ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
بزرگ عالم دین حضرت مولانا مختار احمد ازھری صاحب داغ مفارقت دے گئے
مالیگاؤں : 12 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ابھی کچھ دیر قبل(12جون بروز بدھ) معہد ملت کے ممتاز فاضل اور بزرگ عالم دین مفسر قرآن حضرت مولانا مختار احمد ازھری صاحب داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی جوار رحمت میں حاضر ہوگئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانا مختار احمد ازھری صاحب مرحوم کا شمار معہد ملت کے انتہائی نمایاں اور مؤقر فضلاء اور مالیگاؤں کے بزرگ علماء کرام میں ہوتا تھا ، وہ دینی و عصری دونوں علوم کی دولت سے مالا مال تھے ، معہد ملت اور جامعہ ازھر سے فراغت کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ اپنی مادر علمی میں تدریسی خدمت انجام دی اس کے بعد بحرین کے سفارت خانے (ممبئی) میں ایک طویل عرصے تک برسر کار رہے ۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد جب تک صحت برقرار رہی ، وہ مختلف مساجد میں درس قرآن کی وقیع و عظیم خدمت انجام دیتے رہے ، اس خدمت کو انہوں نے اس شوق اور اہتمام کے ساتھ نبھایا کہ یہ ان کی پہچان بن گئی، اور مفسر قرآن ان کا لقب پڑگیا ۔
گزشتہ کئی برسوں سے وہ صاحب فراش تھے لیکن اس پورے مرحلے کو انتہائی صبر و شکر کے ساتھ راضی رہ کر گزارا ۔ مولانا مرحوم انتہائی شریف النفس ، متواضع اور بااخلاق انسان تھے ، اور دین متین اور قرآن مبین کے مخلص خادم بھی ، وصال کے وقت ان کی عمر80 برس سے متجاوز تھی ۔ کوئی شبہ نہیں کہ ایسی عظیم المرتبت اور علمی شخصیت کا وصال ہم سب کے لیے ایک بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے ۔
دل سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی جملہ خدمات قبول کرکے ان کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ ولا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ
نوٹ : مولانا محترم کی تدفین رات دو بجے بڑے قبرستان میں عمل میں آئے گی ۔ آج ہی رات میں ڈیڑھ بجے ان کے مکان قاسمیہ مسجد کے پاس سے جنازہ اٹھایا جائے گا اور مسجد امین عشرت سے متصل جنازہ ہال میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی ان شاءاللہ
دعا گو و شریک غم : مفتی محمد عامر یاسین ملی
(امام و خطیب مسجد یحییٰ زبیر مالیگاؤں)
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com