'بنگلورو میں پاکستان'، چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے جج کے مبینہ متنازعہ بیان کا نوٹس لیا، رپورٹ پیش کرنے کا حکم
بنگلورو : 20 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) کرناٹک ہائی کورٹ کے جج وی سریشانند کو بنگلور میں مسلم اکثریتی علاقے کو 'پاکستان' کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مغربی بنگلورو کے گوری پالیا علاقے کو جج نے پاکستان کہا تھا۔سریشانند کے تبصرے کے بعد جہاں ایک طرف ان پر تنقید ہو رہی ہے وہیں سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ چیف جسٹس دھننجے چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بنچ نے عدالتی آداب کی پابندی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس سریشانند نے 28 اگست کو بنگلور ہائی کورٹ میں انشورنس سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’کرناٹک ہائی کورٹ کے جج نے ایک غیر ضروری تبصرہ کیا تھا‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کچھ بنیادی ہدایات دے سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے سیکرٹری جنرل اس سلسلے میں رپورٹ پیش کریں۔
بنچ نے کیا کہا؟
چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جسٹس ایس۔ کھنہ، بی. آر گوائی، ایس.کانٹ اور ایچ.رائے شامل ہیں۔ بنچ نے اس معاملے میں کہا ہے کہ “سوشل میڈیا عدالتی کارروائی کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران کیے گئے تبصرے آداب کے مطابق ہوں۔"
بنگلور ہائی کورٹ کے جج کے تبصروں کا ذاتی طور پر نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا، "ہم کرناٹک ہائی کورٹ کے جج کے تبصروں سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لے رہے ہیں۔ ہم جج کے ریمارکس کے بارے میں اگلے دو دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دے رہے ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com