الرٹ :گرنا ندی میں سیلابی کیفیت،موسم ندی میں بھی 6221 کیوسیس پانی چھوڑا گیا، عوام خبردار رہیں
درجنوں مکین محفوظ مقام پر منتقل، چنکا پور و ہرن باری ڈیموں کے اطراف میں موسلا دھار بارش جاری
عوام ندی سے دور رہیں ،کارپوریشن و پولس انتظامیہ کی اپیل، کارپوریشن و پولس حکام کا دورہ
مالیگاؤں؛ 23 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) چنکاپور ڈیم سے پانی کے اخراج اور بالائی علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث گرنا میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کے پیش نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اور پولیس انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔سرکاری اطلاعات کے مطابق گرنا ندی کے کنارے پر قائم جھونپڑیوں میں رہنے والے 15 خاندانوں کے تقریباً 60 افراد کو عارضی طور پر قریبی شیلٹر شیڈ میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ اس دوران متعلقہ پولس انسپکٹر اور میونسپل افسران نے موقع کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور ضروری کارروائیاں انجام دیں۔دریں اثنا، میونسپل کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے بھی متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا اور امدادی و حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ادھر چنکاپور اور ہرن باڑی ڈیموں کے اطراف میں مسلسل موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث گرنا ندی میں جمعرات کو شام سات بجے مزید 23 ہزار کیوسیس پانی چھوڑا گیا اسی کیساتھ موسم ندی میں بھی پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ہرن باری ڈیم اپنی مکمل گنجائش تک بھر چکا ہے اور وہاں سے 6221 کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے۔انتظامیہ نے ہرن باڑی ڈیم کے زیرِ اثر علاقوں کے کسانوں، موسم ندی کے کنارے رہنے والے شہریوں اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن حدود کے تمام نشیبی علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، قیمتی سامان محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور کسی بھی صورت میں ندی یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔میونسپل کارپوریشن اور پولیس انتظامیہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں، صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ سرکاری محکموں سے فوری رابطہ کریں تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com