میں زیرِ تعلیم نہیں ہے تو متعلقہ قانونی حکم اور قواعد کی روشنی میں اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی جاسکتی ہے۔عدالت نے سختی سے متنبہ کیا ہے کہ اگر اسکول و محکمہ تعلیم کے افسران نے بار بار واضح احکامات کے باوجود طلباء کی درخواستیں مسترد کیں تو ان کے خلاف توہین عدالت ایکٹ کے تحت براہ راست تادیبی کارروائی کی جائے گی۔اس سلسلے میں ضروری ہے کہ درخواست گزار اپنے تعلیمی ریکارڈ اور دیگر مستند دستاویزات محفوظ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر قانونی ماہر سے رہنمائی حاصل کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے