مہاراشٹر میں تبدیلی مذہب قانون جلد ، اسمبلی اجلاس میں بل منظور
تبدیلی مذہب ناقابل ضمانت جرم، سخت دفعات و گرفتاری کا شمار
مہاراشٹر کی کابینہ نے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف بل کو منظوری دے دی ہے۔
کابینہ کی میٹنگ دیویندر فڈنویس کی صدارت میں ہوئی۔
جبری تبدیلی کی صورت میں براہ راست گرفتاری کا امکان ہے۔
ممبئی : 5 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر حکومت نے جمعرات کو ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے لیے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بل کو منظوری دی گئی۔ یہ بل اب قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وہاں اسے قانون میں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ بل کے مطابق اگر کوئی کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرائے گا تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
اس ضمن میں وزیر نتیش رانے نے کہا کہ کئی ہندوتوا تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس مسئلہ پر برسوں سے احتجاج کیا تھا۔ ان مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ نئے قانون کے مطابق، جو کوئی بھی کسی کو زبردستی، دھوکہ دہی یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرتا ہے، اسے ناقابل ضمانت جرم کے طور پر درج کیا جائے گا۔
قانون اب جبری تبدیلی کے معاملات میں گرفتاری کو ممکن بنائے گا۔ اس کے علاوہ اس شخص کو آسانی سے ضمانت نہیں مل سکے گی۔ قانون کے تمام تکنیکی اور قانونی پہلوؤں سے متعلق تفصیلی معلومات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔ تاکہ تمام عام شہریوں کو اس کے قوانین کا واضح اندازہ ہو سکے۔ نتیش رانے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں مجوزہ انسداد تبدیلی قانون دیگر ریاستوں کے مقابلے سخت اور زیادہ موثر ہوگا۔ نتیش رانے نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر کے قانون میں مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی ریاستوں کے قوانین سے زیادہ سخت دفعات ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com