ہارمونس بڑھانے والے ممنوعہ انجکشن کا ذخیرہ ضبط ،غیر قانونی کاروبار بے نقاب،آفتاب عالم اور عادل شیخ گرفتار



ہارمونس بڑھانے والے ممنوعہ انجکشن کا ذخیرہ ضبط ،غیر قانونی کاروبار بے نقاب،آفتاب عالم اور عادل شیخ گرفتار


بچیوں کے گروتھ ریٹ بڑھانے کیلئے انجیکشن کا استعمال تو نہیں؟،ملزمین کو دو دنوں کی پولس تحویل


مالیگاؤں (26 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) شہر میں غیر قانونی طور پر ممنوعہ آکسیٹوسن (Oxytocin) انجکشن فروخت کرنے کا معاملہ بے نقاب ہوا ہے، اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لوکل کرائم برانچ اور قلعہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں ممنوعہ انجکشن اور ایک پک اپ گاڑی ضبط کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 لاکھ 4 ہزار روپے مالیت کا سامان برآمد کیا ہے. اس سلسلے میں کیمپ حدود کے ڈی وائی ایس پی درشن ڈوگل نے نمائندے کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ لوکل کرائم برانچ کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ افراد مالیگاؤں شہر اور اطراف میں غیر قانونی طور پر آکسیٹوسن انجکشن کی سپلائی کر رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر نگرانی کی گئی اور قلعہ پولیس اسٹیشن حدود میں کارروائی انجام دی گئی۔


پولیس نے کارروائی کے دوران پک اپ گاڑی نمبر MH-04-KF-9116 کو روک کر تلاشی لی، جہاں سے 5,070 بوتلوں پر مشتمل آکسیٹوسن انجکشن کا ذخیرہ برآمد ہوا۔ ضبط شدہ انجکشن کی مالیت تقریباً 1 لاکھ 4 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ 6 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ ضبط شدہ بوتلوں پر کسی کمپنی کا نام یا قانونی تفصیلات درج نہیں تھیں۔ گرفتار ملزمان کی شناخت گاڑی ڈرائیور عادل شیخ اشفاق (20) ساکن چالیس گاؤں ضلع جلگاؤں اور آفتاب عالم ابن حسن (48) عرف ارجن ساکن ہیرا پورہ مالیگاؤں کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان مبینہ طور پر کافی عرصے سے اس غیر قانونی دھندے میں ملوث تھے۔

ڈی وائی ایس پی درشن ڈوگل نے بتایا کہ آکسیٹوسن ایک حساس ہارمون انجکشن ہے، جس کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کے مشورے اور رجسٹرڈ فارماسسٹ کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، تاہم بعض افراد جانوروں سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے اس کا ناجائز استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس انجکشن کے بے جا استعمال سے انسانوں اور جانوروں دونوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق آکسیٹوسن کے غلط استعمال سے بینائی متاثر ہونے، معدے کی بیماریوں، نوزائیدہ بچوں میں یرقان اور حاملہ خواتین میں اسقاط حمل جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی کے پیش نظر حکومت کی جانب سے اس کی فروخت اور استعمال پر سخت ضابطے نافذ ہیں۔



پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف “پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1960” کی دفعات 11(g) اور 12 کے علاوہ بی این ایس کی دفعہ 328 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس معاملے کی مزید تفتیش پی ایس آئی چوہان کی نگرانی میں جاری ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اس ریکیٹ سے جڑے دیگر افراد کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

وہیں اس ضمن میں ملزم عادل کی پیروی کرتے ہوئے عدالت میں ایڈوکیٹ فیض واصف نے دلیل دی کہ میرا موکل جو صرف ڈرائیور ہے اسکا کوئی تعلق ان معاملات سے نہیں ہے اور اسکی گاڑی بھی ضبط کرلی گئی ہے لہٰذا عدالت سے پولس نے جو پانچ دنوں کی پولس تحویل کی اپیل کی ہے وہ نہ دی جائے یا تحویل کم کی جائے ۔اس پر عدالت نے ایڈوکیٹ فیض واصف کی دلیل کو سنتے ہوئے دو دنوں کی پولس تحویل دی ہے ۔اس طرح کی تفصیلات بھی ایڈوکیٹ فیض نے دی ۔وہیں آفتاب عالم کو بھی دو دنوں کی پولس تحویل دی گئی ۔موصوف نے بتایا کہ اس انجیکشن کی تین قسم ہوتی ہے اور اس میں ایک قسم یہ ہے کہ کم عمر بچیوں کا گروتھ ریٹ بڑھانے کیلئے اس طرح کے انجیکشن دیئے جاتے ہیں تاکہ انکی شادی جلدی کی جا سکے ۔ایڈوکیٹ فیض واصف کے اس انکشاف اور پولس جانچ پڑتال میں کیا انکشاف ہوتا ہے اس پر نظر لگی ہوئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی میں بچیوں کیلئے اس انجیکشن کو مالیگاؤں میں لایا جاتا ہے یا پھر جانوروں کی افزائش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے؟ ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے