این ڈی اے کی مہاراشٹر میں حکومت سازی، نریندر مودی، امیت شاہ سمیت 22 ریاستوں کے وزراء کی شرکت



این ڈی اے کی مہاراشٹر میں حکومت سازی، نریندر مودی، امیت شاہ سمیت 22 ریاستوں کے وزراء کی شرکت 


دیویندر فرنویس وزیر اعلیٰ ،اجیت و شندے نائب وزیر اعلیٰ منتخب 



9 دسمبر کو اسپیکر کا انتخاب، 11 دسمبر کو کابینی وزراء حلف لینگے، 16 دسمبر سے ناگپور میں سرمائی اجلاس ،مہاراشٹر ترقی کریگا کے پوسٹر آویزاں 



ممبئی : 5 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) موصولہ خبروں کے مطابق اب مہاراشٹر میں دیویندر کا دور شروع ہو گیا ہے۔بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے جمعرات کو تیسری بار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔دیویندر فڑنویس کے ساتھ مہاراشٹر کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔این سی پی کے سربراہ اجیت پوار نے بھی اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کی شاندار حلف برداری کی تقریب ممبئی آزاد میدان میں منعقد ہوئی۔وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کی شاندار حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی کابینہ کے وزراء، 22 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، ملک بھر سے سینکڑوں معززین شریک رہے۔ سادھو اور مہنت اور 40 ہزار شہری بھی موجود تھے۔اس پروگرام میں مختلف جگہوں پر 'مہاراشٹر اب نہیں رکے گا' لکھا گیا تھا۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کا نتیجہ 23 نومبر کو سامنے آیا۔ اس نتیجے نے ایگزٹ پولز کی تمام پیشین گوئیوں کو ناکام بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ مہاراشٹر میں مہایوتی نے تاریخی جیت حاصل کی۔مہاراشٹر کی 288 میں سے 230 سیٹوں پر مہاوتی نے کامیابی حاصل کی۔ لیکن اتنی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی مہایوتی کی نئی حکومت کے قیام میں کافی تاخیر ہوئی۔عظیم اتحاد کے نتائج کے اعلان کے بعد دیویندر فڑنویس، ایکناتھ شندے، اجیت پوار نے دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی۔اس اجلاس میں وزارت کی تقسیم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دیگر وزارتوں کی تقسیم پر بھی جلد ہی فیصلہ ہوجائے گا اور امکان ہے کہ 11 دسمبر کو ان وزراء کی حلف برداری ہوگی ۔ان وزراء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے 22 وزراء، ایکناتھ شندے کے 12 اور اجیت پوار کے 10 وزراء حلف لینگے ۔وزراء کی حلف برداری کے بعد مہاراشٹر حکومت 16 دسمبر سے سرمائی اجلاس ناگپور میں منعقد کرنے جارہی ہیں ۔اس موقع پر دیویندر فرنویس نے واضح کردیا ہے کہ ایم ایل ایز کو اسمبلی میں سوال کرنے کیلئے 45 دن قبل ہی ان لائن اپنے سوالات پیش کرنا ہوگا ۔خاص بات یہ رہے گی کہ مہاراشٹر کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نہیں بچا ہے ۔کسی پارٹی کو اتنی اکثریت نہیں ملی کہ وہ اپوزیشن کا دعویٰ کرے البتہ مہاوکاس اگھاڑی اور ہم خیال جماعتیں اپوزیشن لیڈر کا نام پیش کرسکتی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والی این ڈی اے سرکار کس طرح سے سرکار چلاتی ہیں؟ مہاراشٹر میں مسلمانوں کی نمائندگی کس طرح ہوگی اور ریاست میں سیکولر ازم کے ساتھ ترقی کی راہ کیسے ہموار ہوگی؟ اس پر عوام کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے