جب سینٹرل سے ٹیکس وصول کیا گیا تو پھر پربھاگ نمبر ایک سے کیوں نہیں؟ اب تو ہر حال میں گھر پٹی وصول ہوگی،ہم یکساں سلوک چاہتے :مستقیم ڈگنیٹی
عبد المالک نے کمشنر کی طرفداری کی اور فرقہ پرستوں کی زبان استعمال کر فرقہ پرستوں سے دوستی کا ثبوت دے دیا
اگر نمائندگی نہیں کر سکتے تو ایم ایل اے مفتی اسمعیل و ایم پی شوبھا تائی استعفیٰ دیں، شہریان نیا نمائندہ منتخب کرلینگے
مالیگاؤں : 4 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن بجٹ جنرل بورڈ میٹنگ کا انعقاد آج بروز بدھ کو کارپوریشن کے ساتھی نہال احمد ہال میں کیا گیا ۔اس بجٹ میں اچھی طرح سے بحث ہوکر شہریان کیلئے اچھا فیصلہ لیا جائے اور اچھا بجٹ پیش ہوسکے ۔یہی خواہش مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کی رہی اور سیکولر فرنٹ نے سب کو بولنے کا موقع دیا ۔تین سالوں سے پرشاسک راج تھا آج پہلا عوامی بجٹ آج پیش کیا گیا ۔اس بجٹ میٹنگ میں اپوزیشن کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ۔اس بجٹ ہر اچھی طرح بحث ہونا چاہیے تھی ۔اس بجٹ میں اہم بات یہ تھی کہ کارپوریشن نے بینک سے 132 کروڑ روپے کا قرض لیا ۔اس پر بھی بات ہونا چاہیے تھی اور اس پر میں نے کمشنر سے سوال کیا کہ قرض لینے کی وجہ کیا تھی اور اس قرض کو کس طرح ادا کیا جائے گا؟ اسکا خلاصہ ہم نے کمشنر سے طلب کیا، اسی طرح 632 لوگوں کی بھرتی کے سوال پر پر ہم نے جواب طلب کیا کہ کس طرح انکی پگار ادا کی جائے گی؟ اسی طرح گھر پٹی کے سوال پر ہم نے یکساں کردار کے تعلق سے کارپوریشن سے جوب طلب کیا کہ پربھاگ ایک سے گھر پٹی کیوں وصول نہیں کی گئی ۔پربھاگ ایک میں ریوژن سروے ہوا اس میں 5400 لوگوں کو گھر پٹی تقسیم نہیں کی گئی ۔ہم چاہتے ہیں کہ جب سب کا وکاس ہورہا ہے تو پھر ٹیکس بھی سب سے وصول کیا جائے، پربھاگ ایک میں گھر پٹی تقسیم کر ان سے وصولی کیوں نہیں کی گئی؟ ہم نے اس کا جواب کارپوریشن سے طلب کیا؟ موجودہ ایم ایل اے نے بھی پرشاسک راج میں کچھ نہیں کیا ۔لیکن جب ہمارا سوال آیا تو کمشنر جواب دینے سے قاصر رہے لیکن اسی وقت ایم آئی ایم کے گٹ نیتا عبد المالک نے کمشنر کا دفاع کیا اور پربھاگ ایک کی حمایت میں آگے آئے اور مجھ سے کاؤنٹر بحث شروع کی، حالانکہ عبد المالک کو شہریان کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے شیو سینا کا ساتھ دیکر ایم آئی ایم و شیو سینا کی سانٹھ گانٹھ کو اجاگر کردیا ۔ہماری خواہش ہے کہ جہاں شہریان سے ٹیکس وصول کیا گیا وہیں پربھاگ ایک سے وصولی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ شہریان کیساتھ دھوکہ دہی ہے ۔لیکن ایم آئی ایم کی پالیسی شہریان کے حق میں نہیں بلکہ فرقہ پرستوں کے ساتھ ہے ۔ایم آئی ایم نے اپوزیشن کا کردار مثب ادا نہیں کیا ۔عبد المالک نے کارپوریشن و فرقہ پرستوں کیساتھ مل کر اس بجٹ میٹنگ کو ڈائنا مائٹ کیا ہے،اس طرح کے تفصیلی جملوں کا اظہار مستقیم ڈگنیٹی نے کیا ۔موصوف سماجوادی رابطہ آفس پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔
آصف شیخ نے جس طرح اس بجٹ کو بنانے کی کوشش کی اس سے شہریان کو فائدہ ہوگا لیکن اپوزیشن کا کردار دہرا تھا ۔کارپوریشن نے پرشاسک راج میں 550 ملازمین کی مان دھن طرز پر بھرتی کی ہے تو یہ ملازمین کہاں ہیں؟ انہیں تنخواہ برابر مل رہی ہیں لیکن کام کاج کیوں نہیں ہورہا ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ سب کو برار انصاف ملنا چاہیے، یہی ہمارا منصوبہ تھا لیکن ایم آئی ایم کے گٹ نیتا عبد المالک نے کمشنر کو بچایا ہے اور اسکے دفاع میں آگے آئے ۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فرقہ پرستوں سے ملی بھگت ہے ۔پربھاگ ایک کی عوام کا ٹیکس بچانے کیلئے عبد المالک نے کارپوریشن میں غنڈہ گردی کی ہے اور انہوں نے چھپ کر فرقہ پرستوں کا ساتھ دیا ہے ۔ہم نے 84 کارپوریٹرس کی نمائندگی ہال میں کی لیکن ایم آئی ایم کا طریقہ غیر مناسب ہے ۔جب میں نے سوال کیا کہ پربھاگ ایک سے گھر پٹی وصول کیوں نہیں کی گئی اس پر تو اپوزیشن کو میرا ساتھ دیکر شہریان کے حق میں دو بات کرنا تھا لیکن انہوں نے پربھاگ ایک کا دفاع کیا ۔ہم تو چاہتے ہیں کہ شہریان کی ترقی ہو لیکن ایم آئی ایم غنڈہ گردی کی کوشش کررہی ہے ۔میرا سوال کمشنر سے تھا تو عبد المالک نے جواب کیوں دیا؟ہم نے اپوزیشن کو شروع سے ہی بولنے کا موقع دیا لیکن جہاں بولنا تھا وہاں بولنا چاہیے تھا لیکن اپوزیشن نے کمشنر کی جانب سے جواب دیا ۔اس پریس کانفرنس میں مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم آصف شیخ کیساتھ میئر و ڈپٹی میئر و سیکولر فرنٹ کے تمام کارپوریٹرس کو ساتھ لیکر شہریان کیلئے اچھا بجٹ بنائیں گے ۔یہ یقیناً کانٹوں بھرا تاج ہے لیکن ہم شہریان ک سلام فائدہ پہنچانے والا بجٹ بنائیں گے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے ایم ایل اے و ایم پی کارپوریشن سے بجٹ طلب کررہے ہیں جبکہ انہوں نے اسمبلی و پارلیمنٹ سے بجٹ لانا چاہیے ورنہ ہم یہ سمجھیں گے کہ وہ جھک مارنے گئے ہیں ۔اگر وہ اپنی نمائندگی ادا نہیں کرسکتے تو وہ استعفیٰ دیں ہم نئے ایم ایل اے و ایم پی منتخب کرینگے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم پربھاگ ایک سے ہر ہال میں گھر پٹی وصولی کرینگے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com