اب تک نیوز انڈیا کی افس کا افتتاح، رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی , مولانا عمرین محفوظ رحمانی, علامہ جلال الدین قاسمی, بنڈو کاکا اور لیاقت شیدا سر کا صحافت پر مغر خطاب!!
مالیگاؤں:(پریس ریلیز )کل شب 8 بجے یہاں کی شہید عبدالحمید روڈ جنتا بینک کے سامنے اب تک نیوز انڈیا کے صدر دفتر کا عظیم الشان افتتاح اس نیوز چینل کے ڈائریکٹر جابر شاہ کی والدہ محترمہ شمس النساء کے دست مبارک سے عمل میں آیا. اس موقع خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا عمیرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ صحافت اپنے ابتدائی ایام سے ہی الہلال و البلاغ اور زمیندار و کامریڈ جیسے انقلابی اخبارات کی بےباکی پر مستحکم رہی ہے. یہ ایک دو برس کی بات نہیں بلکہ صدیوں پرانی وہ داستان پارینہ ہے جس نے مملکت برطانیہ جیسے اس ملک کا سورج غروب کردیا تھا جو اس بات کا دعوے دار تھی کہ اس کی مملکت میں کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا. یہ وہ حقیقت ہے جسے ْْجسے آج کے دور پر فتن میں گودی میڈیا لاکھ منظر سے پس منظر میں دفن کرنے کی کوششیں کرلیں لیکن جس طرح حقیقت کبھی بھی چھپائی نہیں جا سکتی بالکل اسی طرح آج بھی تاریخ کے ابواب میں امت مسلمہ کی ایماندارانہ دیانت دارانہ اور ولولہ انگیز صحافت کے جا بجا نمونے جلی حرفوں میں رقم ہیں. دیش کی عظمت و حرمت پر سب کچھ قربان کر دینے جیسا عزم و ارادہ لئے اگر جابر شاہ پا برہنہ نکل کھڑے ہوئے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے قلم میں روشنائی کی بجائے خون دل اس طرح رواں کریں کہ ان کا قلم سیاست داں کے پاجامے میں ناڑا ڈالنے کی بجائے سماج و معاشرہ کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنے تو یہی ایماندارانہ صحافت کی ایمانداری ترسیل کہلائے گی. بالکل اسی طرح شہر اے ایس پی انیکیت بھارتی نے کہا کہ قانون و صحافت دونوں ہی سکے کے ایک رخ ہیں. قانون صحافی حضرات کو پیش آئے خدشات وخطرات سے آگاہ کرتا ہے کہ شر پسند عناصر امن و عامہ کی برقراری میں حائل ہونا چاہتے ہیں اس لئے وہ عوام و خواص سے امن عامہ کی برقراری کی گزارشات کو عام کردیں تاکہ مسجدوں میناروں کا شہر مالیگاؤں جو ابتدائی ایام سے ہی قومی ایکتا کی مالا میں پرویا ہوا ہے وہ مالا ٹوٹنے نہ پائے. اسی طرح مقامی رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے بھی جابر شاہ کی صحافتی کاوشات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایمادارانہ صحافت لایعنی مفروجات کی بجائے حقیقت حال کی عکاس ہونا چاہئے نہ کہ کسی مخصوص شخص کے اشاروں کی محتاج رہے. نابغہ روزگار شخصیت علامہ جلال الدین قاسمی نے صحیفہ مقدس قران کریم اور احادیث کے حوالوں سے صحافتی ذمہ داریوں کو بروئے کار لانے کا اعادہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے یہ کہا کہ آج جب ہماری صحافت پر گودی میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے تو ہمیں جابر شاہ جیسے مسلم تشخص رکھنے والے بےباک نمائندہ صحافی کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی. اب تک نیوز کے ڈائریکٹر جابر شاہ کے اغراض و مقاصد عمیق نگاہی سے سماعت کرنے کے بعد بے ساختہ زبان سے یہ کلمات ادا ہو گئے کہ "زمانہ کیسی کیسی زندہ آوازوں سے روشن ہے".
شیدا فاؤنڈیشن کے سکریٹری لیاقت شیدا سر نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ شعبہ نشر و اشاعت وہ فرائض منصبی ہے کہ جس کی ایماندارانہ و منصفانہ ترسیل ہو جائے تو ظلم و ستم پر مبنی حکومتوں کے تخت و تاج ٹھوکروں میں اڑا کر رکھ دے. مفلوک الحال بے بضاطوں اور بے کسوں کی امداد و اعانت یا داد رسی پر ہو جائے انھیں وقت کا سلطان بنا کر رکھ دے. اگرچہ آج شعبہ نشر و اشاعت جیسا متحرم و معتبر پیشہ چند کڑکڑاتے ہوئے نوٹوں یا کھنکتے سکوں کی جھنکار پر بے محابا رقص کناں ہو جایا کرتا ہے لیکن شعبہ نشر و اشاعت کے اس بحر بیکراں میں جو بھی ایمانداری و تندہی سے غواصی کے فن سے آشنا ہو اور تہہ آب سے ایماندارانہ و نمائندہ خبروں کےایسے در نایاب سمیٹ لائے کہ جس کی چکا چوند سے سامعین و قارئین بے ساختہ داد و تحسین کے کلمات کی ادائیگی پر مجبور ہو جائیں. ایسے ہی مقاصد کے تحت شہر کے نمائندہ صحافی جابر شاہ نے جدید زمانے کے جدید لوازمات پر مبنی نشریات کو قارئین تک پہنچانے کے لئے اپنے ایک صدر دفتر "اب تک نیوز انڈیا "کی افتتاحی تقریب کیا افتتاح کیا گیا ہے.بنڈو کاکا بچھاؤ نے جابر شاہ سے مراسم اور اپنے ابتدائی ایام کی جہد مسلسل کا تذکرہ یوں پیش کیا کہ سنے والی ساری سماعتیں سسکنے پر ہو گئیں. وسیع و عریض شامیانہ اور مہمانوں کا خیر مقدم مسلسل کئی گھنٹوں تک انتہائی آن بان اور شان کے ہمراہ جاری رہا. مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے نمائندہ افراد اگر افتتاحی تقریب میں شامل رہے تھے تو برادران وطن کی کثیر تعداد اور شہر کے معتبر و معزز علمائے کرام کی شرکت نے اب تک نیوز انڈیا کے صدر دفتر کی افتتاحی تقریب کا حسن دوبالا کردیا تھا. یکے بعد دیگرے تمام ہی معزز مہمانوں نے جابر شاہ کی کاوشات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے عزم و حوصلے اور ہمتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زندہ و جاوید صحافت اپنے ذرین اصولوں پر اسی وقت گامزن رہ سکتی ہے جب صحافی حضرات اپنے قلم کو اپنے ہی لہو میں ڈبو کر حقیقی خبروں کو اولیت دینے کے لئے کڑے کوسوں کی مسافت طے کرتے ہوئے خبروں کے سارے نشیب و فراز کو یوں عیاں کرتا ہے کہ حقیقی صورتحال پس منظر سے نکل کر تمام منظروں پر صاف عیاں ہو جاتی ہے. جابر شاہ کی کاوشات کا یہ سرمایہ آج یوں مستحکم ہوا ہے کہ گودی میڈیا بھی اس کے مقابل آنے سے کترا جائے گی.
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com