مالیگاؤں :خانقاہ برکاتیہ مسجد میں پولس کی تلاشی پر آصف شیخ کا سخت رد عمل، پندرہ دنوں میں خلاصہ کریں ورنہ...
مقامی رکن اسمبلی کے بیان پر آصف شیخ کی تنقید، کیا پولس نے مخبر کا نام MLA کو بتادیا ہے؟
مالیگاؤں : 14 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں کے سابق ایم ایل اے اور اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے شہر کی 130 سال پرانی خانقاہ برکاتیہ مسجد میں رات کے وقت پولس کی تلاشی کارروائی پر شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولس محکمے سے شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔آصف شیخ نے کہا کہ 12 اگست کی رات ناسک کرائم برانچ کی ایک ٹیم نے مقامی پولس کے تعاون سے اسلام پورہ میں واقع خانقاہ برکاتیہ مسجد میں کامبنگ آپریشن کیا۔ تقریباً تین بجے رات دو سو پولس اہلکاروں نے مسجد اور آس پاس کے گھروں میں تلاشی لی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے اندر اس طرح کی کارروائی پہلے کبھی نہیں ہوئی اور یہ شہر کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی بات ہے۔
آصف شیخ نے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس ، ناسک کمشنر، ناسک رورل ایس پی، شہر کے ایڈیشنل ایس پی اور ڈی وائے ایس پی کو خط لکھ کر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ پولس کو یہ معلومات کس کی طرف سے ملی؟ اگر معلومات مسجد کے بارے میں تھیں تو صرف مسجد کی تلاشی کیوں نہیں کی گئی اور قریبی گھروں میں بھی کیوں تلاشی لی گئی؟ اگر گھروں کے بارے میں معلومات تھیں تو مسجد میں کارروائی کیوں کی گئی؟انہوں نے مزید سوال کیا کہ پولس نے کیا تلاش کیا تھا؟ کیا کوئی ہتھیار یا کوئی ممنوعہ چیز ملی یا نہیں؟ اگر کچھ نہیں ملا تو پولس کو عوام کے سامنے اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔آصف شیخ نے کہا کہ پولس کو قانونی طور پر تلاشی کا حق ہے لیکن اب شہر کے لوگوں، مسجد کے ٹرسٹیوں اور سیاسی و سماجی حلقوں کو بھی مکمل معلومات کا حق حاصل ہے۔
آصف شیخ نے شہر کے موجودہ ایم ایل اے کے پریس کانفرنس میں دیے گئے بیان پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے نے کہا کہ معلومات شہر سے ملی تھیں۔ آصف شیخ نے پولس سے پوچھا کہ کیا ایم ایل اے کو الگ سے کوئی معلومات دی گئیں؟ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے کے پولس محکمے سے قومی اور ریاستی سطح پر پرانے تعلقات ہیں، اس لیے شہر کو مکمل حقیقت بتائی جانی چاہیے۔انہوں نے پولس سے اپیل کی کہ وہ پریس کے ذریعے یا پچھا نامہ رپورٹ کے ذریعے ٹرسٹیوں کو مکمل وضاحت دیں تاکہ شہر میں بے چینی دور ہو سکے۔ آصف شیخ نے کہا کہ اگر محکمہ جلد وضاحت نہیں دیتا تو قانونی جنگ بھی لڑی جائے گی۔ وہ آئین کے تحت دیے گئے حقوق کے تحت یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com