شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ:ممبئی ہائی کورٹ پولس کی ناقص تفتیش پر سخت برہم



شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ:ممبئی ہائی کورٹ پولس کی ناقص تفتیش پر سخت برہم،ڈائریکٹر جنرل آف پولس کو ہدایت



خاتون ایجوکیشن آفیسر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد،جعلی اساتذہ کی بھرتی،سرکاری خزانے پر بوجھ،جانچ تیز کرنے کا حکم 




ممبئی: 25 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مہاراشٹر میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں سے متعلق ’شالارتھ آئی ڈی‘ پورٹل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فرضی تقرریوں کے معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں درج مقدمہ میں نامزد کرن کنور نامی خاتون ایجوکیشن آفیسر کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولس کی تفتیش کے طریقہ کار پر بھی شدید سوالات اٹھائے۔جسٹس مادھو جامدار کی سنگل بنچ کے سامنے سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی سنگینی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے مبینہ طور پر جعلی اساتذہ کا نیٹ ورک قائم کیا گیا اور ایسے افراد کو طویل عرصے تک سرکاری خزانے سے تنخواہیں ادا کیے جانے کا الزام ہے۔ عدالت کے مطابق معاملہ محض مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے تعلیمی نظام کی شفافیت اور اعتماد سے جڑے ہوئے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے پولس کی تحقیقات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تفتیش کی سمت اور پیش رفت پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر مبینہ مالی بدعنوانیوں کے باوجود تفتیش میں مطلوبہ سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی۔عدالت نے ڈائریکٹر جنرل آف پولس کو ہدایت دی کہ معاملے کی تحقیقات کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کی سمت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔عدالت میں یہ بھی سامنے آیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں میں صرف اسکول انتظامیہ ہی نہیں بلکہ محکمہ تعلیم کے بعض افسران کے کردار کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔ الزام ہے کہ شالارتھ پورٹل کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی آئی ڈی اور پاس ورڈ تیار کیے گئے اور بیک ڈیٹ میں تقرریاں ظاہر کرکے تنخواہوں اور بقایاجات کی ادائیگی حاصل کی گئی۔سرکاری وکیل کی جانب سے بھی خاتون افسر کی قبل از گرفتاری ضمانت کی مخالفت کی گئی اور معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔


 عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد اس معاملے میں مزید تفتیش اور ممکنہ کارروائی پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔سماعت کے دوران محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کے ممکنہ کردار کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس کے بعد شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔معاملے میں جعلی تقرریوں، فرضی اپروول، بقایاجات اور سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مختلف پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ہائی کورٹ کے سخت موقف کے بعد اب تفتیشی ایجنسی اور محکمہ تعلیم کی کارروائی پر نگاہیں مرکوز ہیں۔ عدالت کی ہدایات کے مطابق تحقیقات کس سمت آگے بڑھتی ہیں اور اس مبینہ اسکینڈل میں کن افراد کا کردار سامنے آتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے