جہاں حق ہے وہاں بولیں گے، حق کے لیے لڑیں گے کے نعرے کے ساتھ مستقیم ڈگنیٹی کا پولس سے دوٹوک سوال

 


جہاں حق ہے وہاں بولیں گے، حق کے لیے لڑیں گے کے نعرے کے ساتھ مستقیم ڈگنیٹی کا پولس سے دوٹوک سوال



 مسجد کی تلاشی کا خلاصہ عوام کے سامنے لایا جائے، وندے ماترم کو لازمی بنانے کی تجویز پر بھی تنقید



مالیگاؤں شہر کا سب سے بڑا عوامی پرچم کشائی پروگرام اشوک استمبھ پر ،نوجوانوں کو آگے آنے کی دعوت





مالیگاؤں: 15 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) — قدوائی روڈ، شہیدوں کی یادگار، اشوک استمبھ کے قریب 14 اگست کی شب ہی سے جشنِ آزادی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ ہزاروں نوجوان آزادی کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے یہاں جمع ہوئے۔ رات ٹھیک 12 بجتے ہی 15 اگست کی پہلی ساعت کا آغاز پٹاخوں، قومی نعروں اور پُرجوش انداز میں جشنِ آزادی منا کر کیا گیا۔


15 اگست کی صبح ٹھیک 10 بجے سماجوادی پارٹی کی جانب سے مالیگاؤں شہر کے سب سے بڑے عوامی پرچم کشائی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جہاں اشوک استمبھ پر نوجوان لیڈر مستقیم ڈگنیٹی کے ہاتھوں رسمِ پرچم کشائی انجام دی گئی۔


اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے نوجوان لیڈر و کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے حکومت کی جانب سے وندے ماترم کو لازمی بنانے سے متعلق مجوزہ قانون اور مقامی پولیس کی حالیہ کارروائی پر تنقید کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے وندے ماترم سے متعلق ایک بل منظور کیا ہے، تاہم اب تک اس کا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قانون یا سرکاری حکم نافذ ہوتا ہے تو اس کا آئینی اور قانونی دائرے میں جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن آئین اور قانون کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔


نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ملک اور شہر کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ آج کا نوجوان موبائل اور جدید ذرائع سے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر رہا ہے، اس لیے اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ شہر میں کون نفرت اور خوف کی سیاست کرتا ہے اور کون بھائی چارے، جمہوریت اور باوقار زندگی کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہمیشہ فرقہ پرستی اور یک رنگی سوچ کے خلاف رہی ہے اور ترنگے کی سوچ، اتحاد اور آئینی اقدار کو فروغ دینے پر یقین رکھتی ہے۔


اپنے خطاب میں انہوں نے دو روز قبل خانقاہ برکاتیہ مسجد میں پولیس کی جانب سے کی گئی تلاشی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے تلاشی تو لی، لیکن اب تک اس کارروائی کی تفصیلات، پنچنامہ یا رپورٹ مسجد کے ٹرسٹیوں یا ذمہ داران کو فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تلاشی لی گئی تو اس کی وجہ کیا تھی، کیا برآمد ہوا اور کارروائی کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ معلومات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔


انہوں نے کہا کہ آزادی کا اصل مفہوم یہی ہے کہ ہر شہری کو سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے جشنِ آزادی کے موقع پر شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسجد میں ہونے والی پولیس کارروائی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے