شندے سرکار کا اہم اقدام ، مہاراشٹر میں اقلیتی کمشنریٹ کا قیام ، ڈپٹی سکریٹری معین تشیلدار کو اقلیتی کمشنر کا عہدہ!
کلکٹرس کے زیر کنٹرول مہاراشٹر کے 36 اضلاع میں بھی اقلیتی سیل بنائے جائیں گے
ممبئی : 21 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست مہاراشٹر میں اقلیتوں کی مجموعی ترقی کے لیے حکومت نے لوک سبھا انتخابات سے قبل اقلیتی کمشنریٹ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اسکا ہیڈکوارٹر اورنگ آباد شہر میں بنایا جائے گا۔اس ضمن میں آج ریاستی حکومت نے مائناریٹی کمشنریٹ کا قیام کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی ترقیات کی وزارت میں خدمات انجام دے رہے ڈپٹی سکریٹری معین تشیلدار کو پہلا کمشنر مقرر کیا ہے۔ بتا دیں کہ لوک سبھا انتخابات کے ضابطہ اخلاق سے قبل سوشل انجینئرنگ اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔اس ضمن میں مہاراشٹر کی ریاستی کابینہ نے پیر کو اورنگ آباد میں ایک اقلیتی کمشنریٹ قائم کرنے اور ہر ضلع میں ایک اقلیتی سیل قائم کرنے کے فیصلے کو منظوری دی۔
یہ کمشنریٹ محکمہ اقلیتی ترقیات کے تحت ہوگا ۔جسے کلکٹرس کے کنٹرول میں رکھا جائے گا ۔مہاراشٹر کے 36 اضلاع میں اقلیتی سیل بھی بنائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق معین تشیلدار جلد ہی اورنگ آباد حج ہاؤز میں اقلیتی کمشنر کا چارج سنبھالیں گے۔اقلیتی کمشنر کا دفتر لیبر کالونی میں تعمیر ہونے والی سرکاری عمارت میں رکھا جائے گا۔انہیں آج مہاراشٹر سرکار نے اقلیتی کمشنریٹ کا عہدہ تفویض کیا ہے ۔خیال رہے کہ معین تشیلدار کو ایک دبنگ، نظم و ضبط اور اچھے منتظم کے طور پر جانا جاتا ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی ای او کے طور پر معین تشیلدار کی کارکردگی ڈیڑھ سال تک قابل ذکر رہی ہے۔وقف ایکٹ پر سختی سے عمل آوری اور بورڈ میں کام کی رفتار تیز کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔موصوف نے وقف بورڈ کی اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے ریاست میں ہلچل مچادی ۔
موصوف نے 60 افسران کے سٹاف کی بھرتی کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ بدعنوانی میں ملوث کئی اداروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی گئی۔ وہ اقلیتی برادری کے مسائل سے واقف ہیں۔ توقع ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد معاشرے کی مجموعی ترقی اور 15 نکاتی پروگرام پر عمل درآمد میں تیزی آئے گی اور ان کی جانب سے نئی اسکیموں کا آغاز کیا جائے گا۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com