آصف شیخ ،مستقیم ڈگنیٹی و شان ہند ،ڈاکٹر خالد پرویز ،اعجاز بیگ ،مالک یونس عیسی سمیت سیاسی و ملی تنظیموں کی شوبھا تائی کو حمایت



آصف شیخ ،مستقیم ڈگنیٹی و شان ہند ،ڈاکٹر خالد پرویز ،اعجاز بیگ ،مالک یونس عیسی سمیت سیاسی و ملی تنظیموں کی شوبھا تائی کو حمایت


پارلیمنٹ چناؤ کی پولنگ کو صرف 11 دن باقی ، مفتی اسمٰعیل کی خاموشی چہ معنی دارد، عوام میں تذبذب برقرار


مالیگاؤں : 8 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ)دھولیہ لوک سبھا چناؤ کیلئے 20 مئی کو ووٹنگ ہونا ہے ۔اس چناؤ میں راست مقابلہ انڈیا الائنس کی امیدوار کانگریس پارٹی کی نامزد کردہ شوبھا تائی بچھاؤ کے درمیان ہونا ہے ۔اس چناؤ پر پورے حلقہ پارلیمنٹ کے ووٹرس کی نظر لگی ہوئی ہیں ۔سیکولر ازم کی بقاء کیلئے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ پہلی مرتبہ مہا وکاس اگھاڑی نے مہاراشٹر میں لوک سبھا چناؤ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور کچھ حد تک یہ اگھاڑی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائٹ دے رہی ہیں ۔اس چناؤ میں دھولیہ مالیگاؤں کے مسلم ووٹرس انڈیا الائنس کی امیدوار شوبھا تائی بچھاؤ کی جیت میں کلیدی رول ادا کرینگے ۔اس لئے کہ اس حلقہ سے مسلم ووٹوں کی تعداد فیصلہ کن ہے ۔ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے ساتھ شیو سینا شندے گروپ اور اجیت دادا گروپ کو ساتھ لیکر چناؤ لڑ رہی ہیں تو دوسری طرف اس کے مد مقابل انڈیا الائنس میں کانگریس، شرد پوار کی این سی پی اور ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کافی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔ ایسے میں کانگریس کی امیدوار کو کامیاب کرنے کیلئے انڈیا الائنس میں شامل راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد پوار گروپ کے مقامی صدر آصف شیخ رشید نے شوبھا تائی بچھاؤ کی حمایت کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ۔اسی طرح سماجوادی پارٹی کی صدر شان ہند و مستقیم ڈگنیٹی نے بھی شوبھا تائی بچھاؤ کو حمایت دیکر دستور ہند کی حفاظت کا نعرہ دیا ہے تو وہیں کانگریس کے مقامی صدر پہلے سے ہی شوبھا تائی بچھاؤ کو کامیاب کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں. اسی طرح مجلس اتحاد المسلمین کے شمالی مہاراشٹر کے صدر ڈاکٹر خالد پرویز اور سابق میئر عبد الماک یونس عیسی نے بھی مجلس پاسبان آئین کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کیلئے آئین ہند کی حفاظت کیلئے شوبھا تائی بچھاؤ کو کامیاب کرنے کی سہیل کردی ہے ۔
ملک کے موجودہ سنگین حالات کے تناظر میں سیکولر ووٹوں کا چناؤ میں تناسب بڑھانے کیلئے دھولیہ مالیگاؤں کے مسلمانوں کو ملی تنظیموں کی جانب سے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ سو فیصد ووٹ دینا ہے ۔شہر کی سیاسی و ملی جماعتوں کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملک عزیز ہندوستان کی جمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت اور شریعت کی حفاظت کیلئے ہمیں سیکولر امیدوار کو ووٹ دینا ہے ۔پارلیمنٹ چناؤ کے درمیان شہر کی تمام سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں نے جہاں سیکولر امیدوار شوبھا تائی بچھاؤ کی حمایت کا اعلانیہ کیا ہے وہیں شہر کا ایک بڑا طبقہ ابھی بھی تذبذب کا شکار ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اعلان کردیا ہے کہ ہمیں سیکولر امیدوار تائی کو ووٹ دینا ہے لیکن ابھی بھی ایم ایل اے مفتی اسمٰعیل قاسمی کا ماننے والا ایک بڑا طبقہ تذبذب کا شکار ہے کہ آیا مفتی اسمٰعیل قاسمی سیکولر امیدوار کی حمایت میں کیوں سامنے نہیں ارہے ہیں؟ اب جبکہ مجلس اتحاد المسلمین نے اس چناؤ میں اپنا امیدوار نہیں اتارا ہے پھر بھی مفتی اسمٰعیل قاسمی کی خاموشی چہ معنی دارد؟ ایک طرف شہر میں ووٹنگ فیصد بڑھانے کیلئے ملی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے اپیل در اپیل کی جارہی ہیں تو دوسری جانب شہر کے رکن اسمبلی و جمعیتہ علماء مدنی روڈ کے صدر مفتی اسمٰعیل قاسمی کی جانب سے ابھی تک چناؤ کے تعلق سے کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔مفتی اسمٰعیل کس کے انتظار میں ہیں؟ یا مفتی اسمٰعیل کو دینی سرگرمیوں سے فرصت نہیں ملی رہی ہیں یا انکا بیرون شہر دورہ جاری ہے؟ یہ تو مفتی اسمٰعیل ہی بتائیں گے۔ عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہورہا ہے کہ مفتی اسمٰعیل خاموش کیوں ہے؟ سوشل میڈیا پر بھی مفتی اسمٰعیل قاسمی کی خاموشی کو لیکر کافی مباحثہ ہورہا ہے ۔ادھر مفتی اسمٰعیل قاسمی کی پارٹی کے مقامی لیڈران ڈاکٹر خالد پرویز اور عبدالمالک نے بھی شوبھا تائی کو حمایت دے دی ہے ۔
دھولیہ لوک سبھا چناؤ میں شوبھا تائی کو چوطرفہ حمایت مل رہی ہیں ۔دھولیہ کے انیل انا گوٹے نے بھی کانگریس امیدوار کو حمایت دی ہے ۔ادھر شیو سینا ادھو گروپ نے بھی محنت شروع کردی ہیں ۔اب شوبھا تائی بچھاؤ اور ڈاکٹر سبھاش بھامرے کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے ۔دھولیہ، سٹانہ باگلان اور مالیگاؤں آؤٹر کے سیکولرازم ووٹرس کانگریس کو سپورٹ کررہے ہیں اور اگر مالیگاؤں شہر سے ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہوتا ہے تو کانگریس امیدوار کی جیت یقینی طور پر نظر آتی ہے ۔مالیگاؤں شہر میں راشٹروادی کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ چناؤ کا بگل بجا کر سیکولر امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے رائے عامہ ہموار کردی ہے اور عوام کی کثیر تعداد نے من بنا لیا ہے کہ ہمیں اب سیکولر ازم کی بقاء کیلئے کانگرس امیدوار شوبھا تائی بچھاؤ کو پیش کامیاب کرنا ہے ۔لیکن دیکھتے ہیں مفتی اسمٰعیل قاسمی سیکولر امیدوار کے حق میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے